سیرت طیبہ محبوب کبریا ﷺ

by Other Authors

Page 19 of 99

سیرت طیبہ محبوب کبریا ﷺ — Page 19

دکھوں اور مصیبتوں اور تکلیفوں کا۔اور دوسرا حصہ فتحیابی کا۔تا مصیبتوں کے وقت میں وہ خلق ظاہر ہوں جو مصیبتوں کے وقت ظاہر ہوا کرتے ہیں اور فتح اور اقتدار کے وقت میں وہ خلق ثابت ہوں جو بغیر اقتدار کے ثابت نہیں ہوتے سو ایسا ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں قسم کے اخلاق دونوں زمانوں اور دونوں حالتوں کے وارد ہونے سے کمال وضاحت سے ثابت ہو گئے۔چنانچہ وہ مصیبتوں کا زمانہ جو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر تیرہ برس تک مکہ معظمہ میں شامل حال رہا اُس زمانہ کی سوانح پڑھنے سے نہایت واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ اخلاق جو مصیبتوں کے وقت کامل راستباز کو دکھلانے چاہئیں یعنی خدا پر توکل رکھنا اور جزع فزع سے کنارہ کرنا اور اپنے کام میں سست نہ ہونا اور کسی کے رُعب سے نہ ڈرنا۔ایسے طور پر دکھلا دیئے جو کفار ایسی استقامت کو دیکھ کر ایمان لائے اور شہادت دی کہ جب تک کسی کا پورا بھروسہ خدا پر نہ ہوتو اس استقامت اور اس طور سے دکھوں کی برداشت نہیں کرسکتا۔اور پھر جب دوسرا زمانہ آیا یعنی فتح اور اقتدار اور ثروت کا زمانہ تو اس زمانہ میں بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اعلیٰ اخلاق، عفو اور سخاوت اور شجاعت کے ایسے کمال کے ساتھ صادر ہوئے جو ایک گروہ کثیر کفار کا انہیں اخلاق کو دیکھ کر ایمان لایا۔دکھ دینے والوں کو بخشا اور شہر سے نکالنے والوں کو امن دیا۔اُن کے محتاجوں کو مال سے مالا مال کر دیا اور قابو پا کر اپنے بڑے بڑے دشمنوں کو بخش دیا چنانچہ بہت سے لوگوں نے آپ کے اخلاق دیکھ کر گواہی دی کہ جب تک کوئی خدا کی طرف سے اور حقیقۂ راستباز نہ ہو یہ اخلاق ہرگز دکھا نہیں سکتا یہی وجہ ہے کہ آپ کے دشمنوں کے پرانے کیسے یکلخت دور ہو گئے آپ کا بڑا بھاری خلق جس کو آپ نے ثابت کر کے دکھلا دیا وہ خلق تھا جو قرآن شریف میں ذکر فرمایا گیا ہے اور وہ یہ ہے: قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ (انعام: ۱۶۳) یعنی ان کو کہہ دے کہ میری عبادت اور میری قربانی اور میرا مرنا اور میرا جینا خدا کی راہ میں ہے یعنی اُس کا جلال ظاہر کرنے کے لئے اور نیز اُس کے بندوں کے آرام دینے کے لئے ہے تا میرے مرنے سے اُن کو زندگی حاصل ہو۔اسلامی اُصول کی فلاسفی صفحہ ۱۹۰ - ۱۹۲) 19