سیرت طیبہ محبوب کبریا ﷺ

by Other Authors

Page 15 of 99

سیرت طیبہ محبوب کبریا ﷺ — Page 15

سے تصدیق فرمائی۔چنانچہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب فرماتے ہیں: روایت آتی ہے کہ عبداللہ بن عمر و بن العاص آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبان مبارک سے جو بھی سنتے تھے وہ لکھ لیا کرتے تھے اس پر بعض لوگوں نے انہیں منع کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کبھی خوش ہوتے ہیں کبھی غصہ میں ہوتے ہیں تم سب کچھ لکھتے جاتے ہو یہ ٹھیک نہیں ہے۔عبداللہ بن عمرو نے اس پر لکھنا چھوڑ دیا لیکن جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تک یہ خبر پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: أَكْتُبْ فَوَالَّذِي نَفْسِىٰ يَدَهُ مَا يُخْرِجُ مِنْهُ إِلَّا الْحَقَّ نکلتا ہے۔(ابوداؤ د کتاب العلم باب کتابة العلم ) یعنی تم بے شک لکھا کرو کیونکہ خدا کی قسم میری زبان سے جو کچھ نکلتا ہے۔حق اور راست ( سيرة خاتم النبيين مصنفہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب صفحہ ۲۰) قبائل قریش میں جب حجر اسود کو اس کی اصلی جگہ پر رکھنے کے متعلق اختلاف ہوا اور ہر شخص مرنے مارنے پر آمادہ ہو گیا تو اسی امن کے شہزادہ امین نوجوان کو خانہ کعبہ کی طرف آتے دیکھ کر لوگ بے ساختہ بولے۔هَذَا الْأَمِينُ رَضِيْنَا۔هَذَا مُحَمَّدٌ آمِينَ آمِينَ آپ کے ایک بدترین دشمن کی گواہی بھی سن لیجئے۔اہل مکہ کو خیال پیدا ہوا کہ حج کے موقعہ پر لوگ جمع ہوں گے تو شاید آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بعض لوگوں کو اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کریں۔کسی نے کہا کہ ہم کہہ دیں گے کہ یہ شاعر ہے کسی نے کہا مجنوں کہہ دیں گے کسی نے کہا جھوٹا کہہ دیں گے۔ان میں سے زبر دست مخالف نظر بن حارث نے کھڑے ہو کر جوش سے کہا کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تم میں جوان ہوا سب سے اچھے اخلاق کا مالک تھا وہ تم سب سے زیادہ راست باز تھا وہ تم سب سے زیادہ امین تھا مگر جب تم نے اس کی کنپٹیوں میں سفید بال دیکھے اور تمہارے پاس وہ تعلیم لے کر آیا جس کا تم انکار کر رہے ہو تو تم نے کہہ دیا کہ وہ جھوٹا ہے۔خدا کی قسم وہ ہرگز جھوٹا نہیں یہ گواہی تھی جو انظر ابن الحارث نے آنحضرت صلی اللہ علیہ 15