سیرت طیبہ محبوب کبریا ﷺ

by Other Authors

Page 12 of 99

سیرت طیبہ محبوب کبریا ﷺ — Page 12

کے تمام ادوار سے گزرے اور جب تک کوئی انسان ان تمام دوروں سے نہ گزرے جن میں وہ کبھی تو محکوم ہو اور کبھی حاکم اور حاکم بھی حاکم اعلیٰ۔یونہی تمام عرب کا بادشاہ اور اس کی زندگی میں ایسے نشیب وفراز آئے ہوں جن کو سن کر انسانی روح وجد میں آجاتی ہے اور اس کے شاندار کار ہائے نمایاں کی تعریف و توصیف میں سب دوست دشمن رطب اللسان ہوتے ہیں۔چنانچہ اس بات میں حضرت امام مہدی علیہ السلام فرماتے ہیں: ”میرا مذ ہب یہ ہے کہ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو الگ کیا جاتا اور کل نبی جو اسوقت تک گزر چکے تھے۔سب کے سب اکٹھے ہو کر وہ کام اور وہ اصلاح کرنا چاہتے۔جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کی ہر گز نہ کر سکتے۔ان میں وہ دل اور وہ قوت نہ تھی جو ہمارے نبی گوملی تھی۔اگر کوئی کہے کہ یہ نبیوں کی معاذ اللہ سوء ادبی ہے تو وہ نادان مجھ پر افترا کرے گا۔میں نبیوں کی عزت اور حرمت کرنا اپنے ایمان کا جزو سمجھتا ہوں لیکن نبی کریم کی فضیلت کل انبیاء پر میرے ایمان کا جز و اعظم ہے اور میرے رگ وریشہ میں ملی ہوئی بات ہے۔یہ میرے اختیار میں نہیں کہ اس کو نکال دوں۔بدنصیب اور آنکھ نہ رکھنے والا مخالف جو چاہے سو کہے۔ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ کام کیا ہے جو نہ الگ الگ اور نہ مل مل کر کسی سے ہوسکتا تھا۔اور یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے ذَالِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے واقعات پیش آمدہ کی اگر معرفت ہو اور اس بات پر پوری اطلاع ملے کہ اس وقت دنیا کی کیا حالت تھی اور آپ نے آکر کیا کیا ؟ تو انسان وجد میں آکر اللهُمَّ صَلَّ عَلَی مُحَمَّدِ کہ اُٹھتا ہے۔میں سچ سچ کہتا ہوں یہ خیالی اور فرضی بات نہیں ہے قرآن شریف اور دنیا کی تاریخ اس امر کی پوری شہادت دیتی ہے کہ نبی کریم نے کیا کیا اور نہ وہ کیا بات تھی جو آپ کے لیے مخصوصا فرمایا گیا: إِنَّ اللهَ وَمَلَئِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِي يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا۔(سورۃ الاحزاب : ۵۷) کسی دوسرے نبی کے لئے یہ صدا نہیں آئی۔پوری کامیابی پوری تعریف کے ساتھ یہی 12