سیرت طیبہ محبوب کبریا ﷺ — Page 9
پانچویں خصوصیت آپ کی یہ ہے کہ جہاں گزشتہ نبی صرف خاص خاص قوموں کی طرف اور خاص خاص زمانوں کے لئے آئے تھے وہاں آپ ساری قوموں اور سارے زمانوں کے واسطے مبعوث کئے گئے ہیں۔یہ ایک بڑی خصوصیت اور بہت بڑا امتیاز ہے جس کے نتیجہ میں آپ کا خدا دادمشن، ہر قوم اور ہر ملک اور ہر زمانے کے لئے وسیع ہو گیا اور آپ خدا کے کامل اور مکمل مظہر قرار دیئے گئے ہیں یعنی جس طرح ساری دنیا کا خدا ایک ہے اسی طرح آپ کی بعثت سے ساری دنیا کا نبی بھی ایک ہو گیا۔اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ بَارِكَ وَسَلِّمْ۔(چالیس جواہر پارے،صفحہ ۲۱) جب یہ ثابت ہو گیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ساری دنیا کی اصلاح کے لئے مبعوث ہوئے تھے تو ہمیں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ گزشتہ انبیائے کرام کے مقابلہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کارنامے کیسی بلندشان کے ہیں اور کتنی عظمت رکھتے ہیں جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عالی منصب اور بلند مقام کو آسمان کی رفعتوں تک پہنچادیتے ہیں۔اس بارہ میں بھی سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود کی روح پرور تقریر ملاحظہ فرمائیں۔حضور علیہ السلام فرماتے ہیں: رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وقت کفار عرب بھی فرعونیت سے بھرے ہوئے تھے وہ بھی فرعون کی طرح باز نہ آئے۔جب تک انہوں نے جلالی نشان نہ دیکھ لیا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کام موسیٰ کے کاموں کے سے تھے اس موسی کے کام قابل پذیرائی نہ تھے لیکن قرآن شریف نے منوایا۔حضرت موسی کے زمانہ میں گو فرعون کے ہاتھ سے بنی اسرائیل کو نجات ملی لیکن گناہوں سے نجات نہ ملی۔وہ لڑے اور کج دل ہوئے اور موسیٰ پر حملہ آور ہوئے لیکن ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوری پوری نجات قوم کو دی۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اگر طاقت، شوکت ،سلطنت اسلام کو نہ دیتے ، تو مسلمان مظلوم رہتے اور کفار کے ہاتھ سے نجات نہ پاتے۔اللہ تعالیٰ نے ایک تو یہ نجات دی کہ مستقل اسلامی سلطنت قائم ہوگئی۔دوسرے یہ کہ گنا ہوں سے ان کو کامل نجات ملی۔خدا تعالیٰ نے ہر دو نقشے کھینچے ہیں کہ عرب پہلے کیا تھے اور پھر کیا ہو گئے۔اگر ہر دو نقشے اکٹھے کئے جائیں تو ان کی پہلی حالت کا اندازہ لگ جائے گا سو اللہ تعالیٰ نے ان کو دونوں 9