فرائض سیکریٹریان

by Other Authors

Page 7 of 67

فرائض سیکریٹریان — Page 7

فرائض سیکر یٹریان قرآن كريم 7 پس اللہ کی خاص رحمت کی وجہ سے تو ان کے لئے نرم ہو گیا۔اور اگر تو تند خو (اور ) سخت دل ہوتا تو وہ ضرور تیرے گرد سے دور بھاگ جاتے۔پس ان سے درگزر کر اور ان کے لئے بخشش کی دعا کر اور (ہر ) اہم معاملہ میں ان سے مشورہ کر۔پس جب تو (کوئی) فیصلہ کر لے تو پھر اللہ ہی پر توکل کرے۔یقینا اللہ تو کل کرنے والوں سے محبت رکھتا ہے۔(ال عمران : ۱۶۰) یقینا اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ تم امانتیں ان کے حقداروں کے سپرد کیا کرو اور جب تم لوگوں کے درمیان حکومت کرو تو انصاف کے ساتھ حکومت کرو۔یقینا بہت ہی عمدہ ہے جو اللہ تمہیں نصیحت کرتا ہے۔یقینا اللہ بہت سننے والا ( اور ) گہری نظر رکھنے والا ہے۔(النساء ۵۹) یہاں امانت سے مراد انتخاب کا حق ہے جس کے نتیجہ میں حکومت کا اختیار ملتا ہے۔پس ووٹ بھی ایک امانت ہے جو اسی کو دینا چاہئے جو اس کا اہل ہو۔یہی کچی جمہوریت ہے۔اور جب حکومت ملے تو پھر لازما انصاف سے کام لیتا ہے نہ کہ پارٹی بازی کا خیال کرنا ہے۔آج کل کی جھوٹی جمہوریتوں میں اپنے پارٹی ممبروں کے ساتھ تو انصاف کیا جاتا ہے لیکن مخالف پارٹی سے انصاف نہیں کیا جاتا۔) اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور اپنے حکام کی بھی۔اور تم کسی معاملہ میں ( اولوالامر سے ) اختلاف کرو تو ایسے معاملے اللہ اور رسول کی طرف لوٹا دیا کرو اگر (فی الحقیقت) تم اللہ پر اور یوم آخر پر ایمان لانے والے ہو۔یہ بہتر (النساء۔۶۰) ( طریق) ہے اور انجام کے لحاظ سے بہت اچھا ہے۔یا اور نیکی اور تقویٰ میں ایک دوسرے سے تعاون کرو اور گناہ اور زیادتی (کے کاموں) میں تعاون نہ کرو۔اور اللہ سے ڈرو۔یقینا اللہ سزادینے میں بہت سخت ہے۔(المائدۃ:۳)