مسلمانوں کے سائنسی کارنامے — Page 95
177 176 طا حسین (1973-1889ء) مصر کے بلند پایہ انشا پرداز ، ناول نگار اور مؤرخ تھے۔ان کی خود نوشت سوانح عمری کا نام الایام ہے۔مستقبل الثاقفة فی مصر میں انہوں نے مصری تہذیب ، عرب شناخت، اور عربی زبان کے مستقبل پر اظہار خیال کیا ہے۔موجودہ صدی میں ایران کے عالم ڈاکٹر سید حسین نصر ( پیدائش 1933 ء) نے بہت ساری مستند کتابیں اسلامی سائنس کی تاریخ پر لکھ کر غیر معمولی شہرت حاصل کی ہے۔وہ 1979ء تک تہران میں پروفیسر تھے جہاں انہوں نے ایرانین اکیڈمی آف فلاسفی کی بنیاد رکھی۔1984ء تا حال وہ جارج واشنگٹن یونیورسٹی، امریکہ میں پروفیسر ہیں۔ان کی بیس سے زیادہ کتا بیں شائع ہو چکی ہیں جن میں سے کئی کتابوں کے ترجمے جرمن ،ترکی، اسپینین اور اردو میں ہو چکے ہیں۔ان کی چند معروف کتابوں کے نام ہیں: Introduction to Islamic Cosmological Doctrines, Science & Civilisation in Islam, Islamic Science: An Illustrated Study, Man & Nature, The Heart of Islam, Ideals & Realities of Islam۔چالیس سال کے تدریسی عرصے میں انہوں نے سیکڑوں نامور شاگرد پیدا کیے ہیں۔عربی زبان کا پہلا انسائیکلو پیڈیا عربی زبان میں جدید انسائیکلو پیڈیا لبنان کے رسالہ الجنتان کے ایڈیٹر بطروس بستانی نے 1876 ء میں شائع کیا۔اس کا نام دائرۃ المعارف تھا۔اس کی گیارہویں جلد 1900 ء میں قاہرہ سے شائع ہوئی تھی جس میں حروف ابجد کے لحاظ سے ع تک کی معلومات درج کی گئی تھیں۔واضح ہو کہ انگلینڈ، فرانس اور جرمنی میں ایسے انسائیکلو پیڈیا اٹھارہویں صدی میں منظر عام پر آنے شروع ہو گئے تھے۔ترکی زبان میں ایسا انسائیکلو پیڈیا یعنی قاموس عالم شمس الدین سمعی نے استنبول سے 1898ء میں شائع کیا تھا۔15 علم موسیقی مسلمان موسیقاروں نے مختلف قسم کے موسیقی کے آلات ایجاد کیے۔اسی طرح انہوں نے موسیقی کے علم پر بھی کتابیں لکھیں۔خلیفہ المامون کے دربار میں ابراہیم الموصلی، اسحق بن ابراہیم ، یکئی مکی اور موسیقی کے کئی دیگر ماہرین موجود رہتے تھے۔اسپین کا شہر اشبیلیہ موسیقی کے آلات بنانے کا مرکز تھا۔گیتار (guitar) جو فی الحقیقت عرب عود سے بنایا گیا تھا اس میں پانچواں تار مشہور سیاہ فام موسیقار زریاب نے لگایا تھا۔حنین ابن اسحق نے موسیقی پر ارسطو کی دو اور جالینوس کی جملہ کتابوں کے عربی میں تراجم کیے۔الحق الکندی بھی ایک مانا ہوا عود بجانے کا ماہر (lute peformer) تھا۔وہ پہلا مفکر تھا جس نے موسیقی کو سائنس کے زمرے میں شامل کیا۔اسی نے پہلی بار اپنی کتاب میں موسیقی کا لفظ استعمال کیا۔اس کا عقیدہ تھا کہ موسیقی مختلف سُروں کی ہم آہنگی کا نام ہے۔ہر سُر کا ایک درجہ ہوتا ہے۔اس نے تعداد ارتعاش معلوم کرنے کا طریقہ ایجاد کیا۔اس نے خود بھی کئی سر ایجاد کیے اور ان کی درجہ بندی کی۔اس نے موسیقی سے کئی مریضوں کا علاج کیا۔الکندی اور الفارابی کی کتابوں کے ساتھ ساتھ ابن سینا اور ابن رشد کی موسیقی کی کتابوں کے ترجمے یورپ میں کیے گئے۔یہ کتابیں یورپ میں موسیقی کے نصاب تعلیم میں شامل تھیں [51]۔زکریا یوسف کی کتاب مؤلفات الکندی الموسیقیہ ( مجمع اعلمی العراقی ، بغداد 1962 ء ) موسیقی پر قابل ذکر کتاب ہے۔