مسلمانوں کے سائنسی کارنامے

by Other Authors

Page 92 of 128

مسلمانوں کے سائنسی کارنامے — Page 92

171 170 نے سات سال تک شام فلسطین، مصر، عرب اور ایران کے سفر کیے اور جو کچھ دیکھا سناوہ سفر نامہ کی صورت میں قلم بند کیا۔چارلس شیفر (Shefer) نے اس کا فرانسیسی ترجمہ کیا جو پیرس سے 1881ء میں شائع ہوا۔نظام الملک (1092ء) نے سلجوق حکمراں ملک شاہ کے لئے نظام حکومت پر مبسوط سیاست نامہ فارسی زبان میں لکھا۔اس کتاب میں حکومت کے کام کے طریقوں اور نظم ونسق پر اظہار خیال کیا گیا ہے۔ابن الجوزی (1200ء) نے تاریخ کے موضوع پر مرآة الزمان لکھی۔عزالدین ابن الاثیر (1160-1233ء) نے تاریخ عالم پر تاریخ الکامل لکھی جو 1231ء تک کے مکمل حالات پر مشتمل ہے ( وفیات الاعیان، جلد دوم صفحہ 288)۔یہ یخنیم کتاب چودہ جلدوں میں لیڈن سے 1876-1851ء میں شائع ہوئی تھی۔انگریزی میں اس کا ترجمہ ڈی ایس رچرڈس (D۔S۔Richards) کے ذریعے 2002 ء میں دی اینلس آف سلجوق ٹرکس (The Annals of Saljuk Turks) کے نام سے شائع ہوا تھا۔چھ جلدوں پر مشتمل اس کی دوسری کتاب اخبار الصحابہ میں 7500 صحابہ کرام رضوان اللہ کے حالات زندگی پیش کیے گئے ہیں۔جمال الدین ابن القفطی ( مصر 1248ء) نے تاریخ قاہرہ پر لکھنے کے علاوہ فلسفیوں اور طبیبوں کے حالات پر کتاب اخبار العلماء بأخبار الحکماء لکھی جو لیپزگ سے 1903ء میں شائع ہوئی تھی۔یہ 26 کتابوں کا مصنف تھا۔ابن ابی اصیبعہ (1270ء) نے عیون الانباء فی طبقات الاطباء لکھی جو تاریخ الاطبا پر ایک مستند اور معتبر کتاب سمجھی جاتی ہے۔یہ یورپ میں 1884ء میں شائع ہوئی تھی۔اس کا اردو ترجمہ بھی ہو چکا ہے۔ابن خلکان (1282-1211ء) نے ایک بایوگرافیکل ڈکشنری (biographical dictionary) وفیات الاعیان کے نام سے لکھی جس کا انگریزی ترجمہ چار جلدوں میں 1842ء میں شائع ہوا۔یہ کوئیز یونیورسٹی کی لائبریری میں موجود ہے۔اندلس کے تاریخ داں اندلس میں بھی کئی ممتاز تاریخ داں پیدا ہوئے جنہوں نے وسیع المعلومات کتابیں سپر و قلم کیں: ابن حیان (کتاب المقتبس اور تاریخ الاندلس )، ابن عبد ربہ (عقد الفريد )، ابن القطبيبه ( تاریخ الاندلس)، الفرازی ( تاریخ علماء اندلس)، احمد ابن رازی ( 937ء)، ابن صاعد (طبقات الامم ) عبد الرحمن ابن خلدون ( مقدمہ )۔ابوبکر احمد رازی (937ء) کو اسپین کے لوگ E۔I۔Cronista por excelecia کہتے تھے۔تاریخ اندلس پر اس کی عربی کتاب تو دستیاب نہیں البتہ اس کے پرتگالی اور کا سٹیلین تراجم موجود ہیں۔ابو عبد اللہ اندلسی نے ڈکشنری آف سائنس لکھی۔عریب ابن صاعد القرطبی (976ء) خلیفہ عبد الرحمن الثالث کے دربار کا معزز رکن تھا۔کچھ عرصہ خلیفہ الحکم الثانی کے دربار میں بھی اعلیٰ عہدے پر فائز رہا۔وہ ایک معروف تاریخ داں اور حاذق طبیب تھا۔اس نے اندلس اور افریقہ کے سیاسی حالات پر ایک کتاب تصنیف کی۔طب پر کتاب خلق الجنین نیز کیلنڈر پر ایک رسالہ کتاب الانواع بھی اس کی یادگار ہیں۔این جلجل (994-944 ء ) اندلس کا مشہور طبی مورخ تھا۔14 سال کی عمر میں اس نے طلب کی کتابوں کا مطالعہ شروع کیا اور جب زندگی کے 24 ویں زینے پر قدم رکھا تو طبابت کے پیشے سے منسلک ہوا۔وہ خلیفہ ہشام نانی کا ذاتی معالج تھا۔اس کا علمی شاہر کار تاریخ الاطباء والحكماء عربی زبان میں طب کی مبسوط تاریخ ہے۔اس میں 57 سوانح عمریاں پیش کی گئی ہیں جن میں 31 مشرقی طبیبوں اور بقیہ افریقی و اندلسی اطبا اور حکماء کی زندگی کے حالات ہیں۔اس کی دو اور کتابیں «تفسیر اسماء الا دویہ اور مقالہ فی ذکر الا دویہ طلب پر ہیں۔علاوہ ازیں اس نے ایک اور دلچسپ کتاب لکھی جس میں اطبا کی غلطیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ایک مقالہ ایسی جڑی بوٹیوں پر لکھا ہے جو یونانی عالم دیس قوریدوس (Dioscorides) کی کتاب الحشائش میں نہ تھیں مگر اسپین