مسلمانوں کے سائنسی کارنامے

by Other Authors

Page 91 of 128

مسلمانوں کے سائنسی کارنامے — Page 91

169 168 کی تفسیر بھی لکھی ہے۔ابوالفرج اصفہانی (967-897ء) نے عرب شاعری پر کتاب الاغانی ہیں جلدوں میں تصنیف کی جو ہارون رشید کی مدح میں لکھی گئیں ایک سوگراں قدر نظموں کو بنیاد بنا کر ترتیب دی گئی تھی۔اس نے ہر شاعر کی سوانح عمری پیش کی اور اس کی نظم پر تبصرہ کیا۔اس نے پرانے عرب مصنفین کی ایسی کتابوں سے لمبے لمبے اقتباسات نقل کیے جو وقت گزرنے کے ساتھ بھلا دی گئی تھیں، اس سے کتاب الاغانی کی اہمیت مزید بڑھ گئی۔ابنِ خلدون نے مشہور زمانہ تصنیف مقدمہ میں الا غانی کو عربوں کا رجسٹر ( Register of Arabs) لکھا ہے۔کتاب میں دور جاہلیت سے لے کر نویں صدی تک عرب تہذیب کی تاریخ درج ہے۔لیڈن سے یہ کتاب 1888ء میں شائع ہوئی تھی۔ابن القطبیہ الدینوری (889-829ء) نے آداب تصانیف پر کاتبوں کے لیے آداب الکاتب لکھی۔اس کی اہم ترین کتاب عیون الاخبار ( منتخب تاریخ) تھی۔اس کی دو اور کتابیں کتاب المعارف (Book of General Knowledge) اور کتاب الشعر والشعراء بھی قابل ذکر ہیں۔علی بن حسین المسعودی (957-888ء) نے آرمینیا، ہندوستان ،سیلون، زنجبار، مڈغاسکر اور چین کے سفر کیے۔زندگی کے آخری ایام اس نے شام اور مصر میں گزارے۔اس کا علمی شاہکار مروج الذهب والمدائن تھیں جلدوں میں ہے یہ تاریخ عالم (world history) کی مستند کتاب ہے جو 947ء پر ختم ہوتی ہے۔اس کی دیگر کتابوں کے نام اخبار الزمان ، کتاب الاوسط اور کتاب التنبیہ والاشراف ہیں۔ابن خلدون نے اس کو امام المؤرخین کا لقب دیا ہے۔اندلس کے ابومروان (1075ء) نے تاریخ اندلس موسوم المتین ساٹھ جلدوں میں ترتیب دی۔بزرگ ابن شہریار (دسویں صدی ) ایرانی بحری جہاز کا کیپٹن تھا۔اس نے سفر کے دوران سبق آموز قصے کہانیوں کو لوگوں سے سن کر قلم بند کیا۔اس کتاب کا نام عجائب الہند ہے جس کا انگریزی ترجمہ اے بک آف مارویس آف انڈیا (A Book of Marvels of India) کے نام سے 1928ء میں روٹیج ، انگلینڈ (Routledge, UK) سے شائع ہو چکا ہے۔نورالدین المقدسی (1004ء) نے بیس سال کے اسفار کے بعد احسن التقاسیم فی معرفت الاقالیم 985ء میں قلم بند کی۔جن خطوں کا اس نے دورہ کیا ان خطوں کے رنگین نقشے بھی ساتھ میں دیے ہیں۔وہ جہاں بھی گیا وہاں کے پانی کے بارے میں اس نے ضرور لکھا ہے۔مصر میں نیلو میٹر دیکھ کر اسے بھی کتاب میں بیان کیا ہے۔ایک اور شہر میں اس نے واٹر کلاک دیکھی جس سے پانی تقسیم کیا جارہا تھا۔دمشق کے حالات میں اس نے وہاں کی جامع مسجد کا ذکر کر کے اس کے چار دروازوں باب البريد، باب الساعۃ ، باب الفرادس اور باب جیرون کا ذکر کیا۔کتاب کے کچھ حصوں کا انگریزی ترجمہ بی اے کولنس (B۔A Collins) کے ذریعے مشین ، امریکہ ( Michigan, USA) سے 1974ء میں "المقدسی : دی مین اینڈ ہر ورک ( Al-Muqaddasi - The Man and His work) کے نام سے شائع ہو چکا ہے۔این ندیم نے الفہر ست لکھی جس میں عربوں کی ادبی تاریخ کے موضوع پر دسویں صدی کے اختتام تک کے اندراجات ہیں۔الواقدی نے کتاب المغازی لکھی۔ابن ندیم نے واقدی کی مزید 28 کتابوں کا ذکر کیا ہے۔یتمی (1036ء) نے کتاب الہیمینی میں محمود غزنوی کے حالات قلم بند کیے۔جرجی الکین (عیسائی مؤرخ) کی کتاب مجموع المبارک کا ترجمہ لاطینی میں 1625ء میں شائع ہوا۔[48] ابوالحسن الماوردی (1058 ء ، بغداد) نے کتاب احکام السلطانیہ سیاست کے موضوع پر لکھی۔یہ بون، جرمنی (Bonn, Germany) سے 1853ء میں شائع ہوئی تھی۔علم اخلاق پر اس کی ایک کتاب آداب الدنیا والدین بھی ہے جو مصر اور ترکی کے اسکولوں میں پڑھائی جاتی تھی۔ابوبکر خطیب بغدادی (1071-1002ء) نے بغداد کے علما کے تذکرے کے طور پر تاریخ بغداد لکھی جو چودہ جلدوں میں ہے۔ناصر خسرو (1088ء)، جس کا لقب حجہ خراسان تھا،