مسلمانوں کے سائنسی کارنامے — Page 80
147 | 146 نے ایک اٹلس (atlas) تیار کیا جس میں 73 نقشے دیے گئے تھے۔رائن ہارٹ ڈوزی (Reinheat Dozy) نے اس کتاب کو 1886ء میں مدون کیا بعد میں اس کا فرانسیسی ترجمہ شائع ہوا۔اس کی دوسری قابل قدر تصنیف کا نام روضۃ الناس ونز بہت النفس ہے۔اسلامی اسپین کے عبدالحمید الغرناطی (1169ء) کو سفر کا بہت شوق تھا۔وہ ایک ماہر و مشاق جغرافیہ داں کی حیثیت سے بہت ممتاز تھا۔اس نے اسپین سے ہجرت کر کے مصر کو اپنا وطن بنایا اور عراق، ایران اور وسط ایشیا کے ممالک کا سفر کیا۔اس نے دو کتا میں تصنیف کیں۔عجائب المغرب اور تحفۃ الالباب۔پہلی کتاب اگر چہ ہیت پر ہے مگر اس میں اسپین کے بعض عجائبات اور نوادرات کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔غرناطہ کے رہنے والے ابن سعید مغربی (1274ء) نے شمالی یورپ کا سفر کیا ، وہاں سے آرمینیا اور تا تاری ممالک تک گیا جہاں وہ ہلا کو خاں کے دربار میں پہنچا اور اس کا مہمان خصوصی بنا۔اس نے کتاب الجغرافیہ فی الاقاليم (Extent of the Earth) کے نام سے ایک کتاب لکھی۔مصر کے عمادالدین ابوالفداء (1273 ء) نے ایک کتاب تقویم البلدان کے عنوان سے ترتیب دی جو یورپ میں مقبول عام تھی۔شمس الدین دمشقی (1327 ء) شام کے شہر ربوہ کی مسجد کے امام تھے۔انہوں نے 1325ء میں کتاب نخبتہ الدھر فی عجائب البر والبحر ترتیب دی۔انہوں نے مسعودی ، ابن حوقل اور یا قوت کی کتابوں سے استفادہ کیا۔انہوں نے مالا بار اور کار ومنڈل (جنوبی ہندوستان) کے ساحلی شہروں کے نام اور حالات اس قدر تفصیل سے دیے ہیں کہ انسان انگشت بدنداں رہ جاتا ہے۔پندر ہویں صدی میں عبد الرزاق سمر قندی نے ڈسکرپشن آف افریقہ (Description of Africa) کے نام سے کتاب لکھی۔زکریا القزوینی (1283 -1203ء ایران ) نے کائناتیات (cosmography) کے موضوع پر عجائب المخلوقات وغرائب الموجودات لکھی۔عجائب البلدان (1262ء) اور آثار البلاد و اخبار العباد (1275ء) جغرافیہ پر تھیں۔اس نے زمین کو سات اقالیم میں تقسیم کیا۔کتاب میں سوانح عمریوں کے علاوہ، فرانس اور جرمنی کے شہروں کے تعلق سے بھی معلومات پیش کی گئی ہیں۔حمد اللہ المستوفی نے ہلاکو خاں کے پڑ پوتے سلطان ابوسعید ایلخانی کے دور میں فارسی میں نزہت القلوب (1340ء)لکھی جس میں سارے اسلامی ملکوں کے جغرافیائی حالات درج کیے ہیں۔باکو ( آذربائیجان ) شہر میں گرم چشموں اور تیل کے کنوؤں کا بھی ذکر کیا ہے۔اس نے تاریخ کے موضوع پر بھی ایک کتاب تاریخ گزیدہ کے نام سے لکھی تھی۔ابوعبد الله محمد ابن بطوطه مراکشی (1369-1304ء ) اسلامی دنیا کا عظیم جغرافیہ داں اور نامور سیاح تھا۔وہ غیر معمولی دینی شغف رکھنے والا ، رقیق القلب اور حسن سلوک کرنے والا تھا۔علم دین کے ساتھ وہ تفقہ فی الدین کے زیور سے بھی آراستہ تھا۔اس نے بائیس سال کی عمر (1325ء) میں تنہا حج کے عزم سے مراکش سے مکہ کا سفر کیا۔اس کے بعد اس نے اپنی زندگی سیر و سیاحت میں وقف کر دی۔اس نے الجیریا، تیونس، عراق، مصر، شام، مشرقی افریقہ، افغانستان، ہندوستان، چین اور روس کے سفر کیے۔ہندوستان میں اس وقت سلطان محمد تغلق کی حکومت تھی۔دہلی میں دس سال تک قاضی القضاۃ کے عہدے پر رہنے کے بعد سلطان نے اس کو اپنا سفیر بنا کر چین بھیجا۔اس نے بحیرہ احمر، بحر عرب اور چین کے بحری سفر بھی کیے۔اس نے زندگی میں 75,000 ہزار میل کا سفر کیا جو ایک ریکارڈ تھا۔اس نے تمہیں سال (1354-1325 ء ) سفر میں گزارے اور فیض (مراکش) مراجعت پر این جزی الکلمی (وفات 1356ء) کوسفر نامه املا کروایا جس نے اس کے سفر نامے کی کتابت تین ماہ دسمبر 1355ء) میں مکمل کی۔اس کا انگریزی ترجمہ ٹریولز آف ابن بطوطه (Travels of Ibn Batuta لندن سے شائع ہو چکا ہے۔انٹرنیٹ Google۔com پر بھی اس دلچسپ سفر نامے کے طویل اقتباسات پڑھے جا سکتے