مسلمانوں کے سائنسی کارنامے

by Other Authors

Page 79 of 128

مسلمانوں کے سائنسی کارنامے — Page 79

145 144 چھ جلدوں میں لیپزگ سے 1886ء میں وسٹن فلڈ نے شائع کی۔اس کتاب کو جغرافیائی معلومات کا خزانہ کہا جاتا ہے۔شہروں کے نام اور حالات حروف تہجی کے مطابق دیے گئے ہیں۔اسپین سے لے کر ہندوستان تک اسلامی ممالک کے حالات اس میں بڑی تفصیل سے درج ہیں۔اس کی تلخیص صفی الدین ( 1300ء) نے مراصد الاطلاع کے نام سے قلم بند کی۔یاقوت نے شہروں کی معجم مشترک کے نام سے لکھی۔اس کی دوسری معرکۃ الآرا تصنیف منجم الادبا، در حقیقت مسلمان حکماء کی معجم (ڈکشنری) ہے۔دونوں کتابوں کو پروفیسر مارگولیتھ (Margoliath) نے 1935ء میں شائع کیا تھا۔بارہویں صدی میں جید عالم زمخشری نے ایران کے ایک علاقے سے متعلق کتاب الفارس لکھی۔غرناطہ (اندلس) کے رہنے والے ابو بکر الر ہری (1137ء) نے جغرافیہ کے موضوع پر کتاب الجغرافیہ لکھی۔ابوحمید الغرناطی (1169ء) بھی ایک مانا ہوا جغرافیہ داں تھا۔اس نے اس موضوع پر چار کتا ہیں قلم بند کیں : عجائب العجائب، عجائب المخلوقات، عجائب المغرب، تحفۃ الباب ونخبتہ العجائب - عبد الرحیم المازنی (1169ء) نے جو الا دریسی کا ہم عصر تھا، مصر، عراق، شام، ایران ، ترکی وغیرہ مختلف ممالک کے سفر کے بعد تحفتہ الالباب ونختۃ العجائب لکھی۔پھر شام ، افریقہ، اسپین ، بحر خزر (Caspian Sea) کے ساحل کے سفر کے بعد نعتہ الاذان فی عجائب البلدان لکھی۔اس کی دو اور اہم کتابیں المغرب ان بعد عجائب البلدان اور تحفہ الکبار فی اشعر البحر (سمندری سفر کے متعلق ) ہیں۔ابو الحسن محمد ابن احمد ابن جبیر (1217-1145ء) بھی اندلس کا ایک معروف اور ممتاز سیاح تھا اس نے تین بار مختلف ممالک کا سفر کیا۔سفر کے دوران اس نے روز نامچہ لکھا۔مراجعت پر اپنا سفر نامه رحله ابن جبیر کے نام سے مرتب کیا۔جس میں اس نے ساعۃ جامع دمشق ( گھڑیال) کا ذکر کیا ہے۔اس دلچسپ سفرنامے سے مختلف ملکوں ، لوگوں کے بارے میں معلومات کے علاوہ جہاز رانی (navigation) خبر رسانی (communication) کے بارے میں وافر معلومات ملتی ہیں۔انگریزی میں اس کا ترجمہ لندن سے 1952ء میں دی ٹریولیس آف ابن جبیر ( The Travels of Ibn Jubayr) شائع ہو چکا ہے۔فرانسیسی ترجمہ بھی تین جلدوں میں شائع ہوا تھا۔اس کے سفرنامے سے ابن الخطیب، المقریزی، المقاری ، ابن بطوطہ نے خوب استفادہ کیا۔سلی کے رہنے والے عالم بے بدل ابو عبد اللہ الا در یسی (1166ء) نے وہاں کے بادشاه را جر دوم (Roger II) کے نام سے موسوم کتاب الرجر (Book of Roger) لکھی اس کا دوسرا نام " نزہت المشتاق في اختراق الآفاق ہے۔یورپ میں یہ 1592ء میں منظر عام پر آئی اور پہلا لاطینی ترجمہ 1619ء میں روم سے شائع ہوا۔وہ ایک مسلمہ نقشہ ساز ( کارٹو گرافر ) تھا۔اس نے چاندی کا ایک گلوب اور دنیا کا گول نقشہ قرص ( disc) کی صورت میں تیار کیا جس میں یورپ، ایشیا، افریقہ، درمیان میں جزیرہ نما عرب اور بحیرہ روم صاف نظر آتے ہیں۔اس ادریسی کا بنایا ہوا دنیا کا نقشہ