مسلمانوں کے سائنسی کارنامے — Page 12
11 10 (ب) بغداد میں بیت الحکمۃ کی داغ بیل بغداد کی اصل اہمیت اقتصادی خوشحالی سے نہیں بلکہ علمی کارناموں کی وجہ سے تھی۔مامون رشید (833-813ء) کے دور خلافت میں اس کے حکم پر یونانی کتابوں کے عربی ترجمہ و تالیف کا کام بامِ عروج کو پہنچ گیا۔اس نے بغداد میں بیت الحکمۃ کے نام سے 830ء میں ایک اکیڈمی کی بنیاد رکھی جو ایران کی جندیشا پور کی میڈیکل اکیڈمی اور اسکندریہ کی اکیڈمی کو مات دے کر سائنس میں تحقیق کا اعلی مرکز (advance centre) بن گئی۔اس پر اس نے دو لاکھ دینار (950,000 ڈالر) خرچ کیے تھے۔اس اکیڈمی میں ایک لائبریری، ایک رصد گاہ ، سائنس دانوں کے قیام کے لیے مکانات ، سائنسی ساز و سامان اور ایک دارالترجمہ تھا۔عیسائی، یہودی، پارسی، ہندو، مسلمان یعنی ہر مذہب اور ہر قوم کے سائنس دانوں کو یہاں ریسرچ کرنے کی اجازت تھی۔اس کا پہلاڈائریکٹر ابن ماسویہ اور تیسرا ڈائر یکٹر حنین ابن اسحق (877-809ء) تھا۔ہر ہفتے اس کی علمی نشست منعقد ہوتی تھی۔بیت الحکمہ کے چار مترجمین کا ذکر یہاں ضروری معلوم ہوتا ہے : یعقوب الکندی، ثابت ابن قرة ، يوحنا ابنِ بطریق اور حنین این الحق۔یہاں دو ہندو ترجمہ نگار بھی تھے یعنی منکہ اور دوبان۔منکہ فارسی اور دوبان عربی جانتا تھا۔الکندی کا شمار بہترین مترجمین میں ہوتا ہے۔وہ کئی زبا نہیں جانتا تھا اس لئے اس نے یونانی کتب کے ترجمے کیے۔فلسفے کی مشکل کتابوں کی توضیح، تلخیص اور تفصیل لکھی۔ثابت ابن قرة نے امجسطی کا دوبارہ ترجمہ کیا نیز آرشمیدس کی تمام کتابوں، اپالو نیوس اور اقلیدس کی ریاضی اور جیومیٹری کی کتابوں کے یونانی سے تراجم کیسے اور بعض کی شرحیں لکھیں۔وہ بطلیموس کے نظام شمسی کا سب سے پہلار یفارم تھا۔یوحنا ابن بطریق طب سے زیادہ فلسفے کا ذوق رکھتا تھا ، اس لیے اس نے ارسطو کی کتب کے تراجم کیے نیز زہر اور اس کے اثرات پر کتاب السمومات و دفع مضار بالکھی۔حنین این الحق نے جالینوس کی طلب اور فلسفے کی کتابوں کا ترجمہ عربی میں کیا ، اس کے علاوہ اس نے ارسطو کی طبیعیات اور پرانے عہد نامہ کا یونانی سے ترجمہ کیا۔حنین کے ذہین وفطین شاگردوں نے یونانی حکماء افلاطون (Plato) ، بقراط (Hippocrates) اقلیدس (Euclid)، فیثا غورث ( Pythagorous)، بطلیموس (Ptolemy)، سقراط (Socrates)، ارسطو (Aristotle)، جالینوس (Galen) کی کتابوں کے عربی میں ترجمے کیسے اور خود بھی ریاضی ، کیلکولس (calculus) اور ہئیت میں خاطر خواہ اضافے کیے۔حسنین خود یونانی زبان سے واقف تھا اس لئے اس نے پرانی کتابوں اور مخطوطات کی بازیابی کے لیے استنبول تک کا سفر کیا۔حسنین نے جالینوس کی ہیں کتابیں یونانی سے سریانی میں اور نناوے عربی میں ترجمہ کیں، نیز سولہ تراجم پر نظر ثانی کی۔یوں وہ طبی کتابوں کا سب سے عظیم مترجم تھا۔اس نے امراض چشم پر خود ایک کتاب "عشر مقالات فی العین لکھی جو شاید دنیا میں اس موضوع پر پہلی کتاب تھی۔کہا جاتا ہے کہ ہر وہ کتاب جس کا اس نے ترجمہ کیا اس کے وزن کے برابر خلیفہ مامون رشید اس کو معاوضے میں سونا دیتا تھا۔حسنین کے ان تراجم کے چند پرانے مسودات استنبول کی اباصوفیالا سبریری میں ابھی تک محفوظ ہیں۔انسانیت حنین کا نام ہمیشہ عزت و تکریم سے لیتی رہے گی کیونکہ اگر اس نے ان یونانی کتب کے تراجم نہ کیے ہوتے تو ہم اس خزینے سے محروم رہ جاتے جبکہ اصل یونانی کتب کب سے ناپید ہو چکی ہیں۔تراجم کے کام کے لیے دو طریقے استعمال کیے گئے۔(1) ایک یہ کہ یونانی لفظ کو جوں کا توں عربی میں لکھا گیا جس سے ترجمہ لفظی ہو گیا۔لیکن مسئلہ یہ تھا کہ عربی میں اصطلاحی الفاظ نہیں تھے۔(2) دوسرا طریقہ جو نین کے دارالترجمہ میں اختیار کیا گیا وہ یہ تھا کہ پورے فقرے کو پڑھ کر اور اس کا مفہوم سمجھ کر اسے عربی میں منتقل کیا گیا۔واضح رہے کہ یونانی اس وقت ایک مردہ زبان تھی تاہم اس میں بہت ساری طبعی وفنی اصطلاحات تھیں جن کے مترادف الفاظ عربی میں نہیں