مسلمانوں کے سائنسی کارنامے — Page 119
225 224 سلطان ناصر شاہ (1511 - 1500 ء) کے دور حکومت میں ایک عالم محمد ابن داؤد نے عربی کتابوں کا فارسی زبان میں ترجمہ کیا جو اس دور میں ہندوستان کی سرکاری زبان تھی۔اس کتاب میں کئی مشینوں کے ڈائیگرام بھی شامل ہیں۔فرانسیسی سیاح مانسے راٹ (Monserrate) کا کہنا ہے کہ اس نے مغلیہ بادشاہ جلال الدین محمد اکبر کو خود مشینوں پر کام کرتے ہوئے نیز نئی مشینوں کے بنانے کی ہدایات دیتے ہوئے دیکھا تھا۔دہلی کا ایک ماہر ہیئت اور ممتاز سائنس داں حکیم فتح اللہ (1589ء) جو شیراز کا باشندہ تھا ہر نئے سال کے موقعے پر اپنی نت نئی سائنسی ایجادات کی نمائش کیا کرتا تھا۔اس نے کئی کتابیں بھی تالیف کیں جن میں اس نے میکانیکی ایجادات، ان کے سائنسی اصول ، ضرورت اور استعمال پر اظہار خیال کیا۔فتح پور سیکری اور تاج محل کے علاقوں میں پانی مشینوں کے ذریعے ایک سو گز اونچے ٹینکوں میں بھرا جاتا تھا جو بعد میں ملحقہ باغات میں استعمال ہوتا تھا۔سنسکرت میں ریاضی کے موضوع پر تمام ذخیرہ مسلمانوں نے عربی میں منتقل کیا تھا اور بعض صورتوں میں انہوں نے خود بہت قابل قدر اضافے کیسے مثلاً اقلیدس کی کتاب عناصر (Elements) ، جس کا عربی ترجمہ نصیر الدین الطوسی نے کیا تھا، کا فارسی میں ترجمہ قطب الدین شیرازی نے 1311ء میں کیا۔ان تراجم کو بنیاد بنا کر ہندوستان کے ریاضی داں عبدالحمید محرر غزنوی نے کتاب دستور الباب فی علم الحساب تحریر کی جس کے تالیف کرنے میں اس نے عرق ریزی سے چھبیس سال صرف کیے۔فیضی (1592-1547ء) جو ابولفضل کا بھائی اور شہنشاہ اکبر کا درباری عالم تھا، نے سنسکرت کی کتاب لیلاوتی مصنفہ بھاسکر آچاریہ (1160-1114ء ) کا1587ء میں فارسی ترجمہ کیا۔اس کتاب میں الجبرا اور جیومیٹری کے تھیورم بیان کیے گئے تھے۔یہ ترجمہ اس قدر مقبول ہوا کہ ریاضی داں عطاء اللہ رشدی نے 1634ء میں بھاسکر آچاریہ کی باقی کتابوں کے بھی تراجم کیے جو الجبرا اور علم مساحت ( ٹریگا نومیٹری ) کے موضوع پر تھیں۔نصیر الدین القوی اور مشہور ریاضی داں بہاء الدین العاملی ( 1621-1547ء) کی کتابیں ہندوستان میں اس قدر ہا تھوں ہاتھ لی گئیں کہ استاد احمد معمار لاہوری (متوفی 1649ء) اور ان کے بیٹوں عطاء اللہ رشدی، لطف اللہ اور نوراللہ نے بھی ریاضی پر ٹھوس علمی مقالے زیب قرطاس کیے۔واضح رہے کہ احمد معمار تاج محل اور لال قلعہ کا آر کی ٹیکٹ (architect ) تھا۔جامع مسجد دہلی اور تاج محل پر قرآنی آیات نقاش نور اللہ نے منقش کی تھیں۔استاد احمد کے سارے بیٹے اور پوتے قابل انجنیر اور ریاضی داں تھے۔وہ اپنے دور کی تمام یونانی، عربی اور سنسکرت میں موجود ریاضی کی کتابوں سے واقفیت رکھتے تھے۔جلال الدین محمد اکبر کے شاہی طبیب حکیم علی گیلانی نے 1593ء میں لاہور میں ایک عجیب و غریب حوض تعمیر کیا تھا اس کا طول و عرض 20 گز اور گہرائی 3 گز تھی۔درمیان میں ایک حجرہ تھا جس میں ایک درجن آدمیوں کے بیٹھنے کی جگہ تھی۔چھت پر اونچا مینار تھا۔حجرے کے دروازے کھلے رہتے تھے اس کے باوجود پانی اس کے اندر نہیں آ سکتا تھا۔حوض حکیم علی دیکھنے شہنشاہ اکبر بنفس نفیس لاہور گیا اور پانی میں غوطہ لگا کر حجرے کے اندر بھی پہنچا۔اسی طرح کا ایک اور حوض حکیم علی نے شہنشاہ جہانگیر (1627-1605ء) کے عہد میں آگرہ میں بنایا تھا جسے دیکھنے جہانگیر خود گیا تھا۔ہندوستان میں مسلمانوں نے ہیت کے میدان میں ابو ریحان البیرونی جیسے عالم بے بدل کی سائنسی تحقیقات کو آگے بڑھایا۔یہاں کے مسلمان بطلیموس کی کتاب سینٹی لو کیم (Centiloqium) کے فارسی اور عربی تراجم سے بخوبی آگاہ تھے۔وہ اس کی دوسری اہم کتاب امجسطی سے بھی واقف تھے جس میں علم ہئیت اور علم مساحت ( ٹریگا نومیٹری ) پر اس کے نظریات پیش کیے گئے ہیں۔ستاروں کی زیج جو دہلی میں تیار کی گئی اس کا نام زیج ناصری ہے جس کو