مسلمانوں کے سائنسی کارنامے — Page 111
209 208 جلد دوم صفحات 15-1013 میں ان آلات کی فہرست دکی ہے جو اس نے بنائے تھے ) اور ہندوستان کا نامور انجینئر ضیاء الدین اصطرلابی۔اس کی شخصیت پر مولاناسید سلیمان ندوی کا مضمون معارف اگست 1933 ء میں شائع ہوا تھا۔[62] عربوں نے اس کے مختلف النوع استعمال کے پیش نظر کئی قسم کے اصطرلاب تیار کیے تھے (جیسے آج کل کئی قسم کے کمپیوٹر ہیں مثلاً آئی بی ایم، میک ان ٹاش ): حلقات اعتدالیہ ( دو چیزوں کے درمیان فاصلہ معلوم کرنے کے لیے)، ذات الاوتار ( اونچائی پر جگہوں کے اوقات کے لیے ) ، ذات السمت والارتفاع ( فاصلے معلوم کرنے کے لیے ) ، حلقات الکبری، حلقات الصغری مسطح اصطرلاب، ذات الصفيحہ ( مختلف پلیٹوں سے بنا ہوا ) ، شمالی اصطرلاب (شمالی کرہ ارض کے لیے)، جنوبی اصطرلاب (جنوبی کرہ ارض کے لیے )، کامل اصطرلاب ( سورج کے متعلق)۔واضح رہے کہ جہازراں سورج کی اونچائی جاننے کے لیے سترھویں صدی تک اصطرلاب ہی استعمال کیا کرتے تھے۔پیتل سے بنے ٹکیہ کی شکل کے اصطرلاب کا سائز چار PISCES December BAGITTARIUS CAPRICORNUS اضطر لاب کا پشت والا حصہ انچ کے قریب اور اس کا ڈایا میٹر سات انچ ہوتا تھا، اس کے ہینڈل کو عروہ کہتے تھے۔ایران، هندوستان ، عراق، شام، مصر تمام اسلامی ممالک میں اصطرلاب بنائے گئے تھے۔اس کے ذریعے مسلمان ہئیت دانوں نے نہ صرف نئے ستارے تلاش کیے اور ان کے کیٹلاگ تیار کیے بلکہ اس کو بحری سفروں کے دوران بھی استعمال کیا گیا۔اس کی مقبولیت کی ایک وجہ یہ تھی کہ مسلمان اس کی مدد سے کسی بھی خطہ زمین سے نماز کے لیے قبلہ کا رخ تلاش کر سکتے تھے۔یورپ میں نشاۃ ثانیہ کے آغاز کے ساتھ اس کا تعارف اسلامی اسپین سے 1275 ء میں ہوا جہاں ماشاء اللہ کا بنایا ہوا سطح اصطرلاب مقبول عام تھا۔ٹیلی اسکوپ کی ایجاد سے کچھ عرصہ قبل 1610ء تک یہ سب سے زیادہ استعمال ہونے والا فلکیاتی آلہ تھا۔یورپ میں 1650ء میں سیکس ٹینٹ (Sextant) کی ایجاد کے بعد اس کی افادیت ختم ہو گئی۔مسلمانوں کا بنایا ہوا اصطرلاب