مسلمانوں کے سائنسی کارنامے — Page 112
211 210 اصطرلاب در حقیقت پرانے زمانے کا کمپیوٹر تھا کیونکہ اس کے ذریعے انسان مندرجہ ذیل کام کر سکتا تھا راستہ تلاش کرنا، بلڈنگ کی اونچائی معلوم کرنا ، رات یا دن کا وقت معلوم کرنا جبکہ گھڑیاں نہیں ہوتی تھیں ، رات کے وقت ستاروں کا محل وقوع معلوم کرنا، کسی بھی شہر یا دنیا کی کسی بھی جگہ پر سورج کے طلوع اور غروب کے اوقات معلوم کرنا ، خطہ ارض پر کسی بھی جگہ سے مکہ کا صحیح رخ تلاش کرنا علم نجوم کے چارٹ تیار کرنا نیز زیج یعنی ایسٹرونومیکل ٹیبلز کی تیاری۔بحری سفر کے دوران سمت معلوم کرنے والے اصطرلاب کو میری نرز ایسٹرولیب (mariners astrolabe) کہتے تھے۔مولانا سید سلیمان ندوی کی تحقیق کے مطابق الادریسی نے اپنی کتاب میں قطب نما کا ذکر کیا تھا ( مضمون عرب نیوی گیشن ، اسلامک کلچر ، اکتوبر 1942ء)۔آج سے چار سال قبل راقم الحروف کو شکاگو (امریکہ ) کے ایڈلر ایسٹرونومی میوزیم (Adler Museum) میں جانے کا موقعہ نصیب ہوا جہاں اکتیس اصطرلاب نمائش کے لیے رکھے ہوئے ہیں۔میوزیم کے اس حصے کا نام اسلامک ایسٹرونومی ہے۔میوزیم میں دیوار پر اسلامی دنیا کا نقشہ ہے اور جملہ ماہرین ہئیت میں اسلامی دنیا کے ممتاز ہئیت داں نصیر الدین الطوسی کا نام سر فہرست ہے۔اصطرلاب کے ذریعے کسی بھی شہر کے بارے میں جانا جا سکتا ہے مثلاً ایک تجربے کے ذریعے انسان اصطرلاب سے مکہ مکرمہ کو بغداد سے تلاش کر سکتا ہے ( یہ تجربہ میں نے بھی کیا تھا)۔ایک اور تجربے سے انسان اصطرلاب پر لگے آلے ایلی ڈیڈ ( alidade) کے ذریعے آسمان پر موجود ستارے کو دیکھ کر بتلا سکتا ہے کہ یہ کتنی ڈگری پر واقع ہے۔میوزیم میں کل 31 اصطرلاب میں سے چند کی تفصیل یہ ہے (1) ایک اصطرلاب اسپین میں محمد ابن یوسف ابن حاتم نے 1240 ء میں تیار کیا تھا (2)1558ء میں اسپین کے باشندے آرسینیس (G۔Arsenius) نے تیار کیا تھا (3) یہ 1598ء میں فرانس کے باشندے مارٹی ناٹ (Martinot) نے تیار کیا تھا (4) ایک آلہ لاہور کے باشندے نے بنایا ہے اور اس پر لکھا ہے عمل ضیاء الدین محمد ابن ملا اصطرلابی ہمایوں لاہوری 1057 ہجری ( 1647 عیسوی) (5)1130ء میں ایران کے باشندے بدر الدین عبد اللہ کا سلطان ابوالقاسم محمود کے لئے بنایا ہوا اصطرلاب بھی میوزیم کی زینت ہے۔آکسفورڈ میں واقع ہسٹری آف سائنس کے میوزیم میں موجود پیتل اور چاندی کا پندرہویں صدی عیسوی کا مشرقی اسلامی نقطے میں بنا ہوا گول اصطرلاب ایک مغربی مصنف اے ایل میر (ALMayer) نے اپنی کتاب ”اسلامک ایسٹرولسٹس (Islamic Astrolabists) میں اسلامی ممالک میں بننے والے تمام اصطر لابوں کی تفصیل مع ان کے بنانے والوں کے پیش کی ہے نیز یہ کہ دنیا کے مختلف میوزیم میں ایسے اصطرلاب کہاں