مسلمانوں کے سائنسی کارنامے — Page 78
143 142 چشمے جو سورج کی وجہ سے نکل آتے ہیں، دراصل وہ پانی میں برقی کیمیائی یعنی الیکٹرو کیمیکل کی تلقین فرمائی ہے اور دو نمازیں غروب آفتاب کے بعد ادا کی جاتی ہیں۔اس نے خود سے سوال (electro chemical) عمل کے زور سے ابھرتے ہیں۔چونکہ اس کو سنسکرت، یونانی، سریانی، کیا کہ اس صورت حال کے پیش نظر مسلمان وہاں نمازیں کیسے ادا کریں گے؟ خوش قسمی سے اس فارسی، عربی زبانوں پر عبور حاصل تھا اس لئے اس نے بہت سی کتابوں کے سنسکرت سے عربی میں وقت البیرونی دربار میں موجود تھا۔اس نے سلطان کو یقین دلایا کہ اس مظہر فطرت کا ذکر قرآن اور عربی سے سنسکرت میں ترجمے کیے۔اس نے 180 کتابیں لکھیں۔کتاب التفہیم میں اس نے مجید (الکہف، آیت 90) میں موجود ہے۔( ترجمہ ) پھر اس نے (ایک دوسری مہم کی) تیاری کی زمین کا گول نقشہ پیش کیا تا کہ سمندروں کا محل وقوع بیان کر سکے۔آثار الباقیہ میں اس نے علمی ، یہاں تک کہ طلوع آفتاب کی حد تک جا پہنچا، وہاں اس نے دیکھا کہ سورج ایک ایسی قوم پر طلوع تاریخی، مذہبی، فلسفیانہ باتیں لکھنے کے علاوہ زمین اور آسمان کا نقشہ بنانے کا نیا طریقہ پیش کیا۔ہو رہا ہے جس کے لئے دھوپ سے بچنے کا کوئی سامان ہم نے نہیں کیا ہے (تفہیم القرآن )۔1970ء کی دہائی میں اس عبقری شخصیت کی ایک ہزار سالہ برسی بڑے تزک و احتشام کے ساتھ دانش مند سلطان اس کی مسکت دلیل سن کر مطمئن ہو گیا۔کراچی، نیو یارک اور طہران میں منائی گئی تھی۔گیارہویں صدی میں ناصرخسرو ( پیدائش 1003ء ) گرامی منزلت شاعر فلسفی اور سیاح ابوریحان کا تعلق خوارزم شاہ کے دربار سے بھی رہا۔ایک روز بادشاہ ہاتھی پر سوار تھا۔مکہ معظمہ جاتے ہوئے وہ فلسطین سے گزرا اور یروشلم کا 1047ء میں دورہ کیا۔صلیبی جنگوں سے ابوریحان کے مکان کے پاس سے گزرا تو اس کو باہر بلانے کا حکم دیا۔ابوریحان کو باہر آنے میں قبل یروشلم کے حالات کو اس نے بڑے خوبصورت رنگ میں قلم بند کیا ہے۔اس سے قبل وہ ہندوستان ذرا تاخیر ہوگئی تو بادشاہ نے سواری کی باگ موڑ دی۔اسی دوران البیرونی با ہر نکل آیا اور بڑے احترام سے کہا حضور عالی ، خدا کی قسم آپ سواری سے نہ اتریں۔اس پر خوارزم شاہ نے یہ شعر پڑھا: العلم من اشرف الولایات یا تی کل الورٹی ولایاتی ( علم سب سے معزز ملک ہے، اس کے پاس لوگ آتے ہیں وہ خود نہیں آتا )۔ایک عمیق نظر سائنس داں ہونے کی حیثیت سے البیرونی کو معلوم تھا کہ قطب شمالی میں کے سفر میں سلطان محمود کے دربار میں حاضر ہو چکا تھا۔اس نے فارسی میں کتاب سفرنامہ 1045ء میں رقم کی ، جس کا فرانسیسی ترجمہ گائے کی اسٹرینج (Guy Le Strange) نے کیا تھا۔عبد العزیز البکری (1094ء) قرطبہ کا سب سے عظیم جغرافیہ داں اور نقشہ ساز ( کارٹو گرافر) تھا۔وہ ایک اچھا شاعر اور ماہر لسانیات (Philologist) بھی تھا۔اس کی تصنیف کتاب المسالک والممالک جغرافیہ کی مشہور ترین کتابوں میں ہے جس میں علم الاقوام اور تاریخی موسم گرما میں دن چو میں گھنٹے کا اور موسم سرما میں رات چوبیس گھنٹے کی ہوتی ہے۔بیان کیا جاتا ہے معلومات درج کی گئی ہیں۔الجیریا میں یہ آخری بار 1857ء میں شائع ہوئی تھی۔اس کتاب کا عربی کہ سلطان محمود غزنوی کے دربار میں ایک مالدار تاجر آیا جو قطب شمالی کا سفر کر کے واپس آیا تھا۔اس نے بیان کیا کہ وہاں کے لوگ جانوروں کی کھالیں پہنتے ہیں، وہ برف کے اندر سوراخ بنا کر مچھلیاں پکڑتے (ice fishing) ہیں، سفید رنگ کے ریچھ (polar bear ) گھومتے پھرتے ہیں اور موسم گرما میں دن اتنے لمبے ہوتے ہیں کہ سورج غروب ہی نہیں ہوتا۔معز ز سلطان کو اس کی آخری بات سمجھ میں نہیں آئی کیونکہ نبی پاک ﷺ نے مسلمانوں کو پانچ وقت نماز پڑھنے ادب پر گہرا اور دیر پا اثر تھا۔قدیم جغرافیہ میں اس نے ایک اور کتاب المعجم الجمع بھی لکھی جو حجاز (سعودی عرب) کے جغرافیہ پر تھی۔جرمن عالم وستن فلڈ نے اس کتاب کو مدون کیا ہے اور یہ گوتنگن (Gottingen، جرمنی ) سے 1876ء میں شائع ہوئی ہے۔اسی طرح اس نے ایک اور کتاب اندلس کے مختلف النوع درختوں اور نباتات پر بھی لکھی۔یا قوت بن عبد اللہ الحموی (1229-1179ء ، ترکی ) کی نادر الوجود کتاب معجم البلدان