مسلمانوں کے سائنسی کارنامے — Page 42
171 70 ریاضی اور جیومیٹری کی کتابوں کے کثیر تراجم کیے۔کتاب المدخل الى علم الاعداد ثابت ابن قرة بيروت سے 1958ء میں شائع ہوئی ، اس کا فرانسیسی ترجمہ 1978ء میں پیرس سے منظر عام پر آیا۔روایت ہے کہ خلیفہ معتضد با اللہ ایک مرتبہ ثابت کا ہاتھ پکڑے باغ میں ٹہل رہا تھا کہ یک لخت اس نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا۔ثابت نے پوچھا اے امیر المومنین کیا ہوا؟ اس نے کہا میرا ہاتھ تمہارے ہاتھ کے اوپر تھا چونکہ علم بلند ہوتا ہے اس کے اوپر کوئی بلندی حاصل نہیں کر سکتا۔تم عالم ہو اس لیے میں نے اپنا ہاتھ اوپر سے ہٹا لیا۔اسحق ابن حنین (901ء ، بغداد) مشہور مترجم حنین کا ہنر مند بیٹا تھا جس نے اپنے باپ کے دارلتر جمہ کو چار چاند لگائے۔اس نے ارسطو، اقلیدس، بطلیموس، آرشمیدس کی کتب کے عربی میں تراجم کیے۔قسطا این لوقا بعلبکی (912 ء ) طبیب، فلسفی، ماہر ہئیت اور ریاضی داں تھا۔اس نے یونانی مصنفین جیسے ڈانفینٹس (Diophantus)، ہیرون (Heron) اور آٹو لائیکوس (Autolycos) کی کتابوں کے تراجم کیے یا ان پر نظر ثانی کی یا جملہ تراجم اس کی زیر نگرانی کیے گئے۔اس نے کروی اصطرلاب پر عالمانہ مقالہ لکھا تھا۔احمد ابن یوسف المصری (912-835ء بغداد) نے بطلیموس کی کتاب سینٹی لو کیم (Centiloquium) کی شرح لکھی جس کا لاطینی ترجمہ وینس (Venice) سے 1493ء میں شائع ہوا تھا۔اس نے مزید دو کتابیں آن میلر آرکس ( On Similar Arcs) اور ریشیو اینڈ پروپورشن (Ratio and Proportion) پرلکھی تھیں۔دوسری کتاب کا لاطینی ترجمہ جیرارڈ نے کیا۔یورپ کے کئی ریاضی داں لیونارڈو ڈا پیسا (Leonardo da Pisa)اور جور ڈانس (Jordanus) نے جی بھر کر اس سے استفادہ کیا۔اس نے ٹیکس کے حسابی مسائل کا حل بھی پیش کیا جو اطالوی ریاضی داں فیبوناچی (Fibonacci 1170-1250ء) نے اپنی کتاب لیبر ابا چی Liber Abaci) میں بڑی ڈھٹائی سے جوں کے توں نقل کر دیا تھا۔ابوالعباس النیریزی (922ء) خلیفہ المعتصد کے دور کا ملبر ہئیت اور ریاضی داں تھا۔اس نے زیج تیار کی اور فضا پر مقالہ لکھا اور بطلیموس اور اقلیدس کی کتابوں کی شرحیں لکھیں جن کے لاطینی تراجم جیرارڈ آف کریمونا نے کیسے کردی اصطرلاب پر اس کی تصنیف عربی زبان میں منفر تھی۔ابو کامل (930ء) کا لقب الحسیب المصری تھا۔وہ الخوارزمی کے بعد بہت بڑا مسلمان ریاضی داں تھا۔اس نے کتاب الترائف في الحساب اور کتاب انحمس لکھیں۔اٹلی کے ریاضی داں فیونا چی نے اس کی کتابوں سے بہت سارے مسائل اور ان کے حل اپنی کتابوں میں نقل کیے۔اس کی کتابوں کا مطالعہ لیونارڈو ڈاونچی نے بھی کیا تھا [14]۔اس کی کتاب الکامل یعنی الجبرا آف ابو کامل (Algebra of Abu Kamil) کو یورپ سے 1912ء میں کا پرنسکی (Kaprinski) نے شائع کیا۔عبرانی میں فن زی (Finzi) نے اس کا ترجمہ کیا اور اس کی شرح لکھی جو عبرانی متن کے ساتھ یونیورسٹی آف وسکانسن پریس ( ملوا کی ) نے 1966ء میں شائع کیا تھا۔یادر ہے کہ لیونا پیڈوفیو ناچی (1250-1170 Fibonacci) نے ریاضی میں ایک کتاب لیبر ابا چی (1202ء Liber Abaci) تصنیف کی تھی جس سے عربی کے علم الاعداد کی یورپ میں ترویج ہوئی۔اس کتاب میں اس نے عربی ہند سے ایک سے لے کر نو تک اور صفر استعمال کیا ، مندرجہ ذیل اقتباس یہ حقیقت عیاں کرتا ہے: "Fibonacci studied under a Muslim teacher, and travelled in Egypt, Syria and Greece۔The horizontal bar used in fractions was regularly used by him and was known in the Islamic world۔"[15] جب خلیفہ المقتدر مسند آرائے خلافت تھا تو اس کے دور میں ابو عثمان سعید دمشقی (932ء) طبیب اور ریاضی داں تھا۔اس نے اقلیدس کے دسویں مقالے (Book-X) کا عربی میں ترجمہ کیا۔اس نے ارسطو، جالینوس کی کتابوں کے بھی تراجم کیے۔915ء میں بغداد، مکہ، مدینہ کے تمام عوامی ہسپتال اس کی زیر نگرانی تھے۔