مسلمانوں کے سائنسی کارنامے

by Other Authors

Page 33 of 128

مسلمانوں کے سائنسی کارنامے — Page 33

53 52 1519ء میں عربی متن مع لاطینی ترجمہ آکسفورڈ سے 1778ء میں، فرانسیسی ترجمہ 1861ء میں ترتیب وار شائع ہوئے۔ابن رشد نے طب پر ہیں کتا میں قلم بند کیں۔علم طب میں اس کا نا قابل فراموش کارنامہ یہ ہے کہ اس نے آنکھ کے پہلے پر دے جس میں بصارت کی حس ہوتی ہے یعنی ریٹینا (Retina) کا صحیح سائنسی عمل بیان کیا ( The retina and not the lens in the eye is the photo-receptor) "کلیات میں اس نے تہلکہ خیز اکتشاف کیا کہ جس شخص کو چیچک ایک بار ہو جائے پھر اس کو دوبارہ لاحق نہیں ہوتی۔کتاب میں اس نے نفسیات پر بھی اظہار خیال کیا ہے، نفسیات پر اس کے نظریات سے امریکی مصنف ولیم جیمز نے خوب اس کا مسودہ نیشنل لائیبر یری، رباط (مراکش) میں ہے۔کتاب میں کلینکی مشاہدات ( clinical reports) کثرت سے ہیں۔یہ سریاتی و کلینکی کتاب تھیں اجزا میں ہے جسے اس نے اپنے م دیرینہ ابن رشد کی فرمائش پر ترتیب دی تھی۔انتیسیر ایک عرصے تک یورپ کی جامعات کے تعلیمی نصاب میں شامل تھی۔مار ابن زہر دنیا کا سب سے پہلا پیرا سائکالوجسٹ (Parasitologist) تھا جس نے خارش کے کیڑوں (scabies) کو بیان کیا۔اس کے علاوہ طب میں اس کی پانچ دریافتیں قابل ذکر ہیں یعنی رسولی، درمیانی کان کا التهاب، التهاب غلاف القلب، فالج حلقوم ،قصبة استفادہ کیا (James1842-1910, Principles of Psychology۔) الریہ کی عمل جراحی ,tumors, inflammation of middle ear, pericarditis فاضل فرانسیسی عالم ارنسٹ رینان (Ernest Renan) نے 1852ء میں اس کی سوانح حیات پر ایک مبسوط کتاب تحریر کی ہے جس کا قیمتی نسخہ کوئیز یونیورسٹی کی اسٹا فر لائبریری (کنگسٹن ، کینیڈا) میں بھی موجود ہے۔کتاب میں ابن ابی اصیحہ اور الذھابی کی عربی میں رقم فرمودہ اس کی سوانح عمری کے ساتھ اس کی ایک کتاب محنہ بھی شامل کی گئی ہے۔ابو مروان ابن زہر (1162 ء ، لاطینی نام Avenzoar ) اندلس کا عظیم طبیب اور معالج تھا۔اس کی پیدائش اشبیلیہ (Seville) میں ہوئی۔وہ خلیفہ عبدالمومن (1163ء) کا شاہی طبیب تھا۔اس کے خاندان میں مسلسل کئی نسلوں تک طبیب پیدا ہوتے رہے۔طب پر اس کی کتا ہیں التریاق اور الاغذیہ امیر عبدالمومن کے نام منسوب تھیں۔کتاب تذکرہ کو اس نے بیٹے کے نام منسوب کیا جو باپ کی طرح ماہر طبیب تھا۔قرطبہ میں اپنے تلامذہ کے لیے اس نے ایک ضخیم قرابادین مدون کی۔اس طبیب حاذق نے بخار کے لیے ٹھنڈے مشروبات کا استعمال تجویز کیا، نیز اچھی صحت کے لیے صاف ہو الا زمی قرار دی۔امور زینت (cosmetics) پر کتاب فی الزينة لکھی۔مثانہ پر کتاب فی علل الکلیہ کھی۔دو اور قابل ذکر کتا میں اصلاح الانفس والاجساد اور جامع اسرار الطب ہیں۔طب میں اس کا علمی شاہکار امراض پر کتاب التيسير في المداوات والتد بیر ہے۔paralysis of pharynx, tracheotomy)۔اندلس نے ایک یہودی طبیب موسیٰ ابن میمون بھی پیدا کیا جو بعد میں مصر ہجرت کر گیا جہاں وہ سلطان صلاح الدین ایوبی کا ذاتی معالج بنا۔یادر ہے کہ طبیبوں کے رجسٹریشن کا آغا زستان بن ثابت (متوفی 943ء) نے بغداد میں شروع کیا تھا۔جو طبیب ہونے کے ساتھ ایک اچھا منتظم بھی تھا۔اس نے حکم دیا کہ ملک کے تمام اطبا کی گنتی کی جائے اور پھر امتحان لیا جائے۔کامیاب ہونے والے آٹھ سو طبیبوں کو حکومت نے رجسٹر کیا اور سر کاری سر ٹیفکیٹ جاری کیے۔نیز امتحان پاس کر کے مطب چلانے کے لیے لائسنس جاری کرنے کا نظام اس نے شروع کیا۔دیکھتے ہی دیکھتے پوری دنیا میں ڈپلوما اور رجسٹریشن کا یہ سلسلہ شروع ہو گیا اور ابھی تک جاری ہے۔محی الدین ابن العربی (1240ء) شیخ الاکبر اسپین کے عظیم صوفی تھے جنہوں نے دوصد کے قریب کتابیں قلم بند کیں۔ایک رسالہ علم قیافہ (Physiogonomy) کے موضوع (یعنی انسان کے خدو خال دیکھ کر اس کی شخصیت کے بارے میں رائے قائم کرنا ) پر لکھا جس کا ترجمہ کچھ سال قبل اسپینی زبان میں کیا گیا ہے۔