مسلمانوں کے سائنسی کارنامے

by Other Authors

Page 32 of 128

مسلمانوں کے سائنسی کارنامے — Page 32

51 50 (Goiter) اور کینسر آف تھائی رائیڈ (cancer of thyroid) میں فرق بتلایا۔اس نے گردوں سے پتھری نکالنے کے لئے مثانہ کا آپریشن کیا۔کان کے اندر کا مشاہدہ کرنے کے لیے آلات بنائے۔ہسپتال جاتے وقت مریض کے لیے پھول لے جانے کا طریقہ الزھراوی نے مروج کیا۔اس نے تجویز کیا کہ کپڑے کسی خوشبو دار صندوق میں رکھے جائیں تا کہ پہننے کے بعد بھینی بھینی خوشبو آئے۔یورپ و امریکہ میں خواتین کپڑے دھونے کے دوران واشنگ مشین میں فیرک سافٹر (fabric softener) استعمال کرتی ہیں جس کا مقصد کپڑوں میں خوشبو ڈالنا ہوتا ہے۔ہڈیوں کو جوڑنے کے طریقے اس نے ایجاد کیے، نیز ہڈیوں کو کاٹنے کے آلات بھی ایجاد کیے۔آلات جراحت پر بحث کے ساتھ اس نے نظری علوم میں مطابقت پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔اس کے دیگر اضافات درج ذیل ہیں: Zahrawi's contribution in medicated cosmetics include under-arm deodrants, hair removing sticks and hand lotions۔In Al-Tasreef hair dyes are mentioned turning blond hair to black, even correcting curly hair۔He mentioned benefits of suntan lotions۔For bad breath he suggested cinnamon, cardamom or chewing coriander leaves۔He included methods for bleeching the teeth۔For cold relief he suggested a mixture of camphor, musk and honey (similar to Vick's Vapor Rub)۔ممتاز اطالوی ترجمہ نگار جیرارڈ آف کریمونا نے 68 عربی کتابوں کے تراجم لاطینی میں کیے تھے۔ان تراجم کے بعد اہل یورپ اسلامی طب سے متعارف ہوئے۔ان کتابوں میں سے ایک تیرہ حصوں پر مشتمل کتاب التصریف تھی جس کا ترجمہ 1187ء میں ہوا تھا۔یہ ترجمہ 1497ء میں ویانا (Vienna) سے چھاپہ خانے کی ایجاد کے بعد شائع ہوا، اس کے بعد تین ایڈیشن 1566ء، 1569ء اور 1597ء میں شائع ہوئے۔عربی اور انگریزی میں اس کا ترجمہ آکسفورڈ سے 1778ء میں بے چینگ (J۔Channing) نے شائع کیا اور فرانسیسی ایڈیشن 1861ء میں منصہ شہود پر آیا۔یورپ کے شہروں سالیر نو اور مانٹ ہیلیئر کی جامعات میں یہ کتاب سرجری کے موضوع پر بارہویں صدی سے لے کر سترہویں صدی تک پڑھائی جاتی رہی۔لندن سے سرجری کے موضوع پر اس کا ضخیم حصہ ایم ایس، پنک (M۔S۔Pink) نے 1973ء میں شائع کیا جو کوئیز یونیورسٹی اور کنگسٹن کی میڈیکل لائبریری میں بھی موجود ہے۔میں نے اس کا بالاستعیاب مطالعہ کیا ہے۔ابن سینا کی القانون کی طرح التصریف بھی پانچ سو سال تک یورپ کے میڈیکل کالجوں کے نصاب تعلیم میں شامل رہی۔ان اطبا کی لا زوال شہرت اور عظمت کے پیش نظر الرازی، ابن سینا اور زہراوی کے پورٹریٹ ملان (اٹلی) کے کیتھیڈرل (Cathedral of Milano) میں دیوار پر نصب ہیں۔زہراوی کو فن جراحت کا ابوا الآبا کہا جاتا ہے، یورپ میں یہ کتاب پانچ سو سال تک چھائی رہی تا آنکہ ترکی کے شرف الدین نے ایک اور عمدہ کتاب لکھی۔ابن الوافد (1075-1008ء) قرطبہ کا معروف طبیب تھا اور اس نے آسان ادویہ پر کتاب الاودیۃ المفروۃ کے نام سے کتاب لکھی ، اس کی تیاری میں اس نے ہمیں سال صرف کیے۔جیرارڈ آف کر یمونا نے اس کا ترجمہ لاطینی میں کیا جو اسٹراس بورگ اور ویانا سے 1558ء میں شائع ہوا۔سر ٹامس آرنلڈ (Sir Thomas Arnold) کے مطابق یہ ترجمہ اس قدر مقبول عام تھا کہ پچاس مرتبہ شائع ہوا۔کتاب الوساد کا ترجمہ جوڑا بن ناتھن (Juda ben Nathan) نے کیا۔ابنِ وافد کی تصنیف مجموع الفلاحہ زراعت پر عمدہ کتاب ہے۔کا روان فلسفہ کا سالار، ابن رشد (1198 ء لاطینی نام Averroes) اپنے دور کا ایک مانا ہوا حاذق و ممتاز طبیب تھا۔طب میں اس کی معرکۃ الآرا تصنیف کلیات فی الطب ہے جو درج ذیل ابواب پر مشتمل ہے۔تشریح، منافع الاعضا، حفظانِ صحت، ادویہ، امراض، امراض کی شناخت اور امراض کی روک تھام۔اس کو یہودی مصنف فرج بن سالم نے 1255ء میں لاطینی میں منتقل کیا۔اس کے مزید تراجم و فیس سے 1496ء میں، آگس برگ (Augsburg) سے