مسلمانوں کے سائنسی کارنامے

by Other Authors

Page 23 of 128

مسلمانوں کے سائنسی کارنامے — Page 23

32 _does not come out, it is pushed out۔) سنان بن ثابت (1943ء) بڑا ماہر طبیب اور لائق منتظم تھا۔تین عباسی خلفاء کا بتیس سال 908ء سے 1940ء تک شاہی طبیب رہا۔طب میں اس نے جو اصلاحات کیں ان میں سب سے اہم بغداد میں (932-931 ء ) اطبا کا رجسٹریشن، امتحان کا طریقہ کار اور مطب (medical practice) کے لئے لائسنس جاری کرنے کا طریقہ تھا۔خلیفہ کے حکم پر اس نے اطبا کا شمار کرایا جن کی تعداد ایک ہزار کے قریب نکلی۔اس نے نصاب تعلیم مقرر کیا اور اطبا کا با قاعدہ تحریری اور زبانی امتحان لیا۔ایک ہزار میں سے جو 800 طبیب کامیاب ہوئے ان کو لائسنس (license) جاری کیے گئے۔کامیاب ہونے والوں کا رجسٹریشن کیا گیا اور سرکاری سند دی گئی۔لائسنسنگ 33 یورپ میں شائع ہو چکے تھے۔اس کا آخری ایڈیشن و فیس (Venice) سے 1542ء میں منظر عام پر آیا تھا۔اس کے متعدد قلمی نسخے برٹش میوزیم ، آکسفورڈ، کیمبرج، اسکور یال، استنبول، رام پور، مدراس کے کتب خانوں میں موجود ہیں۔ہندوستان سے اصل کتاب شائع ہو گئی ہے۔تاجدار فین زکریا رازی کی قادر الکلامی اور فکر کی ندرت بیانی قاری کو اپنے سحر میں جکڑ لیتی ہے۔تحریر کا لطف پڑھنے والے کو مستقل اپنی توجہ کے حلقے میں لئے رہتا ہے۔مجرب نسخوں پر مشتمل کتاب الجدری والحصبہ چیچک اور خسرہ پر دنیا کی پہلی کتاب ہے جس میں رازی نے اس کے اسباب کا پتہ لگایا، احتیاط اور علاج دریافت کیا۔اس کے تراجم لاطینی ، فرانسیسی اور انگریزی میں کیے گئے۔اس کا پہلا لاطینی ترجمہ 1498ء میں وینس سے زیور طبع سے آراستہ ہوا تھا۔یونانی بورڈ (licensing board) کا انچارج محتسب ہوتا تھا۔امریکہ کی ہر ریاست میں سنان ابن ثابت ترجمہ پیرس سے 1548ء میں ، فرانسیسی ترجمہ 1763ء میں ، انگریز کیا ترجمہ 1848ء میں اور کے طریقہ کار کے مطابق اسٹیٹ لائسنسنگ بورڈ ہیں جو ڈاکٹروں کو لائسنس جاری کرتے ہیں۔جرمن ترجمه ( Ueber die Pocken und die Masern)1911ء میں لیپزگ کینیڈا میں بھی ہر صوبے میں وزرات صحت میں ڈاکٹروں کی رجسٹری کا محکمہ ہوتا ہے۔دوا خانوں میں ادویات کی جانچ پڑتال کے لئے عباسی خلافت میں فارماسسٹ مقرر تھے جو ماہیتی نگرانی ( کوالٹی کنٹرول) اور معائنہ (inspection) کرتے تھے۔امریکہ میں یہی کام فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈ منسٹریشن (Food and Drug Administration یعنی (FDA) کا محکمہ کرتا ہے۔عالم اسلام کے بطل جلیل محمد بن زکریا رازی (925-865ء) کی بے نظیر کتاب الحاوی فى الطب پچیس جلدوں میں ایک طبی انسائیکلو پیڈیا ہے جس کا مسودہ اس کی بہن کے پاس تھا اور جسے اس کی وفات کے بعد اس کے قابل شاگردوں نے مدون کیا۔یہ کتاب رازی کے نظریات، تجربات اور خیالات کا نچوڑ ہے۔اس کا لاطینی ترجمہ 1279ء میں سلی کے یہودی عالم فرج بن سالم نے کیا۔یہ کتاب یورپ کے میڈیکل کالجوں میں کئی سو سال تک بطور طبی نصاب پڑھائی جاتی رہی۔1986ء میں یہ لائبر ڈکٹس الحاوی (Liber dictus Alavi ) کے عنوان سے لاطینی میں پریس کی ایجاد کے بعد زیور طبع سے آراستہ ہوئی۔1866 ء تک اس کے چالیس ایڈیشن (Leipzig) سے شائع ہوا تھا۔کنگسٹن (کینیڈا) کی کوئیز یونیورسٹی کی میڈیکل لائبریری میں اس کا جرمن اور انگریزی ترجمہ موجود ہے جس کا مطالعہ راقم نے کیا ہے۔ایک درجن زبانوں میں اس اعلی علمی کتاب کے 1866-1498 ء کے عرصے میں چالیس ایڈیشن منصہ شہود پر آئے تھے۔(3) علم طب پر مبنی رازی کی ایک اور کتاب المنصوری کا ترجمہ ملان، اٹلی سے 1481ء میں طبع ہوا۔اس کا نواں باب مقبول عام تھا جو لیو ، فرانس سے 1490ء میں شائع کیا گیا۔(4) کتاب منافع الاغذیه و دفع مضارھا میں غذاؤں کے فوائد اور نقصانات بیان کیے گئے ہیں۔(5) کتاب الصیٰ فی الکلی والمثانہ گردے اور مثانہ کی پتھری کے متعلق ہے۔(6) کتاب القولنج کا نام ہی اس کے لکھنے کی وجہ بتلاتا ہے۔(7) کتاب اوجاع المفاصل نقرس اور عرق النساء پر چار صفحے کا رسالہ ہے۔(8) مقالہ فی ابدال الادویہ میں صفحے کا رسالہ ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ اگر ایک دوا میسر نہ ہو تو اس کی جگہ کون سی دوا استعمال کی جاسکتی ہے۔فارسی اور اردو میں اس کا ترجمہ