مسلمانوں کے سائنسی کارنامے — Page 24
35 34 ہو چکا ہے۔(9) آٹھ صفحے کا رسالہ فی الباؤ اسم با سملی ہے۔(10) کتاب المدخل الى الطب میں بحث کی گئی ہے کہ علم طب کے لئے کن علوم کا حاصل کرنا ضروری ہے۔(11) قرابادین صغیر میں مرکب دواؤں کا بیان ہے۔(12) کتاب فی التجارب میں وہ تجربات مذکور ہیں جو اسے مختلف امراض کے علاج کے دوران حاصل ہوئے۔(13) کتاب برء الساعۃ میں ان ادویات کا ذکر کیا گیا ہے جن سے ایک گھنٹہ میں علاج کیا جا سکتا ہے۔اردو میں اس کا ترجمہ لکھنو سے چھپا ہے۔فرانسیسی میں ترجمہ مع عربی متن شائع ہوا ہے۔(14) کلام فی الفروق بین الامراض دس صفحے کا رسالہ ہے جس میں متشابہ امراض کی تفریق کا طریقہ بیان کیا گیا ہے۔(15) کتاب الملو کی 38 صفحات کے اس رسالے میں غذا کے ذریعے امراض کا علاج بیان کیا گیا ہے۔یہ خاص طور پر امرا اور سلاطین کے لئے لکھی گئی تھی۔(16) کتاب طب الفقراء کا موضوع یہ ہے کہ جس شہر یا علاقہ میں طبیب موجود نہ ہوں تو غریب لوگ معمولی دواؤں اور غذاؤں سے اپنا علاج خود کیسے کر سکتے ہیں۔(17) سولہ صفحے کے رسالے المرشد کا اصلی نام الفصول فی الطب، کا مطالعہ ہر طبیب کے لئے ضروری تھا۔1500 ء میں وینس سے اس کا ترجمہ اطالوی زبان میں شائع کیا گیا ہے۔اخلاق حسنہ سے متصف ابو بکر محمد بن زکریا الرازی نے جن موضوعات پر خامہ فرسائی کی وہ ہیں : تعدیہ (infection)، چک، بچوں کی بیماریاں، مریض پر نفسیاتی اثرات، جانوروں کی آنتوں سے بنے ٹانگوں سے زخموں کی سلائی۔بغداد میں ہسپتال تعمیر کرنے کے لیے اس نے تجویز کیا کہ جہاں ہوا میں لٹکا ہوا گوشت دیر سے خراب ہو اس مقام پر تعمیر کیا جائے گویا اس نے جراثیم (bacteria) اور تعدیہ (infection) کے مابین تعلق معلوم کر لیا تھا جو طبی تاریخ میں ایک عظیم دریافت اور سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔دقیقہ رس عالم ، طبیب، کیمیاداں رازی کے اشہب قلم سے 184 کتابیں منظر عام پر آئیں۔البیرونی نے اس کی کتابوں کی فہرست تیار کی جس کے مطابق اس نے 56 کتابیں طب پر ، سات نیچرل سائینس (natural science) پر ، دس ریاضی پر ، 17 فلسفے (Philosophy) پر، 14 د مینیات پر 22 کیمیا پر 6 مابعد الطبیعیات (Metaphysics) پر اور 12 دیگر عنوانات پر قلم بند کیں۔ان میں سے چند کتب کے نام یہ ہیں: کتاب کیفیۃ الابصار، کتاب الطب الملو کی ، کتاب الفالج، کتاب اللقوة، کتاب ہئیت القلب۔زکریا رازی نے جسے جالینوس العرب (The Arabic Galen ) کہا گیا ہے، طب میں الکحل (Alcohol) کا استعمال شروع کیا۔اس نے حساسیت اور مناعت (allergy & immunology) پر دنیا کا پہلا رسالہ لکھا۔اس نے حساسی ضیق النفس (allergic asthma) کو دریافت کیا۔اس نے الرجی کے بارے میں کہا کہ یہ وہ عارضہ ہے جو موسم بہار میں گلاب کے پھول سونگھنے پر لاحق ہوتا ہے۔یوں وہ پہلا طبیب تھا جس نے ہے فیور (hay fever) کو سب سے پہلے دریافت کیا۔عمل جراحی میں اس نے ایک کارآمد آلہ ایجاد کیا جس کا نام نشتر (seton) ہے۔اشیا اور ادویات کا وزن کرنے کے لیے اس نے میزان طبعی (physical balance) ایجاد کیا۔علم طب میں وہ یقیناً طیب اعظم کا درجہ رکھتا تھا۔اگر وہ بیسویں صدی میں پیدا ہوا ہوتا تو بلاشبہ وہ میڈیسن کے نوبل انعام کا مستحق ہوتا۔ابوالحسن الطبری (دسویں صدی) نے فلسفہ، نیچرل سائنس اور طب میں خوب نام پیدا کیا۔وہ رکن الدولہ (976-932ء) کا شاہی طبیب تھا۔اس نے معالجات البقراطیہ نامی کتاب لکھی جس میں صحت ، ادویاتی علاج (medical therapy) اور نفسیاتی علاج (psychotherapy) پر روایتی اعتقادات کے بجائے نئے نظریات (theories) پیش کئے۔اس نے خارش کے کیٹرے(itch-mite) کو دریافت کیا۔ابو منصور الحسن القمری (990 ، قم ، ایران ) ابو علی ابن سینا کا قابلِ احترام استاد اور سامانی حکمراں المنصور کا شاہی طبیب تھا۔اس کی کتاب الغنى والمنى( Book of wealth and