مسلمانوں کے سائنسی کارنامے — Page 108
203 202 گھنٹہ گھروں جیسی بڑی بڑی واٹر کلاک بنانے کی روایت عالم اسلام میں چودہویں صدی تک جاری رہی۔اس کا ثبوت فیض (مراکش) میں اس دور کی دو گھڑیاں ہیں جو الساعتی کی گھڑی سے بہت ملتی جلتی تھیں۔یورپ میں وزن سے چلنے والی گھڑیوں کا رواج تیرھویں صدی میں شروع ہوا تھا۔تقی الدین نے 1551ء میں کتاب الطروق الصنعیہ آلات روحانی لکھی۔اس کا مخطوطہ ڈبلن ( آئر لینڈ) کی چیسٹر بی ٹی لائبریری (Chester Beatty Library) میں محفوظ ہے۔احمد الحسن نے اس کو 1976 ء میں زیور طبع سے آراستہ کیا۔اس میں گھڑیوں، واٹر پمپ، واٹر ٹربائن (turbine) کے نہایت عمدہ ڈائیگرام دیے گئے ہیں۔اس نے رصد گاہ کے لئے کلاک بنایا نیز ترکی میں پاکٹ واچ (pocket watch) کے پائے جانے کا ذکر کیا۔نظر کی عینک ابن الہیشم نے اپنی خراد مشین یعنی لیتھ (lathe) پر عد سے (lenses) اور کروی آئینے (curved mirrors) بنائے۔عدسوں کے خواص جاننے کے لیے اس نے آتشی شیشے بھی بنائے۔اس نے محراب دار شیشے (concave mirror) پر ایک نقطہ معلوم کرنے کا طریقہ ایجاد کیا جس سے عینک کے شیشے دریافت ہوئے۔آلات رصد ابو محمود الجندی (1000ء) نے ایک آلہ السدس الفخری بنایا۔بقول البیرونی اس نے یہ آلہ خود دیکھا تھا۔اس آلے پر ہر ڈگری کو 360 حصوں میں تقسیم کیا گیا تھا اور سیکنڈ بھی دکھائے گئے تھے۔دوسرا آلہ جو اس نے بہیت پر بنایا وہ آلاۃ اشمیلہ (Comprehensive instrument) تھا یہ اصطرلاب اور قواڈرنٹ کا متبادل تھا۔ابوریحان البیرونی اپنے علمی تبحر اور تحقیقی انہماک کی وجہ سے مشہور تھا اسے ہندوؤں نے ودیا ساگر ( علم کا سمندر ) کے لقب سے نوازا تھا۔اس نے اصطرلاب، پلینی اسفیر اور آرملری اسفیر مشینوں کی ساخت پر مقالے لکھے تھے۔اسی طرح اس کے ہم عصر ممتاز سائنس داں بوعلی سینا نے علم مساحت کا ایک پیمانہ ایجاد کیا تھا جس سے موجودہ زمانے کا ور نئیر اسکیل بنایا گیا ہے۔اسلامی اسپین کا ابو الحق الزرقلی (1087ء Arzachel) اپنے عہد کا مانا ہوا انجینئر اور ایسٹرونومیکل آبزرور (astronomical observer) تھا جس کا لقب النقاش تھا۔قاضی ابن سعید کی درخواست پر وہ قرطبہ سے طلیطلہ گیا تا کہ وہاں اس علم کے دلدادہ ایک متمول اندلسی کے لیے خاص قسم کے آلات بنا سکے۔طلیطلہ کے شہر میں اس نے واٹر کلاک تعمیر کیے جو 1135ء تک زیر استعمال رہے۔اس نے ایک نیا اصطرلاب الصفیہ کے نام سے بنایا جس سے سورج کی حرکت کا مشاہدہ کیا جا سکتا تھا۔یہ ابھی تک باری لونا ( Barcelona) کی فابرا رصد گاہ (Fabra Observatory) میں نمائش کے لیے رکھا ہوا ہے۔الصفحہ پر اس نے ایک مقالہ (operating manual) بھی رقم کیا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کیپلر (Kepler) سے کئی صدیاں قبل اس بات کا اظہار کر چکا تھا کہ آسمانی کرے بیضوی صورت میں گردش کرتے ہیں (orbits are elliptical)۔مقالے میں مرکزی سیارے کی گردش کو بیضوی لکھا گیا ہے۔پولینڈ کے عظیم ہئیت داں کو پر نیکس نے اپنے علمی شاہکار ڈی ریوولیوشنی بس میں الزر قلی کا ذکر کرتے ہوئے اس کے علمی احسان کا واشگاف الفاظ میں ذکر کیا ہے۔اس کے فلکی مشاہدات کو مد نظر رکھتے ہوئے کو پرٹیکس کو اپنے نظام شمسی ( heliocentric system) کے وضع کرنے میں بہت مددملی۔الزرقلی کی تیار کردہ زیج ٹو لیڈن ٹیبلز ( Toledan tables) کہلاتی ہے جس کا ترجمہ جیرارڈ آف کر یمونا نے کیا۔یہ ترجمہ یورپ میں عرصہ دراز تک مقبول عام رہا۔اسپین کے بادشاہ الفانسو دہم کے بیت دانوں نے جو الفانسین ٹیبلز تیار کیے تھے وہ اسی زیج کی جدید کاری کی کوشش تھی۔اس کے 48 قلمی نسخے یورپ کے مختلف مشہور کتب خانوں