مسلمانوں کے سائنسی کارنامے

by Other Authors

Page 109 of 128

مسلمانوں کے سائنسی کارنامے — Page 109

205 204 میں محفوظ ہیں، چاند کی سطح کا مفروضی حصہ مارے نو بیم (Mare Nubium) اس کے نام سے منسوب ہے۔جنگی اسلحہ شام کے ایک محقق اور موجد حسن الر ماہ (HasanA-Rammah) نے ملٹری ٹیکنالوجی پر ایک شاندار کتاب 1280ء میں تصنیف کی جس میں راکٹ کا ڈائیگرام دیا گیا تھا۔اس راکٹ کا ماڈل امریکہ کے نیشنل ایئر اینڈ اسپیس میوزیم (Air & Space Museum) واته واشنگٹن میں موجود ہے۔مذکورہ کتاب میں گن پاؤڈر بنانے کے اجزائے ترکیبی بھی دیے گئے ہیں۔الرازی نے اس کے لیے پوٹاشیم نائٹریٹ تجویز کیا تھا۔ابن بیطار نے 1240ء میں گن پاؤڈر کا ذکر اپنی کتاب میں کیا۔صلیبی جنگوں کے دوران گن پاؤڈر فسطاط (مصر) میں بنایا گیا تھا۔پیرس کی لائبریری اور استنبول کے ابا صوفیہ کتب خانے میں ایسے عربی مخطوطات محفوظ ہیں جن میں توپ کا ذکر کیا گیا ہے۔اندلس میں 1248ء میں شہر کے دفاع کے لیے تو میں استعمال کی گئی تھیں۔اسی طرح غرناطہ کے دفاع کے لیے بھی 1319ء میں تو پوں کو استعمال کیا گیا تھا۔جب ترکی کے سلطان عثمان کی فوج نے 1453ء میں استنبول کو فتح کیا تو اس نے دیو قامت توپ استعمال کی تھی جس کا 400 کیلوگرام کا بھاری گولہ 2۔4 کیلومیٹر دور سے دشمن پر پھینکا جاتا تھا۔اس نے ایک بڑے اطالوی جہاز کو دوٹکڑے کر دیا تھا۔اس توپ کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانے کے لیے 70 بیلوں اور ایک ہزار سپاہیوں کی ضرورت ہوتی تھی۔یادر ہے کہ ایڈمرل کا لفظ امیر البحر سے بنا ہے۔میر فتح اللہ خاں کو بارود ایجاد کرنے کا افتخار حاصل ہے۔یوروپین محقق راجر بیکن نے بارود بنانے کا طریقہ عربی کتابوں کے لاطینی تراجم سے سیکھا تھا۔ترکی کے سلطان محمد الثانی کو جنگی اسلحہ بنانے کا بہت شوق تھا۔اس کے ایک قابل انجینئر مصلح الدین نے ایک حیرت انگیز توپ بنائی تھی جس کا وزن اٹھاروشن تھا، اس کی لمبائی ہیں فٹ تھی اور اس میں 150 پاؤنڈ کا گولہ جا تا تھا۔یہ توپ اس وقت لندن ٹاور میوزیم میں موجود ہے۔اس کو استنبول کے محاصرے کے دوران سلطان کی فوجوں نے استعمال کیا تھا۔ملکہ وکٹوریہ کی درخواست پر سلطان عبدالعزیز نے یہ توپ 1868ء میں لندن بھجوائی تھی۔پیغام رسانی خلفائے راشدین کے زمانے میں جنگوں اور فتوحات کے دوران پیغام رسانی (communication) تیز رفتار اونٹوں کے ذریعے ہوتی تھی۔اموی خلفاء کے دور میں ڈاک ( برید ) کا نظام شروع ہوا۔عباسی خلفاء کے عہد ( ساتویں اور آٹھویں صدی) میں برید کا الگ محکمہ قائم تھا۔بڑی شاہراہوں پر ڈاک کے مراکز قائم تھے۔پیغام رساں گھوڑوں اور نیچروں پر سفر کرتے تھے۔ضروری ، خفیہ پیغامات کے لئے کبوتر استعمال ہوتے تھے۔مصر میں مختلف مقامات پر تربیت یافتہ کبوتروں کے لئے برج ہوتے تھے۔کبوتروں کے ذریعے جانے والا پیغام خاص قسم کے ہلکے پھلکے کاغذ پر لکھا ہوتا تھا جس سے ہوائی ڈاک ( برید الجوی ) کا نظام شروع ہوا۔عباسی دور خلافت میں فوج کے خاص نفطون ( آتش گیر) دستے ہوتے تھے جو فائر پروف لباس زیب تن کرتے تھے تا کہ جب وہ آتش گیر بم یا میزائل پھینکیں تو خود آگ سے محفوظ رہیں۔اسلامی ممالک میں نافطہ کوٹک لائم (Quicklime) اور شورے (Saltpetre) سے یا پیٹرولیم سے بنایا جاتا تھا۔ایسا آتشی مادہ ، مرزاق کے ذریعے پھینکا جاتا تھا۔فخر مد بری نے فن تیراندازی کے موضوع پر ایک کتاب آداب الحرب والشجاع لکھی تھی جو دہلی کے فرمانروا شمس الدین التمش (1236-1211ء) کے نام معنون تھی۔قطب نما مقناطیسی سوئی کو اگر چہ چین کے لوگوں نے دریافت کیا تھا مگراس کا صحیح مصرف مسلمانوں