مسلمانوں کے سائنسی کارنامے

by Other Authors

Page 90 of 128

مسلمانوں کے سائنسی کارنامے — Page 90

167 166 زیب قرطاس کیں۔ان کی چند بصیرت افروز فلسفیانہ تصانیف یہ ہیں: انوار الحلک تحفۃ الجلساء، در الکلم ، قلائد الفوائد ،صون المنطق والكلام، انبیا ء الا ذکیا۔شمس الدین این کمال پاشا (1528 ء ، ترکی) نے فلسفیانہ مسائل پر دوسو کتابیں لکھیں۔رسالہ فی تحقیق الروح، رسالہ فی الجبر والقدر، رساله في بيان وحدة الوجود، في تحقيق الکلام، رساله في تحقيق المعجزة ، رساله فی مسئله خلق الاعمال، طبقات اصحاب، الامام الاعظم، تفسیر القرآن، نگارستان ( به طر ز گلستان)۔صدرالدین شیرازی ملاصدرا (1640-1528ء) نے اصفہان میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد دس سال زہد وریاضت میں تم شہر کے پاس ایک گاؤں میں گزارے۔باقی زندگی شیراز میں اللہ وردی مدرسے میں استاد کے عہدے پر متعین رہے۔ایک لیگانہ روزگار فلسفی کی حیثیت سے انہوں نے عربی میں پچاس سے زیادہ کتابیں لکھیں۔کتاب الحکمۃ العرشية، الشواهد الربوبیه، رسائل، تعليقات على البيات كتاب الشفاء، كتاب المبداء والمعاد، مفاتح الغیب، شرح اصول من الکافی، ڈاکٹر غلام جیلانی برقی نے فلسفیانِ اسلام میں 150 مسلمان فلسفیوں کے حالات مع ان کی کتابوں کے نام اور افکار پیش کیے ہیں۔} 14 علم تاریخ عربوں میں تاریخ نویسی کی ابتدا اس وقت ہوئی جب عبد اللہ ابن المقفع نے فارسی کی کتاب خدائی نامہ کا ترجمہ آٹھویں صدی میں عربی میں سیارالملوک انجم کے نام سے کیا۔ابن الحلق نے خلیفہ منصور (768ء) کے دور خلافت میں سیرت رسول اللہ لکھی جو نبی پاک نے کی سوانح حیات پر پہلی کتاب تھی۔اس کے بعد تاریخ کے موضوع پر اس کثرت سے کتابیں لکھی گئیں جو شمار سے باہر ہیں۔کتاب کشف الظنون میں علم تاریخ پر مسلمانوں کی 1300 کتابوں کی فہرست دی گئی ہے۔اس سے اس کثیر تعداد کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ابوالعباس احمد البلاذری (892ء) نے جو ایرانی نسل سے تھا، کتاب فتوح البلدان لکھی جسے نبی پاک نہ کی جنگی فتوحات، خلفائے راشدین کی فتوحات اور ان روایات کو بنیاد بنا کر کھا تھا جو اس نے مختلف ممالک کے سفر کے دوران خود سنی تھیں۔اس کا انگریزی میں ترجمہ ہو چکا ہے [47]۔اس کی دوسری کتاب انساب الاشراف تھی۔ابوحنیفہ دینوری (895ء) نے کتاب اخبار الطوال (long history) ایران کی تاریخ پر لکھی۔احمد ابن ابی یعقوب (یعقوبی ) کی کتاب البلداں میں قبل از اسلام اور بعد از اسلام کے واقعات 872 ء تک دیے گئے ہیں۔یہ ہالینڈ سے 1883ء میں دو جلدوں میں شائع ہوئی تھی۔محمد بن جریر الطبر ی(923ء) پہلا قابل ذکر مسلمان تاریخ داں تھا۔اس نے بغداد اور قاہرہ کے سفر کیے۔متاع عزیز کے چالیس برس وہ روزانہ چالیس صفحات قلم بند کرتا رہا جس کا نتیجہ تاریخ الرسول والملوک تھا۔اس نے قرآن پاک