مسلمانوں کے سائنسی کارنامے

by Other Authors

Page 82 of 128

مسلمانوں کے سائنسی کارنامے — Page 82

151 150 علاوہ ساحلی علاقوں، بندرگاہوں (لیبیا، تیونس) کے بارے میں تفصیلات نقشوں کے ہمراہ دی گئی (1490 Nautical Directory تھیوریٹکل اور پریکٹیکل نیوی گیشن پر بنیادی کتاب کا درجہ رکھتی تھی جس میں اس نے بحر ہند اور بحیرہ احمر میں بحری سفر پر بیش قیمت معلومات ، سمندری راستوں، مقناطیسی سوئی اور بندرگاہوں کے نام دیے ہیں۔آج بھی اس کتاب کی اتنی ہیں۔یورپ میں اس معرکۃ الآرا کتاب کے تمھیں نسخے محفوظ ہیں۔ان میں سے ایک نسخہ والٹر آرٹ گیلری ، بالٹی مور، امریکہ (Walter Art Gallery, Baltimore, USA) میں ہے۔اس (Hess) نے کتاب کا انگریزی ترجمہ اے بک آف سی لورس (A Book of Sea Lares) کے نام سے شائع کیا۔کتاب کے اکیسویں باب میں وہ قاری کو بتا تا ہے کہ ایک نیا بر اعظم بھی ہے جس کا نام انٹی لیا (Antilia) ہے جہاں کے پہاڑوں میں سونے کی کانیں اور سمندروں میں موتی پائے جاتے ہیں۔یہاں کے مقامی باشندوں کے چہرے چیٹے اور آنکھوں کے درمیان بالشت بھر کا فاصلہ ہوتا ہے۔قاہرہ کے میوزیم میں ایسے قیمتی آلات، نا در نقشے ، پرانی کتابیں اور مخطوطات محفوظ ہیں جو ہزاروں سال پرانے ہیں [41]۔ترکی کے ایڈ مرل سلیمان الماہری نے بحر ہند ملیشیائی، جزائر اور بحری سفروں پر پانچ لکھیں۔ان میں سے کتاب علوم البحریہ میں جہاز رانی سے متعلق علم ہئیت (Nautical Astronomy)، بحیرۂ عرب میں بحری راستے مشرقی افریقہ کا ساحلی علاقہ ،خلیج بنگال، ملایا (ملیشیا)، انڈو چائنا کے ساحلی علاقے مون سون پر بیش از قیمت معلومات ہیں۔اس کتابیں کتاب کا ترکی میں ترجمہ امیر البحر علی بن حسین سدی علی نے 1562ء میں کیا تھا۔پندرہویں صدی میں عالم اسلام میں ایک بہت بڑا، قابل جہاز راں ( نیوی گیٹر ) پیدا ہوا جس کا نام شہاب الدین احمد ابن ماجد تھا۔اس کا لقب اسد البحر تھا۔اس کو بحیرہ احمر اور بحر ہند کے تمام بحری راستوں کا علم تھا۔مسلمان جہاز رانوں کے لیے وہ ولی اللہ کا درجہ رکھتا تھا۔چنانچہ وہ بحری سفر پر روانہ ہونے سے قبل سورۃ فاتحہ اس کی یاد میں تلاوت کیا کرتے تھے۔اس نے نثر اور نظم میں 38 کتابیں تصنیف کیں جن میں کئی ایک جہاز رانی کے موضوع پر تھیں۔اس نے 1462ء میں ایک نظم لکھی جس میں 1082 اشعار تھے۔اس نظم میں اس نے نیوی گیشنل تھیوری کو اعلیٰ رنگ میں بیان کیا۔مسلمان جہاز رانوں کے لیے اس کی تصنیف منیف کتاب الفوائد ہی اہمیت ہے۔پرتگالی جہازراں واسکوڈے گاما جب 1498ء میں مالنڈی (ایسٹ افریقہ ) کے مقام پر پہنچا تو خوش قسمتی سے اس کی ملاقات ابن ماجد سے ہوگئی۔چنانچہ اس کے بحری جہازوں کے بیڑے کا معلم ( کیپٹن ) ابن ماجد مقرر ہوا جو بحر ہند کو عبور کر نے کے تمام راستوں سے واقف تھا اس لئے وہ ان کو کالی کٹ کی بندرگاہ تک لے گیا۔وائے افسوس ابنِ ماجد نے ایسا نہ کیا ہوتا کیونکہ اس کے بعد بحر ہند میں عربوں کی فوقیت ختم ہوگئی اور پرتگالی اور یورپین قوموں کا تسلط ہو گیا [42]۔مصطفیٰ بن عبد اللہ حاجی خلیفہ (1657-1608 ترکی ) نے بیس سال تک معلومات اکٹھا کرنے کے بعد جغرافیہ کا انسائیکلو پیڈیا کشف الظنون عن اسماء الكتب والفنون لکھا۔کتاب میں محمد عاشق ، سدی علی، پری رئیس کی کتابوں سے بھی استفادہ کیا گیا ہے۔اس میں یورپ کے مصنف مرکیٹر (Mercator) کی اٹلس سے بھی فائدہ اٹھایا گیا ہے۔اوشینو گرافی کے موضوع پر بھی اس نے ایک کتاب لکھی جس میں بحر ہند میں موجود جزائر کا ذکر کیا گیا ہے۔اس کا جرمن ترجمہ فلوگل (Flugel) نے کیا۔لیپزگ سے 1858-1835ء میں شائع ہوا تھا۔مسلمان اور نئی دنیا کی دریافت مسلمان تاریخ دانوں نے جغرافیہ اور تاریخ کی جو کتابیں قلم بند کیں یا جن کے انہوں نے تراجم کیے اس سے جغرافیہ کے علم میں خاطر خواہ اضافہ ہوا۔مسلمانوں کی علمی بصیرت ( زمین کا گول ہونا ) ، ان کے بنائے ہوئے نقشوں ، بحری راستوں (sea lanes) کی نشاہدہی ، سفر کے لیے اصطرلاب اور بحری قطب نما جیسے آلات کے طفیل 1492ء میں نئی دنیا (امریکہ )