مسلمانوں کے سائنسی کارنامے — Page 59
105 104 کر میٹر (crater ) کا نام الصوفی (Azophi) رکھا گیا ہے۔میڈرڈ ( مجریط) کے رہنے والے ابو القاسم مجریعلی (1007ء) نے الخوارزمی کی زیج کو مدون کیا۔ایڈے لارڈ آف ہاتھ نے اس کا ترجمہ بارہویں صدی (1126ء) میں کیا تھا۔اس نے اصطرلاب کی صنعت پر ایک رسالہ لکھا جس کا لاطینی میں ترجمہ کیا گیا۔ریاضی میں اس کی کتاب المعاملات اکا ؤنٹنگ کے موضوع پر ہے۔ابوالحسن ابن یونس ( 1009-950 ء ) نے بہت سے فلکیاتی مشاہدے قاہرہ کی رصد گاہ میں کیے۔یہ رصد گاہ دارلحکمہ کا حصہ تھی جو بغداد کے بیت الحکمۃ کے بعد مسلمانوں کی دوسری مشہور اکیڈمی تھی۔دارلحکمتہ ایک سو پینسٹھ سال (1171-1005ء) مصروف عمل رہی۔اس کی کتاب الترتیج الكبير الحاكمی عمدہ تصنیف ہے جس میں ستاروں کے مشاہدات کا کیٹیلاگ دیا گیا ہے۔اس زیج کو مکمل کرنے میں اس نے سترہ سال صرف کیے۔اس میں چاند گرہن کے مشاہدے کا بھی ذکر ہے جس کے مطالعے کے ذریعے امریکی بیت داں سائمن نیو کومب (1909-1835ءSimon Newcornb) نے اپنی لونز تھیوری (Lunar Theory) پیش کی تھی۔فرانسیسی مصنف سیڈی لاٹ (Sedillot) نے اس کا فرانسیسی ترجمہ کیا تھا جبکہ عمر خیام نے اس کا فارسی میں ترجمہ کیا تھا۔یگانہ روزگار ابن الہیثم (1039-965ء) کی فلکیات میں تصنیف کتاب الہئیہ (Resume of Astronomy) تھی جس میں اس نے کروں کی حرکت کا فزیکل ماڈل پیش کیا۔یورپ میں اس کتاب کا اثر جو ہانس کیپلر کے زمانے تک مند تھا۔نصیر الدین الطوسی بھی اس کتاب سے متاثر تھا۔ابوریحان البیرونی نے 1000 ء میں کتاب القانون المسعودی فی الہئیت النجوم لکھی جس میں ہئیت اور ٹریگا نومیٹری کے نئے نئے تھیورم پیش کیے۔اس کی کتاب جلاء الا ذہان فی زیج الجنانی بھی عمدہ کتاب ہے۔اقلیم طب کے تاجدار، عالم بے بدل، شیخ الرئیس ابن سینا نے علم فلکیات پر ہمدان کی رصد گاہ میں ریسرچ کی جس کے آثار قدیمہ حال ہی میں دریافت ہوئے ہیں۔اس نے ہئیت کا آلہ بنا یا جو و رئیر اسکیل (Vernier Scale) سے بہت مشابہ ہے۔اس نے سیارہ زہرہ (Venus) کا اپنی آنکھوں سے 1032ء میں مشاہدہ کیا اور غور و فکر کے بعد یہ نتیجہ نکالا کہ یہ کرہ سورج کے بجائے زمین سے زیادہ قریب ہے۔اہلِ یورپ کی دھاندلی ملاحظہ ہو کہ انہوں نے اس سائنسی اکتشاف کا سہرہ انگریز ہئیت واں جرمیا ہراکس (Jeremia Horrocks) کے سر باندھ دیا جس کا اکتشاف اس نے ابن سینا کے سات سو سال بعد 1839ء میں کیا تھا۔ابن سینا نے یہ بھی کہا کہ روشنی کی رفتار معین ہوتی ہے۔اس لئے وہ پہلا سائنس داں تھا جس نے روشنی کی رفتار کا نظریہ پیش کیا۔حیرانی کی بات یہ ہے کہ اس نے فزکس ، فلکیات اور میڈیسن کے سائنسی مسائل کے حل کے لیے ریاضی کا استعمال اس زمانے میں کیا۔موجودہ عہد میں اب یہ عام رواج بن چکا ہے۔طلیطلہ کے مشہور ہئیت داں ابو اسحق الزرقلی ( 1087ء) کی شہرہ آفاق زیج (Toledan Tables) کا ترجمہ بارہویں صدی میں کیا گیا۔اس نے ایک نادر اصطرلاب الصفحہ کے نام سے ایجاد کیا تھا جس کی صنعت کی تفصیل پر مشتمل رسالے کا ترجمہ عبرانی اور اطالوی زبانوں میں کیا گیا۔لاطینی میں اس کا ترجمہ جیرارڈ آف کر یہونا نے کیا۔ہسپانوی میں اس کا ترجمہ عالم بادشاہ الفانسو دہم ( Alfonso X) نے خود کیا تھا۔یورپ کی تمام جامعات میں یہ کتاب اس موضوع پر سند تسلیم کی جاتی تھی۔کو پر نیکس (1543ء) جیسے آفاقی عالم نے اپنی انقلابی کتاب ڈی ریوولیوشنی بس میں الزرقلی اور البانی کے علمی احسانات کا واشگاف الفاظ میں اعتراف کیا ہے۔الزرقلی نے بہت سے سائنسی آلات بنائے جو اپنے عہد کے اعلیٰ ترین آلات تھے نیز اصطرلاب بنانے پر جو مقالہ لکھا اس کا حوالہ کو پر ٹیکس نے اپنی کتاب میں دیا ہے۔اس کے ٹریگا نومیٹری ٹیبلز کا ترجمہ 1534ء میں نیورمبرگ سے طبع ہوا تھا۔این اسحق تمیمی (مراکش 1222ء) نے ایک نامکمل زیج اپنی یادگار چھوڑی۔اس کا مخطوطہ ڈی۔اے۔کنگ (D۔A۔King) نے 1978 ء میں آندھرا پردیش اسٹیٹ لائبریری