مسلمانوں کے سائنسی کارنامے

by Other Authors

Page 60 of 128

مسلمانوں کے سائنسی کارنامے — Page 60

107 106 ( نمبر 298) حیدرآباد میں دریافت کیا تھا۔انجل میسٹریس ( Angel Mestres) نے اس زیج کو مدون کیا اور اس کی شرح بھی لکھی۔یہ تحقیقی کام اس نے پی ایچ۔ڈی کے مقالے کے طور پر بارسی لونا یونیورسٹی (اسپین) میں جنوری 2000 ء میں پیش کیا۔نصیر الدین القوسی (1274-1201ء) کی بہیت میں علم و معرفت کا سر چشمہ تذکرہ فی علم الہعیہ ہے جس کا لاطینی ترجمہ فیگو را کاٹا (Figura Cata) کے عنوان سے چودہویں صدی میں کیا گیا۔انگریزی میں اس کا ترجمہ جمیل راجب (F۔J۔Rageb) نے کیا جو نیو یارک سے 1993ء میں شائع ہوا تھا۔اس کتاب میں الطوسی نے بہت سے پرانے ، فرسودہ نظریات پر کڑی تنقید کی ، نیز اس نے اپنا تیار کردہ کردی ماڈل (planetary model) پیش کیا، کو پر ٹیکس نے اس سے ملتا جلتا ماڈل پانچ سو سال بعد پیش کیا تھا۔الطوسی نے مراغہ ( آذر بائیجان) میں 1262ء میں فلکیاتی رصد گاہ تعمیر کی جس میں دیگر سائنسی آلات کے علاوہ ایک بارہ فٹ لمبا قواڈرنٹ (Quadrant) اور ایک ایزی متھ (Azimuth) تھا جسے اس نے خود تیار کیا تھا۔اس نے ایک دارالکتب کی بنیاد بھی ڈالی جس میں کئی لاکھ کہتا ہیں تھیں۔اس نے بارہ سال کی شب و روز کی دیدہ ریزی ومحنت سے ستاروں کی زیج الخانی ہلاکو خان کے لئے تیار کی جس میں آسمان کا نقشہ اور 990 ستاروں کا کیٹلاگ تھا۔کتاب تذکرہ فی علم الہیہ میں اس نے چاند ، مرکزی اور وینس کی حرکت پر بطلیموس کے فرسودہ نظریات کو رد کر کے ایک جدید نظام تجویز کیا جس کے مطابق سیاروں کے مدار بیضوی (elliptic) بنتے تھے۔اس کو بنیاد بنا کر جو ہانس کیپلر (Kepler) نے اپنا جدید شمسی نظریہ کا ئنات( Heliocentric system یعنی آفتاب کا مرکز کائنات ہونا ) پیش کیا تھا۔[30] قطب الدین شیرازی (1310-1237 ء ) نصیر الدین طوسی کا شنا گر د تھا۔اس کے افکار پر فارابی اور ابن سینا کا بہت گہرا اثر تھا۔منطق ، فلسفہ، طب، ہئیت اور اخلاق پر اس کی پندرہ کتابوں میں سے چند کے نام یہ ہیں: نہایتہ الا در اک فی درلیتہ الافلاک (ہنیت )، آداب الاطباء (طب)، حکمۃ العین ( قزوینی کی کتاب کی شرح طبیعیات پر تحفۃ السعد یہ ( پانچ جلد ، قانون ابن سینا کی شرح)، مفتاح المنان ( تفسیر ، چالیس جلد ) ، درة التاج (فارسی میں فلسفہ پر )۔غرناطہ کے بہیت وال محمد ابن رقام (1315ء) نے دوز بیجیں تیار کیں۔ان زیجوں پر محمد عبد الرحمن (ادارہ تاریخ علوم العرب، حلب، سیریا) نے پی ایچ۔ڈی کا مقالہ حساب اطوال فی زج الشمیل فی تہذیب الکامل لابن الرقام لکھا اور باری لونا یونیورسٹی (اسپین) میں ستمبر 1996ء میں پیش کیا۔تیمور لنگ کا پوتا، روشن دماغ سلطان الغ بیگ (1449-1393ء) ترکستان کا حکمراں ہونے کے ساتھ ایک مسلمہ ریاضی داں اور منفرد ہیت داں بھی تھا۔سمر قند کے شہر میں اس نے ایک عالیشان رصد گاہ تعمیر کی جو 120 فٹ اونچی تھی۔اس کا قطر 250 فٹ تھا، عمارت کی صورت گول تھی۔روسی ماہرین آثار قدیمہ نے اس کے آثار 1908ء میں دریافت کیسے تھے اس کی تصویر بیسویں صدی کے معروف ہئیت داں فریڈ ہوئیل (Fred Hoyle) کی کتاب ایسٹرونومی (Astronomy)، نیو یارک 1972ء میں دیکھی جاسکتی ہے۔اس رصد گاہ میں ہئیت کے گوناگوں آلات موجود تھے جیسے سیکس ٹینٹ (sextant)، آرمری (armilary)، سن ڈائٹر (sun dials) ، ایسٹر ولیب (astrolabe - سلطان الغ بیگ نے کتاب زيج الجديد سلطانی تصنیف کی جس کا انگریزی میں ترجمہ ٹیلز آف پلینیٹری موشنز (Tables of Planetary Motions) کے عنوان سے 1917ء میں کیا گیا۔جارج سارٹن نے اس زیج کو اسلامی دنیا کا ماسٹر پیس آف آبزرویشنل ایسٹرونومی (Masterpiece of Observational Astronomy) کہا ہے۔اس کا لاطینی ترجمہ 1650ء میں بے گریوز (J۔Greaves) نے لندن سے شائع کیا۔زیج الجدید میں الغ بیگ نے ایسی غلطیوں کا ازالہ کیا جو اس نے عربوں کے گزشتہ اسٹار کیٹیلاگ میں دیکھی تھیں۔یوں اس نے 992 ستاروں کا محل وقوع دوبارہ معین کیا نیز