مسلمانوں کے سائنسی کارنامے

by Other Authors

Page 41 of 128

مسلمانوں کے سائنسی کارنامے — Page 41

69 68 تینوں بھائی بیت الحکمہ کے ممتاز رکن تھے۔ان کے والد موسیٰ ابن شاکر با کمال بحیت داں تھے۔خلیفہ المامون ان کا سر پرست تھا۔ان کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے عربک اسکول (Arabic School of Mathematics) کی بنیاد رکھی۔محمد ابن موسی بیت ، میشه جھلک آف اقلیدس اور ریاضی کا ماہر تھا فوج کے سپہ سالار کی حیثیت سے بھی اس نے خدمات انجام دیں۔اس نے ترکوں پر لڑائی میں فتح حاصل کی تو اس کی سالانہ آمدنی چارلاکھ دینار ہوگئی۔اس دولت کو اس نے سائنس کے فروغ کے لئے بے دریغ صرف کیا۔اس نے بلا دروم ( ترکی ، یونان ) میں گماشتے بھیجے اور ان کے ذریعے یونانی علوم وفنون کی بیش قیمت کتابیں منگوائیں۔دور دور سے مترجمین (حسنین ، ثابت ابن قرة) کو معاوضہ دے کر بلوایا اور ان سے غیر عربی کتب کے تراجم کروائے۔حسن نے جیومیٹری میں اپنی جودت طبع سے کمال کا درجہ حاصل کیا۔اس نے ریاضی کے چند ایسے مسائل کو حل کیا جن کی طرف کسی کا ذہن نہیں گیا تھا ان مسائل میں ایک زاویے کا تین مساوی حصوں میں تقسیم ہونا (Trisecting an angle) ہے۔حسن کی کتاب معرفت ما اسخاط الاشکال کا ترجمہ جیرارڈ نے کیا تھا۔جس میں اس نے آرشمیدس کی طرح جیومیٹری میں (method of exhaustion) استعمال کیا۔ابوسعید الضرير (846ء جرجان) مشہور ریاضی داں اور ہئیت داں تھا اس نے جیومیٹری کے مسائل پر قلم اٹھایا اور ایک مسئلہ پر جس کا نام ڈرائنگ آف میریڈین ( drawing of the meridian) ہے اس نے جو کام کیا ہے وہ عربی سائنس کے ذخیرے میں ایک قیمتی اضافہ ہے۔عباس ابن سعید الجوہری (860ء) بیت الحکمہ کا فاضل رکن تھا۔اس نے شرح اقلیدس لکھی ، اس نے اقلیدس کے پیش کردہ مفروضوں کے علاوہ خود پچاس مفروضے پیش کیے۔الطوسی نے ان میں سے چھ مفروضوں کا حوالہ دیا ہے۔اس نے پیرالیل پوسٹولیٹ (parallel postulate) کا ثبوت پیش کرنے کی کوشش کی۔اس طرح وہ پہلا مسلمان ریاضی داں تھا جس نے یہ ناکام کوشش کی ، مگر یہ کوشش قابل ستائش ضرور تھی۔الكندی (870-805ء) کی وسعت نظر ، عبقریت اور تبجحر علمی کا اندازہ اس کی تصانیف کی کثرت سے لگایا جا سکتا ہے۔اس نے فلسفہ (Philosophy) ، دینیات ، منطق، علم فلکیات، کیمیا، ریاضی، جیومیٹری، بصریات ، طب علم الادویہ اور موسیقی پر کتا بیں قلم بند کیں۔ابن الندیم نے الفہرست (مطبوعہ 987 ء ) میں اس کی 242 تصانیف کے نام دیے ہیں جبکہ اسلامک اسٹڈیز، کراچی کے مارچ 1965ء کے شمارے میں اس کی کتابوں کی تعداد 350 بتائی گئی ہے جن میں سے تقریباً ساٹھ یاستر مخطوطات ابا صوفیہ لائبریری (استنبول) میں محفوظ ہیں۔الکندی ریاضی کی منطقی نوعیت سے اس قدر متاثر تھا کہ اس نے یہ ثابت کرنے کی بار بار کوشش کی کہ ریاضی سیکھے بغیر کوئی شخص فلسفی نہیں بن سکتا۔اس دعوے کو ثابت کرنے کے لیے اس نے ریاضیاتی اصولوں کا اطلاق طب، نجوم ، بلیت ، موسیقی اور علم المناظر پر کیا۔اس طرح اس نے فلسفے اور سائنس میں مفاہمت پیدا کی اور سائنٹیفک طریقے (scientific method) کی بنیاد رکھی۔ریاضی پر اس کی چند کتب کے نام یہ ہیں: الحساب الہندی، تالیف الاعداد، رسالة في الخطوط والضرب، رسالة في الكمية المضافة (On Relative Quantity)۔ثابت ابن قرة (901-836ء) لاطینی ، یونانی، سریانی اور عربی زبانوں کا ماہر تھا۔اس نے عربی میں 150 کتابیں منطق، ریاضی، علم ہیت اور طب پر تصنیف کیں اور مادری زبان سریانی میں مزید 15 کتابیں لکھیں، اس نے جیومیٹری اور الجبرا میں تطبیق پیدا کی۔اس نے اسفیر یکل ٹریگا نومیٹری (spherical trigonometry) اور انٹیگرل کیلکولس (integral calculus) اور میں قابل قدر اضافے کیے۔سن ڈائیل (sun dial) پر مقالہ لکھا۔دارالترجمہ کی بنیاد رکھی ، جس میں اس کا بیٹا سنان ، دو پوتے اور ایک پڑپوتا شامل تھا۔اس نے بطلیموس، اقلیدس، آرشمیدس کی ریاضی کی کتابوں کے یونانی زبان سے عمدہ تراجم کیے۔ریاضی میں اس کی مشہور ترین تصانیف مسائل الجبر بالبراهین علی ہندسیہ، کتاب المفروضات، رساله في شكل القطعه ، مقاله في المساحت، كتاب في مساحت الاشکال ہیں۔جس طرح حسنین نے طبی کتابوں کے تراجم کیے تھے، ثابت نے