مسلمانوں کے سائنسی کارنامے — Page 38
63 62 اسلامی اسپین کا ضیاء الدین ابن بیطار (1270 ء) قرون وسطی کا سب سے مشہور اس نے ریاضی ، علم ہئیت (الحدیقہ الوجیز ) ، منطق ( تقویم الذھن ) موسیقی علم الا دو یہ اور ماہر ادویہ (pharmacist) اور ماہر نباتات تھا۔اس نے نباتات کا علم ذاتی مشاہدات اور معالجات ( انتصار) پر متعدد کتابیں تصنیف کیں۔اس کی کتاب الادویۃ المفردۃ کا ترجمہ 1260ء تجربات سے حاصل کیا۔1219ء میں اس نے تحقیق کے لیے اسپین مصر ( دس سال)، عرب، میں لاطینی میں کیا گیا۔الغافقی (1165ء) قرطبہ کا نامور طبیب اور ماہر ادویہ تھا۔اس کو علم نباتات شام اور عراق کی سیاحت کی تاکہ جڑی بوٹیوں کے نمونے اکٹھا کر سکے۔اس کے شاگردوں میں (Botany) پر عبور حاصل تھا۔قدیم عربی ادبیات الغافقی (Classical Arabic Literature) سے ایک مشہور شاگرد ابن ابی اصیعہ تھا جس نے 600 مسلمان اطبا کی سوانح حیات پر میں اس موضوع پر اس کی تصنیف جس میں اسپین اور شمالی افریقہ کے پودوں، درختوں اور نباتات عیون الانباء فی طبقات الاطبا تیار کی۔ابن بیطار کی کتاب الجامع المفردات الا دو یہ والا غذ یہ ( مطبوعہ قاہرہ 1291ء) میں 1400 سے زیادہ جڑی بوٹیوں اور نباتات کو بمطابق حروف ابجد ترتیب دیا گیا ہے۔اس نے نباتات کی معرفت، حصول، ناموں کی قسموں کے اختلاف اور مقام پیدائش پر روشنی ڈالی۔ان میں سے دوسو کے قریب جڑی بوٹیاں اس سے قبل نا معلوم تھیں۔کتاب میں 150 مسلم اطبا کے حوالے اور میں یونانی اطبا کے حوالے دیے گئے ہیں اور ان کی تصنیفات میں موجود غلطیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔اس کالا طینی ترجمہ 1758ء میں اٹلی سے شائع ہوا۔بلاشبہ عربی زبان میں یہ سب سے مستند کتاب ہے۔اردو میں بھی اس کا ترجمہ شائع ہو گیا ہے۔کا ذکر کیا گیا ہے سب سے زیادہ اہم اور جامع تصور کی جاتی ہے۔اس کی کتاب الادویۃ المفردة میں جڑی بوٹیوں کے نام عربی ، لاطینی اور بربری زبانوں میں دیے گئے ہیں۔الا دریسی نے اس موضوع پر کتاب الجامع الصفت اشتات النبات لکھی جس میں جڑی بوٹیوں کے نام شامی، یونانی، فارسی ، ہندی ، لاطینی اور بربری زبانوں میں پیش کیے گئے ہیں۔یہاں افغانستان کے دیدہ دور محقق ابوالمنصور الموفق کا ذکر بھی ضروری ہے جو ہرات کا باشندہ تھا۔اس نے علم الادویہ کے موضوع پر کتاب الا بنید عن الحقائق الا دویہ لکھی جس میں یونانی ، شامی ، عربی اور ہندی علوم کا نچوڑ پیش کیا گیا۔اس میں 585 امراض اور ان کے علاج سے ابن بیطار کی دوسری تصنیف کتاب المغنی فی الادویۃ المفردۃ میں ادویہ کا ذکر ان کی بحث کی گئی ہے۔یہ علاج 466 قسم کی نباتاتی ادویہ سے، 75 معدنی ادویہ سے اور 44 حیوانی ادویہ سے کیا گیا ہے۔اس نے سوڈیم کاربونیٹ (Sodium carbonate) اور پوٹاشیم کاربونیٹ (potassium carbonate) میں فرق بتلایا۔حیرت کی بات یہ ہے کہ یہ کتاب اصل حالت میں فارسی زبان میں ویانا کے میوزیم میں موجود ہے۔اس کتاب کے مسودے کی کتابت ایرانی شاعر اسدی نے کی تھی۔1838ء میں اس کتاب کا لاطینی ترجمہ شائع ہوا تھا۔اصل شفایابی اور تاثیر کی نسبت سے کیا گیا ہے۔پودوں اور جڑی بوٹیوں کے نام عربی، یونانی اور لاطینی زبانوں میں دیے گئے ہیں۔اس کی تیسری کتاب کلام فی النبات کا اچینی زبان میں ترجمہ ہو چکا ہے۔سلیمان ابن حسان ابنِ عجل (994ء) نے طبقات الاطبا والحكماء ( History of Medicine) لکھی جس میں 57 دقیقہ رس طبیبوں کی سوانح عمریاں دلکش و شگفتہ انداز میں تحریر کی گئی ہیں۔اس نے مختلف عقاقیر کو از سرنو دریافت کیا۔علم الادویہ پر اس کی تین کتابیں قابل ذکر فارسی کتاب بھی کئی مرتبہ چھپ چکی ہے۔ہیں، تفسیر اسماء الادویۃ المفردة ، مقالہ فی الذکر الادویۃ اور مقالہ فی ادویۃ الترياقية - امیہ ابن ابی الصلت (1134ء) دینیہ (Denia) کے بادشاہ کے دربار میں شاہی طبیب اور ہئیت داں تھا۔وفیات الاعیان میں صفحہ 230 پر اس کا لقب الا دیب الحکیم دیا گیا ہے۔جارج سارٹن نے اس کی چار خاص باتوں کا ذکر کیا ہے: 1۔He distinguished between sodium carbonate and potassium carbonat۔