مسلمانوں کے سائنسی کارنامے — Page 36
59 58 استعمال کیے جو فرائڈ (Freud) اور ینگ (Jung) نے بیسویں صدی میں مریضوں پر آزمائے۔مثلاً رازی کو جب بغداد کے جنرل ہاسپٹل کا ڈائریکٹر مقرر کیا گیا تو اس نے ذہنی مریضوں کے لیے خاص وارڈ شروع کیا۔اس کی زندگی کا ایک اور مشہور واقعہ ہے کہ ایک دفعہ کسی خلیفہ کے علاج کے لیے اس کو بلایا گیا جو جوڑوں کے درد کی وجہ سے صاحب فراش تھا۔اس نے گرم پانی کا نسل تجویز کیا، جب خلیفہ نسل نے رہا تھا تو رازی حمام میں گھس گیا اور اس کو پنجر دکھا کر دھمکایا کہ میں تم کو تہ تیغ کر دوں گا۔اس خوف سے خلیفہ کے جسم میں نیچرل کلورک کی کمیت بڑھ گئی اور اس کے جوڑوں میں نرمی آ گئی۔چنانچہ خلیفہ غصہ اور خوف سے پانی کے طب کے اندر اپنے گھٹنوں پر کھڑا ہو گیا اور رازی کی طرف لپکا۔یہی اس کا علاج تھا۔شیخ الرئیس ابن سینا نے جمر جان کے امیر قابوس بن وشمگیر کے بھانجے کا علاج ورڈ ایسوسی ایشن (word association) سے کیا جو آج بھی ایک عمدہ نفسیاتی طریقہ علاج تسلیم کیا جاتا ہے۔مریض کو شیخ کے حضور میں پیش کیا گیا۔وہ منہ سے کچھ نہ بولتا تھا، ہمہ وقت خاموش پڑا رہتا تھا۔شیخ نے مریض کی نبض دیکھی اور کہا کسی ایسے شخص کو بلایا جائے جو جر جان کے سب گلی کوچوں سے واقف ہو۔ایک شخص نے شیخ کو گلی کوچوں کے نام بتلائے ، اب شیخ نے مریض کی نبض پر پھر ہاتھ رکھا اور اس شخص سے کہا کہ گلی کو چوں کے نام ٹھہر ٹھہر کر بتلائے ، شیخ کی نظریں اس کے چہرے پر تھیں۔وہ شخص نام بولتا جار ہا تھا۔ایک محلے کا نام آیا تو شیخ نے نبض میں عجیب سی حرکت محسوس کی۔مریض کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔اب شیخ نے کسی ایسے شخص کو بلانے کو کہا جو اس محلے کے ہر گھر سے واقف ہو اور ہر ایک کا نام جانتا ہو۔مریض کے سامنے دوبارہ نام دہرائے گئے۔ایک گھرانے کا نام آیا تو مریض کی حالت پھر غیر معمولی ہوگئی ، نبض تیز ہو گئی ، پسینہ چھوٹ گیا۔اب شیخ نے کہا کہ فلاں گھر میں رہنے والے تمام افراد کے نام بتلاؤ۔ایک نام دہرانے پر مریض ماہی بے آب ہو گیا۔شیخ وہاں سے اٹھا اور امیر قابوس کے کمرے میں گیا اور اس سے کہا کہ یہ نوجوان عشق کے مرض میں مبتلا ہے۔فلاں محلے کے فلاں گھر میں جو خاتون رہتی ہے اس سے اس کی شادی بلالیت و لعل کر دی جائے۔امیر نے تحقیقات کروائی، شیخ کی بات صحیح نکلی ، شادی کر دی گئی اور مریض صحت یاب ہو گیا۔مالیخولیا کا علاج بو یہ خاندان کا شہزادہ مجد الدولہ رے کے شہر میں مالیخولیا کے نفسیاتی مرض میں مبتلا ہو گیا۔وہ اپنے آپ کو بیل سمجھنے لگا اور بیل کی طرح ڈکا رتا تھا۔نہ کھا تا تھا نہ پیتا تھا۔بس یہی کہتا تھا کہ مجھے ذبح کر دو۔بادشاہ علاء الدولہ بہت متفکر ہوا۔شیخ کو مریض کی حالت جتلائی گئی ، شیخ نے غور وفکر کے بعد بادشاہ سے کہا میں جو کچھ کہوں اس پر عمل کیا جائے۔شیخ نے کہا کہ شہزادے سے کہہ دو کہ تمہیں ذبح کرنے کے لیے قصاب آ گیا ہے، تیار ہو جاؤ۔شیخ نے اس کے ہاتھ پاؤں بندھوا د یے اور پھر قصابوں کی طرح چھری پر چھری رگڑ کر آگے بڑھا اور اس کے سینے پر چڑھ کر بیٹھ گیا۔اس کے بدن کو ٹولا اور کہا یہ بیل بہت لاغر ہے ہم اس کو ذبح نہیں کریں گے جب فربہ ہو جائے گا تو ذبح کریں گے۔اس کے ہاتھ پاؤں کھول دیے گئے۔اس کے بعد شہزادے نے کھانا پینا شروع کر دیا۔رفتہ رفتہ اس کا مرض جاتا رہا اور صحت یاب ہو گیا۔[11] نجیب الدین سمرقندی نے پہنی بیماریوں کی تفصیل لکھی جو اس نے مریضوں میں خود مشاہدہ کی تھیں۔مثلاً اس نے ایجی ٹیٹیڈ ڈپریشن (agitated depression)، آبسیشن (obssession)، نیوروس (neurosis)، سائیکوسس (psychosis)، سیکسوئل امپوٹینس (sexual impotence)، ڈیمینشیا (dementia) کا ذکر کیا۔اسلامی ممالک میں نفسیاتی اور دماغی امراض کا ہسپتال بغداد میں 705ء میں تعمیر ہوا۔اس کے بعد قاہرہ میں 800ء میں فیض (مراکش) میں آٹھویں صدی میں ، دمشق میں 1270ء میں دینی مریضوں کو گرم حمام کے علاوہ مفت دوائیں دی جاتی تھیں، نیز ان سے ہمدردانہ سلوک کیا جاتا تھا۔علاج بالموسیقی (music therapy) اور آکو پیشنل تھیراپی (occupational therapy)