مسلمانوں کے سائنسی کارنامے — Page 35
سید اسماعیل جرجانی ذخیره خوارزم شاہی ابن القفطی اخبار العلماء Thesaurus 56 1903 ء میں لیپرگ سے شائع ہوئی اب یہاں ان میڈیکل اصطلاحات کے نام دیے جاتے ہیں جو عرف عام میں زیر استعمال ہیں: کافور (Camphor) ، زعفران ( Saffron)، جلا با (Jalapa)، کباب چینی (Cubebs)، روح الخمر (Alchohol) ، پھل بول (Acacia)، لاکھ (Loch)، گوند بول (Gum Acacia) کشته (Calcinated)، دواؤں کا قوام ( amalgam)، قرع انبیق ( Alembic)، جوع بقری (Bulemia) ، اسہال دموی ( Dysentry)، قولون آنت (Colon)، معدے کی ہضم شدہ غذا (Chyle)، طبقه قرنیه ( Cornea)، پت ( Bile) لبلبہ (Pancreas) بلغم ( Phelm)، اکسیر حیات (elixir) ، الكيميا ( alchemy) ، حقنہ (enema) ، سوڈا (soda)، امی (tamarind)، مشک ( musk)، جانکل (nutmeg)، لونگ (cloves)، بورک پاؤڈر (borax) وغیرہ۔یادر ہے کہ عرق کشید کرنے کے لیے انبیق مسلمانوں نے ہی ایجاد کیا تھا۔علم الجراثيم عدیم المثال طبیب محمد بن زکریا رازی سے کہا گیا کہ وہ بغداد میں ایک نئے ہسپتال کی تعمیر کے لیے مناسب جگہ کا انتخاب کرے۔اس نے شہر کے مختلف علاقوں میں گوشت لٹکانے کے بعد مشاہدہ کیا کہ کس جگہ پر گوشت سب سے آخر میں خراب ہوا۔پھر اس نے اسی مقام پر ہسپتال تعمیر کرنے کا مشورہ دیا۔اس نے دنیا میں سب سے پہلے چیچک اور خسرے میں فرق بتلایا۔یہ بھی بتایا کہ یہ دونوں متعدی بیماریاں ہیں۔ابن سینا نے دق (tuberculosis) کے متعدی ہونے اور کھانسی کے ذریعے اس کے پھیلنے کا ذکر کیا۔زخموں کو جراثیم سے پاک (disinfect) 57 کرنے کے لیے اس نے الکحل استعمال کرنے کو کہا ، اس سے قبل رازی بھی الکحل کو دافع عفونت (antiseptic) کے طور پر استعمال کر چکا تھا۔ابن خاتمہ نے کہا انسان کے جسم کے ارد گرد چھوٹے چھوٹے جرثومے ہوتے ہیں جو جسم کے اندر جا کر بیماری پیدا کرتے ہیں۔چودہویں صدی میں طاعون کی وجہ سے لوگ یورپ میں اجل رسیدہ ہو رہے تھے۔اس کو کالی وبا (black death) کہا جاتا تھا۔جاہلانہ عیسائی اعتقادات کی وجہ سے کسی کو کچھ معلوم نہ تھا کہ اس نا گہانی آفت یا عذاب الہی کی وجہ کیا ہے؟ مگر غرناطہ کے روشن دماغ طبیب ابن الخطیب نے اس متعدی مرض کی سائنسی وجہ بیان کرتے ہوئے بتایا کہ جو شخص اس مرض میں مبتلا ہوتا ہے اس سے جب دوسرے لوگ ملتے ہیں یا اس کے کپڑے، برتن یا کان کی بالیاں استعمال کرتے ہیں تو وہ بھی اس مرض کے پھندے کے اسیر ہو جاتے ہیں۔لہذا مریض کے کپڑے، برتن وغیرہ ہرگز استعمال نہ کیے جائیں۔مریضوں کے مشاہدہ ومعائنہ کے بعد اس نے طاعون اور تعدیہ (infection) کے بارے میں کہا : "The existence of contagion is established by experience, investigation, the evidence of senses and trustworthy reports۔These facts constitute a sound argument۔The fact of infection becomes clear to the investigator who notices how he who establishes contact with the afflicted, gets the disease, whereas he who is not in contact, remains safe, and how transmission is effected through garments, vessels and earrings۔" نفسیاتی علاج نفسیاتی علاج (psychotherapy) کے میدان میں رازی اور ابن سینا مانے ہوئے نفسیاتی معالج تھے۔انہوں نے ذہنی امراض کی تشخیص اور ان کے علاج کے لیے ایسے طریقے