مسلمانوں کے سائنسی کارنامے

by Other Authors

Page 25 of 128

مسلمانوں کے سائنسی کارنامے — Page 25

37 36 wishes) سلطان المنصور کے نام سے معنون کی گئی ہے۔یہ تین حصوں میں تقسیم ہے: اندرونی بیماریاں، خارجی بیماریاں اور بخار۔ہندوستان میں یہ کتاب عربی متن اور اردو ترجمے کے ساتھ شائع ہوگئی ہے۔علم طب کی آبرو، شیخ الرئیس ابوعلی ابن سینا کی شہرہ آفاق طبی کتاب القانون کا ترجمہ کین (Canon) کے عنوان سے کیا گیا۔اس کا پہلا یوروپین ایڈیشن 1473ء میں شائع ہوا پھر 1475ء میں دوبارہ طبع ہوا۔سولہویں صدی میں اس کے سولہ ایڈیشن جاری ہوئے ، 1650 ء تک اس کتاب کے متواتر تراجم کثیر تعداد میں شائع ہوتے رہے۔مؤرخین کا کہنا ہے کہ دنیا میں طب کے موضوع پر سب سے زیادہ شائع ہونے والی یہی کتاب ہے۔بعض لوگ اس کی اہمیت کے پیش نظر اس کو طبی بائیبل (Bible of Medicine) بھی کہتے ہیں۔واضح رہے کہ 1395ء میں پیرس کی فیکلٹی آف میڈیسن کا پورا نصاب رازی اور ابن سینا کی کتابوں پر مشتمل ہوتا تھا۔اسی لئے ان کی تصاویر ابھی تک وہاں کے بڑے ہال میں دیوار پر آویزاں ہیں۔علاوہ ازیں رازی کی ایک پینٹنگ پرنسٹن انسٹی ٹیوٹ، نیو جرسی، امریکہ کے چرچ کی کھڑکی (stained glass) پر آویزاں ہے۔(عاجز کے پاس اس پینٹنگ کی کمپیوٹر پر بنی رنگین کاپی موجود ہے جس میں عربی حروف میں کتاب الحاوی بسم اللہ الرحمن الرحیم ، الرازی،صاف پڑھا جاسکتا ہے۔اس کے بائیں ہاتھ میں کتاب الحاوی دکھائی گئی ہے)۔شاہ الاطبا ابوعلی ابن سینا کی انقلاب آفریں کتاب القانون فی الطب ( دس لاکھ الفاظ پر مشتمل ۵ جلدوں میں) علم طب کی بے نظیر کتاب ہے۔اس بحر ذخار کی کمیت ہی حیرت انگیز نہیں بلکہ اس کی معنوی کیفیت بھی اتنی ہی گراں بہا ہے۔اس میں پائے جانے والے ان گنت آبدار موتیوں کا باہر نکال کر لانا ضروری تھا تا کہ دوسری قومیں بھی اس سے متمتع ہوسکیں۔لہذا اس کا لاطینی میں ترجمہ بارہویں صدی میں جیرارڈ آف کر یمونا نے لائبر کینونس (Liber Canonis) کے عنوان سے کیا جو 1544ء، پھر 1582ء اور پھر 1595ء میں طبع ہوا۔پانچ جلدوں میں اس کا عربی ایڈیشن روم سے 1593ء میں شائع ہوا۔اس سے پتہ چلتا ہے کہ یورپ کی نشاۃ ثانیہ کے دوران بھی یہ کتاب زبر دست افادیت کا درجہ رکھتی تھی۔اس معرکۃ الآرا تصنیف کے جزوی تراجم ملان سے 1473 ء، وینس سے 1483ء اور پڑ وآ (Padoa) سے 1478ء میں شائع ہوئے نیز عبرانی میں ترجمہ نیپلز (Naples) سے 1491ء میں اور جرمن ایڈیشن 1796 ء میں ہیل (Halle) سے طبع ہوا [9]۔دنیا کی مختلف زبانوں میں، اب تک اس کا ترجمہ 87 مرتبہ کیا جاچکا ہے۔یادر ہے کہ 1200 ء سے 1700 ء تک یہ معرکۃ الآرا کتاب یورپ کے میڈکل کالجوں میں نصابی کتاب کے طور پر پڑھائی جاتی رہی۔اس کی تصدیق فرانس کی مانٹ پیلیئر یونیورسٹی کے آرکائیوز (archives) میں موجود پوپ کلے مینٹ پنجم (Pope Clement-V) کا 1309ء کا جاری شدہ ایک فرمان ہے جس کے مطابق القانون 1557 ء تک یہاں کے نصاب تعلیم میں شامل رہا۔اسی طرح لو آن یونیورسٹی (Louvan University) کے آرکائیوز میں موجود دستاویزوں سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ستر ہویں صدی کے شروع تک یہاں کے پروفیسر صرف رازی اور ابن سینا کی کتب کو قابل اعتبار و استناد سمجھتے تھے۔انیسویں صدی کے آغاز تک ساربون (Sorbonne) یو نیورسٹی میں طالب علم کو اس وقت تک میڈیکل پریکٹس کالائسینس نہیں دیا جاتا تھا جب تک کہ اس کو ابن سینا کی کتاب القانون پر دسترس نہ حاصل ہو۔پندرہویں صدی میں القانون کے سولہ ایڈیشن اور سولہویں صدی میں اس کے ہیں ایڈیشن شائع ہوئے۔سترہویں صدی میں اس کے اور بھی ان گنت ایڈیشن منظر عام پر آئے۔لاطینی اور عبرانی میں اس پر کثیر تعداد میں شرحیں لکھی گئیں۔یورپی طب کی بنیادیں ابھی تک اس کی تحقیقات پر استوار ہیں۔ابن سینا کی دیگر مشہور عالم طبی کتابیں ہیں : کتاب الشفاء، کتاب القولنج ، کتاب الحواشی علی القانون ، کتاب الا دو یہ القلبية - سيد اظل الرحمن نے قانون ابن سینا اور اس کے شارعین و مترجمین، نیز یورپ میں القانون کے تراجم اور اشاعتوں پر تفصیل سے لکھا ہے۔اس اردو کتاب کا فارسی میں ترجمہ بھی تہران سے شائع ہو گیا ہے۔