مسلمانوں کے سائنسی کارنامے — Page 124
235 234 نسلوں کا ذہن سائنس کا نام آتے ہی یورپ و امریکہ کی طرف جانے کے بجائے یہ محسوس کرے کہ یہ ہماری میراث ہے۔ہم میں سے بہت سے لوگ تاریخ سائنس سے محروم ہونے کی بنا پر یورپ و امریکہ سے بہت مرعوب نظر آتے ہیں۔ان کو جاننا چاہئے کہ سائنس کی تمام نعمتیں غیروں ہی کی دین نہیں ، ان کی پروان میں ہمارا بھی حصہ ہے۔سائنس پر کسی ایک قوم کی اجارہ داری نہیں ہے، کبھی ہندوستان اور چین نے اس کے فروغ میں حصہ لیا تو کبھی مسلمانوں نے کبھی یورپ والوں نے تو کبھی امریکہ والوں نے۔سائنس اور ٹیکنالوجی نے قوموں کو عروج تک پہنچایا۔سائنس اور ٹیکنالوجی سے ہر چیز کسی نہ کسی طرح سے وابستہ ہے۔ہر شعبہ حیات میں سائنس کو دخل ہے۔اسلامی دنیا خاص طور پر ایران، پاکستان اور ہندوستان میں سائنس کی تعلیم کی طرف خاص توجہ دی جارہی ہے۔وہ دن دور نہیں جب ہندوستان ، چین اور مسلم دنیا ایک بار پھر سائنس میں ترقی کر کے زبردست علمی طاقت بن جائیں گے اور اب جو طالب علم آکسفورڈ، کیمبرج اور ہارورڈ میں آتے ہیں وہ پھر اعلی تعلیم کے لئے ان ملکوں تک جایا کریں گے۔اسلامی دنیا اس وقت 42 ممالک پر مشتمل ہے۔عرب ممالک میں سائنس و ٹیکنالوجی پر مجموعی پیداوار کا صرف 0۔5 فی صد خرچ کیا جا رہا ہے۔جبکہ جاپان میں 2۔9 فی صد خرچ کیا جاتا ہے۔انگریزی سے ناواقفیت کی وجہ سے عرب ممالک میں انٹر نیٹ کا استعمال نہ ہونے کے برابر ہے۔عربی زبان میں ویب سائٹ رفتہ رفتہ تیار کی جارہی ہیں۔اسلامی ممالک سے ہنر مند افراد، کمپیوٹر کے ماہر اور سائنس داں دیوانوں کی طرح مغربی ممالک کا رخ کر رہے ہیں جس کی وجہ یہ ہے کہ ان ممالک میں سائنس دانوں کی نہ قدر ہے اور نہ کام کی وہ سہولتیں۔ان کے امریکہ یا یورپ چلے جانے سے مقامی سائنس دانوں کی فعال نسل پروان چڑھنے میں بھی رکاوٹ پیدا ہورہی ہے۔سائنسی علوم پر نئی تحریروں اور کتابوں کا فقدان ہے۔پوری دنیا میں سالانہ ایک ملین تحقیقی مقالے اور سائنسی کتب شائع ہوتی ہیں۔جبکہ تمام عرب ممالک میں سائنس و ٹیکنالوجی پر 2001ء میں صرف 330 ترجمہ شدہ کتابیں شائع ہوئیں۔عرب ممالک میں محض ڈیڑھ فی صد آبادی کے پاس کمپیوٹر ہیں۔ضرورت اس بات کی ہے کہ سائنس دانوں کو کام کرنے کی آزادی، وافر سہولتیں، مالی وسائل، کتب و رسائل، ماحول اور وقت فراہم کیا جائے۔جس طرح ہارون الرشید، مامون الرشید ، فاطمی خلیفہ الحاکم بامر اللہ ، ایران کے ساسانی فرمانرواؤں نے سائنس کی سر پرستی کی تھی ہمارے حکمراں بھی تیل کی بے پناہ دولت سے بغداد، قاہرہ، طہران، لاہور، علی گڑھ ، انقرہ میں بیت الحکمہ تعمیر کریں۔اٹلی کے انسٹی ٹیوٹ فار تھیور ٹیکل فزکس ( تریستے ) کے طرز کے سائنسی علوم کے انسٹی ٹیوٹ بڑے بڑے شہروں میں قائم کیسے جائیں۔تمام اسلامی ممالک کی لائبریریوں میں کمپیوٹر لگائے جائیں تا کہ ہر خاص و عام کمپیوٹر آشنا ہو جائے۔فورڈ فاؤنڈیشن (Ford Foundation) کی طرز کی اسلامی فاؤنڈیشن بنائی جائیں۔عمارتوں، ایئر پورٹس، کالجوں اور اداروں کے نام جز وقتی یا موسمی سیاست دانوں کے بجائے اعلیٰ دماغ سائنس دانوں کے نام پر رکھے جائیں۔یورپ کی نشاۃ ثانیہ کی طرح کی اسلامی نشاۃ ثانیہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔بعض دانشوروں کے نزدیک ملائیت اس نشاۃ ثانیہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ یورپ میں پادریت سے چھٹکارا ملتے ہی تاریک دور ختم ہونا شروع ہوا تھا۔ضرورت اس امر کی ہے کہ سائنسی تخلیقات اور سائنسی تعلیم کے عمل کو تیز کیا جائے۔دینی مدارس میں دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ سائنسی تعلیم بھی لازمی قرار دی جائے۔اجتہاد کا دروازہ کھلا رکھا جائے۔ذہنی غلامی سے چھٹکارا جلد حاصل کیا جائے۔واللہ الموفق بالصواب!