مسلمانوں کے سائنسی کارنامے — Page 114
215 214 17 اسلامی کتب خانے عہد، وسطی میں عالم اسلام کے ہر شخص کو کرتا ہیں جمع کرنے کا جنون کی حد تک شوق ہوتا تھا۔اسلامی ملکوں کے ہر بڑے شہر میں علما و محققین سیاح بن کر علم کی تلاش میں سفر کرتے رہتے تھے۔ہر بڑی مسجد کے ساتھ اکثر کتب خانے بھی وابستہ ہوتے تھے۔950ء میں موصل کی ایک لائبریری میں طالب علموں کو کاغذ اور کتابیں مہیا کی جاتی تھیں۔رے ( طہران ، ایران) کی لائبریری کا کیٹیلاگ دس جلدوں میں تھا۔بصرہ (عراق) کی لائبریری میں کام کرنے والے محققین کو وظیفہ دیا جاتا تھا۔مشہور جغرافیہ داں یا قوت نے جب اپنی ضخیم کتاب لکھنی شروع کی تو وہ تین سال تک خوارزم اور مرد کے کتب خانوں میں کتابوں کا مطالعہ کرتا رہا۔عوامی کتب خانوں (public libraries) کے علاوہ عام لوگوں کے گھروں میں بھی کتب خانے ہوتے تھے۔جیسے امیر بخارا نے جب ابن مسکویہ کو اپنے دربار میں آنے کی دعوت دی تو اس نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ اس کی کتابوں کو منتقل کرنے کے لیے چار سو اونٹ درکار ہوں گے۔الواقدی کی وفات کے بعد اس کے گھر میں کتابوں کے 600 ڈبے پائے گئے تھے۔محمد ابن الندیم نے 987ء میں فہرست العلوم لکھی جس میں اس وقت تک کی تمام کتابوں اور مصنفین کا ذکر کیا گیا ہے۔الطبر می (923-839ء) نے چالیس سال کی محنت شاقہ کے بعد کتاب اخبار الرسول والملوک لکھی یہ پندرہ جلدوں میں ہے۔المسعودی نے شام، عرب فلسطین ، فارس، ہندوستان کے سفر کے بعد 1947ء میں 30 جلدوں میں انسائیکلو پیڈ یا لکھا تھا۔عالم اسلام کے شہرہ آفاق طبیب بوعلی سینا کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے تمام علوم اٹھارہ سال کی عمر میں بخارا کے سامانی فرمانروا نوح ابن منصور کے شاہی کتب خانے صوان الحکمیہ میں موجود کتابوں کے مطالعے سے حاصل کر لیے تھے جہاں ہر موضوع پر بے شمار کتابیں موجود تھیں۔یہ شاہی کتب خانہ ایک شاندار اور دلآویز عمارت میں تھا جس میں ہر مضمون کے لیے الگ الگ بہترین کمرے مخصوص تھے۔کتابیں سلیقے سے صندوقوں اور دیدہ زیب الماریوں میں رکھی ہوئی تھیں۔ایک پورا کمرہ شعر وادب کے لیے اور ایک وسیع کمرہ فن طب کی کتابوں کے لیے مخصوص تھا۔ایک کمرے میں علم فقہ سے متعلق ، ایک کمرے میں علوم قرآن سے متعلق اور ایک کمرے میں فلسفہ و حکمت سے متعلق کتابیں تھیں۔بعض ایسی نادر کتابیں بھی تھیں جن کے ناموں سے بھی لوگ واقف نہیں تھے۔شیخ الرئیس بوعلی سینا کی فکر ونظر میں وسعت پیدا کرنے میں اس کتب خانے کا بڑا حصہ تھا۔الفارابی کی ایک نایاب کتاب کا مخطوطہ یہاں ان کے ہاتھ لگ گیا جس نے ان کے ذہن پر انمٹ نقوش مرتسم کیے۔انہوں نے اپنی سوانح حیات میں لکھا ہے کہ پہلے تو ذوق و شوق سے کتب خانے کی سیر کی ، پھر قدیم حکماء کی کتابوں کی فہرست دیکھی تو ایسی کتا میں نظر آئیں جن کے نام بھی لوگ نہیں جانتے تھے۔غیر معمولی حافظہ اور شب و روز کے مطالعے سے وہ جلد ہی تمام علوم پر حاوی ہو گئے۔[63] سلطان عضد الدولہ نے شیراز میں ایک عظیم کتب خانہ قائم کیا تھا۔اس زمانے میں کتب خانوں کو خز امتہ الکتب کہتے تھے۔ابنِ مسکو یہ اس کتب خانے کا خازن (چیف لائبریرین ) تھا۔کہا جاتا ہے کہ کتب خانوں کے نگراں صرف عالم اور محقق ہی بنائے جاتے تھے۔مثلاً ابن سینا بخارا کے اور ابن مسکویہ ، رے (ایران) کے کتب خانے کے نگراں تھے۔اسی طرح فاطمی خلیفہ عبدالعزیز کے کتب خانے کا نگراں بھی ایک عالم تھا۔عورتیں بھی بعض دفعہ نگراں ہوتی تھیں جیسا کہ ایک خاتون تو فیق دارالعلوم بغداد کی نگراں تھی۔