مسلمانوں کے سائنسی کارنامے

by Other Authors

Page 110 of 128

مسلمانوں کے سائنسی کارنامے — Page 110

207 206 نے نکالا یعنی انہوں نے جہاز رانوں کے لئے رحمت کا آلہ قطب نما (Mariner's compass ) آلے کا نام ، عصائے طوسی ) معین الدین الاردی (مراغہ کی رصد گاہ کا ماہر فلکیات جس نے ایجاد کیا۔جارج سارٹن کہتا ہے: اصطرلاب میں ایلی ڈیڈ (alidade) کا اضافہ کیا۔جارج سارٹن نے ہسٹری آف سائنس، "Chinese were the first to perceive the directive property of the magnetic needle, but they failed to use it to any rational purpose۔The first practical use of magnetic needle is credited by the Chinese themselves to foreigners, Muslims۔"[61] اس آلے کی مدد سے جہاز رانی میں بہت آسانی ہوئی۔مسلمانوں کے لیے شاید اس کا اولین فائدہ خانہ کعبہ کا رخ تلاش کرنا تھا۔اسی طرح ایک سروے انگ کے آلے جس کو تھیوڈ ولائٹ (theodolite) کہتے ہیں ، وہ بھی مسلمانوں کی ہی ایجاد ہے۔اسلامی اسپین کے سائنس داں ابو الصلت نے 1134ء میں ایک ایسا حیرت انگیز آلہ ایجاد کیا تھا جس کی مدد سے ڈوبے ہوئے جہاز کو سطح آب پر لایا جا سکتا تھا۔اسلامی اصطرلاب اصطرلاب دو ہزار سال پرانا آلہ ہے۔ہیت کا یہ آلہ اندازاً 400 قدم سے پہلے بنایا گیا تھا۔ایسٹرو کے معنی ہیں ستارہ اور لیب کے معنی ہیں دیکھنا یا معلوم کرنا۔اس کا سب سے زیادہ استعمال اور ترقی نویں صدی میں اسلامی دنیا میں ہوئی۔مسلمانوں میں پہلا اصطرلاب ابراہیم الفزاری نے 796 ء میں بنایا تھا ( الفہر ست الندیم ، جلد اول صفحہ 649)۔اس کے بعد جن نامور موجدوں اور آلات سازوں نے یہ آلہ بنایا ان کے اسمائے گرامی یہ ہیں: النیریزی (922ء)، الخازنی ( کتاب زیج الصفيحہ )، النجدی (992ء ، اس نے سدس الفخری بنایا، یورپ میں سیکس ٹینٹ کا آلہ اس کی نقل تھا)، الجلیلی (1029ء)، البیرونی، رستم الکوہی، ابوسعید سنجاری، الزر قلی (1088، صفحہ ) ، بدیع الزماں اصطرلابی (1140ء، گلوب بھی بنایا ) ،مظفر الطوسی (1213ء، 1068ء میں طلیطلہ میں بنے ہوئے کرپ فلکی کے نقشے پرمینی اصطرلاب کی سامنے کی تصویر 1068ء میں طلیطلہ میں بنے ہوئے کرۂ فلکی کے نقشے پر مبنی اصطرلاب کی پشت کی تصویر