مسلمانوں کے سائنسی کارنامے — Page 103
193 192 کرتی تھیں۔قرون وسطی کے اسلامی ممالک میں واٹر ریز رنگ مشینز یعنی سقایہ (جانور سے چلنے والا کنواں ) اور نور یا واٹر وھیل ) کا ذکر بھی ملتا ہے۔بلاذری نے نور یا کی تعمیر کا ذکر اپنی کتاب میں کیا ہے۔المقدسی نے اہواز (خوزستان) میں دریا کے کنارے نوریاؤں کا ذکر کیا ہے۔الا در یسی نے اسپین کے شہر طلیطلہ ( ٹولیڈو) میں ہائیڈرالک انسٹالیشن (hydrolic installation) کا حوالہ دیا ہے جس میں نو ریا سے پانی پچاس فٹ کی بلندی تک لایا جاتا تھا اور اسے آبی ذخیرے (Aqueduct) میں اکٹھا کر کے شہر کو سپلائی کیا جاتا تھا۔قرطبہ کی جامع مسجد میں وضو کے لئے پانی قریبی پہاڑوں سے پائپوں کے ذریعے لایا جاتا تھا۔پن چکی کی ایجاد پن چکی کی ایجاد اور اس صنعت کی ترقی بجستان ( افغانستان ) میں ہوئی تھی۔نویں صدی میں بنو موسیٰ نے کتاب الحیل میں اس کا ذکر کیا ہے۔مسعودی نے مروج الذھب (947ء) میں پن چکی کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اس کے ذریعے پانی کنوؤں سے سطح زمین پر باغوں کی آبیاری کے لئے لایا جا تا تھا۔الا مطحوری نے المسالک والممالک ( قاہرہ 1961 ء) میں لکھا ہے کہ سیستان میں پن چکیاں دسویں صدی میں کثیر تعداد میں زیر استعمال تھیں۔سرولیم میور (Muir) نے اپنی کتاب دی کیلیفیٹ (1915) The Caliphates) میں لکھا ہے کہ حضرت عمر فاروق کے عہد خلافت میں عرب میں پن چکی تھی۔الدمشقی نے اپنی کتاب نخبتہ الدھر میں لکھا ہے کہ پن چکیاں قلعوں کے میناروں پر یا پہاڑوں کی چوٹیوں پر تعمیر کی جاتی تھیں۔پن چکی کے خانے میں چکی کے پاٹ (mill stone ) ہوتے تھے اور زیریں خانے (lower chamber) میں روٹر (rotor) ہوتے تھے۔اس کا محور (axle ) عمودی ہوتا تھا۔اس میں چھ یا بارہ پنکھے ہوتے تھے۔یورپ میں اس کا ذکر 1105ء کے فرانسیسی چارٹر (French Charter) میں ملتا ہے۔پن چکیاں پانی نکالنے کے علاوہ آنا یا کئی پینے کی چکیاں چلانے میں بھی استعمال ہوتی تھیں۔مصر میں گنے کو کچلنے کے لئے بھی انہیں استعمال کیا جاتا تھا۔ویسٹ انڈیز ( گیا نا ٹرینی ڈاڈ ) میں پن چکیاں مصر کے کاریگروں ہی نے لگائی تھیں جن کو شکر بنانے میں استعمال کیا جاتا تھا۔1۔Brick pier 2۔Main-post 4۔Quarter-bar 5۔Retaining strap 6۔Heel of main-post A typical East Anglian post-mill 7۔Centering wheels 8۔Crown-tree 9۔Side-girt 10۔Brace 11۔Cap-rib 12۔Steps or ladder 13۔Weather-beam 14۔Wind-shaft 15۔Tail-beam 16۔Sail-stock مسلمانوں کی ایجاد کردہ پن چکی 3۔Cross-tree مسلمان جغرافیہ دانوں نے اپنی کتابوں میں محراب والے پکی اینٹوں یا پتھروں کے پلوں کا بھی ذکر کیا ہے جو اسلامی عہد سے قبل رومن یا ساسانی عہد سے تعلق رکھتے تھے۔الا دریسی نے قرطبہ میں دریائے وادی الکبیر پر رومن عہد کے بہت سے محراب والے پل کا ذکر کیا ہے (راقم الحروف نے 1999ء میں اسپین کی سیاحت کے دوران اس پل پر چل کر