مسلمانوں کے سائنسی کارنامے — Page 102
ELEVATION Section AA 191 }} 190 الجزاری کی بنائی ہوئی چوتھی واٹر ریزنگ مشین تقی الدین نے 1560ء میں پانی سے چلنے والے پمپ کا ذکر کیا جس میں چھ سلنڈر تھے۔ہائیڈرالک انجینئر نگ کے موضوع پر عراق میں گیارہویں صدی میں دو کتا بیں لکھی گئی تھیں۔پہلی کتاب کا مصنف الحسن الحسیب الکراجی (1029ء) تھا اس کا نام انباط المياء الخفیہ ہے یعنی چھپے ہوئے پانی کے ذخیرے کو سطح پر لانا۔کتاب کے پانچویں باب میں سروے انگ(surveying) اور سروے انگ انسٹرو مینٹس (surveying instruments) پر معلومات ہیں۔دوسری کتاب عراق میں نہروں کی تعمیر اور ان کی دیکھ بھال پر ہے۔الا دریسی نے بھی قرطبہ میں واٹر ڈیم کا ذکر کیا ہے جو خاص قسم کے پتھر سے بنایا گیا تھا۔اس کے ستون سنگ مرمر کے تھے۔ڈیم میں تین مل ہاؤسز تھے، ہر عمارت میں آنے کی چار میں تھیں۔یہ چکیاں عرصہ دراز تک زیر استعمال رہیں۔[59] المقدسی نے بیان کیا ہے کہ دریائے دجلہ کے سرچشمے پر ایک مل واٹر پاور سے کام کرتی تھی۔الا مسٹری نے لکھا ہے کہ ایران کے صوبہ کرمان میں ایک دریا کے سرچشمے پر ہیں ملیں کام AL ELEVATION Section BB PLAN تقی الدین کا بیان کیا ہوا پانی سے چلنے والا چھ سلنڈ روالا پسٹن پمپ (سولہویں صدی)