مسلمانوں کے سائنسی کارنامے

by Other Authors

Page 86 of 128

مسلمانوں کے سائنسی کارنامے — Page 86

159 158 پہلے سماجی زندگی کا نظریہ پیش کیا۔وہ علم اخلاق کا نکتہ داں تھا۔ابن سینا، ابن رشد، ابن میمون جیسے فلسفی اس کے نقیب تھے۔جدید فلسفے کا بانی جرمن فلسفی ایمانوئیل کانٹ (Emanuel Kant) اور الفارابی کے نظریہ عقل کے تقابلی مطالعے سے یہ نتیجہ مستنبط ہوتا ہے کہ کانٹ الفارابی کے نظر یہ عقل سے متاثر تھا۔آئینہ دار اس کی کتاب الشفاء 18 جلدوں میں ہے۔جرمن زبان میں اس کا ترجمہ ڈاکٹر ہورٹن (Dr۔Horton) نے شرح کے ساتھ شائع کیا تھا۔اس کی دوسری کتابوں میں کتاب الاشارات و التنبيهات، كتاب النجات، مقاله في النفس، كتاب الموجز الكبير، علم المنطق، رساله حي بن يقظان، فلسفہ مشرقیه، رساله في العشق تعليقات ، تاويل الرؤيا، عشر مسائل ابوریحان البیرونی ہیں۔شیخ کے فلسفیانہ نظریات کی واضح جھلک یورپ کے فلسفی ڈیکارٹ (Descarte) میں پائی جاتی ہے۔ابن سینا نے اپنی کتابوں میں جن مسائل پر قلم اٹھایا وہ گونا گوں ہیں نفس کیا ہے؟ عشق کیا ہے؟ نباتاتی ارتقا، واجب الوجود ، عقل اور ایمان ، فلسفہ اخلاق، عارف کی صفات، تصوف و شریعت۔اس کا فلسفہ تیرہویں صدی تک یورپ میں پورے زور وشور سے پڑھایا جاتا تھا اور مشرق و مغرب میں اسے بڑی قدر و منزلت سے دیکھا جاتا تھا۔اس کے فلسفے کا امتیازی وصف یہ ہے کہ اس نے یونانی فلسفہ اور اسلامی تعلیمات میں تطبیق کی بھر پور کوشش کی۔اس کے نزدیک انسان اعمال میں آزاد ہے۔مسرت قرب یزداں اور الم بعد یزداں ہے۔نماز میں روح اللہ سے ہم کلام ہوتی ہے۔انسان پر اللہ کی سب سے بڑی نوازش عقل ہے نہ کہ مذہب۔اور اک خدا عقل کا انتہائی نقطہ کمال ہے۔الفارابی کے اشہب قلم سے 160 کتابیں نمودار ہوئیں جن میں سے پچاس فلسفے پر ہیں۔ان میں سے چند یہ ہیں: کتاب الاخلاق، کتاب في العلم الالہی ، كتاب سياسية المدنية مطبوعه حیدر آباد دکن 1968ء) ، کتاب فی الجن ، کتاب شرح السماء والعالم، کتاب الرد علی جالینوس، كتاب النجوم بتحصيل السعادة رسالة فى العقل، كتاب في اسم الفلسفه، کتاب الرد على الرازی، المدنية الفاضلة (مطبوعہ لیڈن 1891ء) ، ماہیتہ النفس، فی الخلاء۔جیرارڈ آف کریمونا اور جان آف سیولے نے اس کی متعدد کتابوں کے لاطینی میں ترجمے کیے۔احصاء العلوم (Survey of Sciences) کو عثمان امین نے مدون کر کے قاہرہ سے 1949ء میں شائع کیا تھا۔ابن سینا (1037-980ء) شہرہ آفاق فلسفی ،عبقری طبیب، سائنس داں ، عالم وحکیم، مہتم بالشان کتابوں کا مصنف تھا اسی لئے اس کو شیخ الرئیس علم و حکمت کا بادشاہ ) کا لقب دیا گیا۔اس کی تصنیفی قابلیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہ اہم سے اہم کتاب کو مطالعہ اور کسی کتاب کی مدد کے بغیر محض اپنی یادداشت سے لکھوا تا تھا۔چنانچہ ایک دفعہ جب کسی سیاسی خطرے پر مرتب کیا اور اس کے حق میں عقلی دلائل دیے۔اشارات میں اس نے کلیات تصوف، عارفوں کے پیش نظر ابو غالب کے گھر میں روپوش تھا تو کسی کتاب کی مدد کے بغیر اس نے کتاب الشفاء کے ہیں جز و یادداشت سے لکھوائے۔اس نے اپنی تصنیفات میں جدید معلومات کا اضافہ کیا مثلاً علم ہئیت کے ایسے مسائل حل کیے جو اس کے پیشرو محققین کے ذہن میں نہیں آئے تھے۔موسیقی میں ایسے مسائل اختراع کیے جن سے قدما بے خبر رہے۔رصد کے نئے آلات ایجاد کیے۔متعدد کتابیں دوسروں کی تحریک پر زیب قرطاس کیں۔شیخ نے فلسفہ پر 22 کتابیں اور معارف رسائل لکھے۔جدت فکر اور ندرت اظہار کی شیخ بوعلی سینا کا سب سے بڑا علمی کارنامہ یہ ہے کہ اس نے تصوف کو سائنسی اصولوں کے درجات اور ان کے حالات پر بحث کی۔اس نے معجزات، کرامات، وحی اور الہام کا سبب تاثیر نفسانی کو قرار دیا۔گیارہویں صدی میں جدید فلسفہ اخلاق کے بانی ، علم نفسیات اور فلسفے سے عظیم محقق امام محمد بن احمد الغزالی (1111ء) نے فلسفے کے موضوع پر سخت محنت، دیده ریزی، خاره شگافی سے کئی شاہکار کتابیں قلم بند کیں جن میں احیاء العلوم ، مقاصد الفلاسفة، تحافة التحافة،