مسلمانوں کے سائنسی کارنامے

by Other Authors

Page 8 of 128

مسلمانوں کے سائنسی کارنامے — Page 8

3 2 جاتا تھا یوریکا۔گیا۔مجھے مل گیا۔یوریکا (Eureka۔۔۔Eureka) مجھے مل یونانی آرکی ٹیکچر (Architecture) میں جیومیٹری (Geometry) کے علم کا بہت حصہ تھا۔یونان کا سنہری دور 600 ق م تھا۔عمارتوں کی تعمیر میں فزکس (Physics) کا استعمال کیا گیا نیز جنگ کے دوران بھی اس علم سے فائدہ اٹھایا گیا۔یونانیوں نے علیم ہئیت (Astronomy) سے علم میں خاطر خواہ اضافہ کیا۔یونانیوں نے ہی نظریاتی سائنس (theoretical science) کی بنیاد رکھی جب اپنے ارد گرد کی دنیا کے بارے میں انہوں نے سوالات اٹھانے شروع کیے۔انہوں نے یہ جانے کی کوشش کی کہ چیزیں کہاں سے آئیں اور کس طرح بنائی جاتی ہیں؟ اس عظیم اور دیر پا تہذیب نے جو علما اور مشہور سائنس داں پیدا کیے ان میں سے چند کے نام یہ ہیں: بقراط، جالینوس (طب)، بطلیموس ( علم ہیت، جغرافیہ)، سقراط، افلاطون، ارسطو (فلسفه)، ہیروڈوٹس ( علم تاریخ ) اور ہومر ( شاعری)۔ان سائنس دانوں کی چند مایہ ناز تخلیقات کی سرسری تفصیل یہ ہے: بقراط: Elements، افلاطون: Republic ، ارسطو Conic Sections Poetics, Rhetoric، اقلیدس : Elements، اپالو نیوس: Conics ارشمیدس: The Sphere and the Cylinder۔شومی قسمت سے تیسری صدی قبل مسیح کے بعد یہ قوم زوال پذیر ہوگئی اور رفتہ رفتہ اس کا نام صفحہ ہستی سے مٹ گیا۔ہوا یہ کہ یونان جب اپنے اقتدار کے اوج کمال پر تھا تو یہ اپنے پڑوسی ملکوں کے ساتھ جنگ و جدال میں مصروف ہو گیا اور سلطنت روما یعنی رومن ایمپائر (Roman Empire) سے جنگ میں بری طرح شکست سے دوچار ہوا۔جب یونان رومن ایمپائر کا حصہ بن گیا تو سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی رک گئی علمی گہوارے کھنڈروں میں تبدیل ہو گئے اور سائنس داں پیدا ہونا بند ہو گئے۔سائنس کی ترویج و ترقی میں مصر کے قدیم ترین شہر اسکندریہ نے بھی حصہ لیا۔323 ق م میں سکندراعظم کی وفات کے بعد اس کی سلطنت مختلف حصوں میں بٹ گئی۔مصر پر اس کے ایک جنرل بطلیموس (Ptolemy) نے قبضہ کر لیا اور اگلے تین سوسال تک اس کا خاندان یہاں حکمراں رہا۔اس خاندان کے ایک حکمراں نے یہاں ایک لائبریری اور میوزیم کی بنیاد رکھی اور یہ شہر جلدی ہی سائنسی علوم کا مرکز بن گیا۔اس لائبریری کے دو مشہور ڈائریکٹر آرشمیدس اور جالینوس تھے۔اسکندریہ کی اکیڈمی (Academy) میں ایک ممتاز ریاضی داں بھی تھا جس کا نام اقلیدس (Euclid 330-260 BC) تھا۔اس نے بے مثل کتاب جیومیٹری کے عناصر ( Elements of Geometry) لکھی۔اگلے دو ہزار سال تک یہ کتاب محققوں اور ریاضی دانوں کے زیر مطالعہ رہی۔اقلیدس نے علم مناظر پر بھی ایک اہم کتاب لکھی۔اس کی اکثر کتابوں کے تراجم عربی میں کیسے گئے۔سلی (Sicily) کا رہنے والا آرشمیدس (BC 287-212) عہد قدیم کا ریاضی داں تھا۔جبکہ اس کا باپ علم ہئیت میں مہارت رکھتا تھا۔اسکندریہ میں اس کی ملاقات اقلیدس کے شاگردوں سے ہوئی۔پانی نکالنے کے لئے ارشمیدس نے چکر دار پیچ مصر میں ہی ایجاد کیا تھا۔اس نے بہت ساری میکانیکی ایجادات بھی کیں جیسے لیور مخلوط چرخی وغیرہ۔اس نے علیم سکون سیالات (Hydrostatics) کا قانون وضع کیا۔اس کی وفات کے بعد اس کی قبر پر ایک کرہ اور اس کے گرد ایک سلنڈر نقش کرایا گیا تھا۔اسکندریہ میں ایک اور عظیم سائنس داں گزرا ہے جس کا نام بطلیموس ( Claudius Ptolemy 100-178 AD) تھا۔اس نے جغرافیہ اور ہئیت پر اہم کتابیں لکھیں۔اس کی کتاب لی (Al-Magiste) کا مطالعہ سائنس داں پچھلے دو ہزار سال سے کرتے آرہے ہیں۔اس سٹیک کتاب کا یونانی نام میکالے میتھمیٹک سنہ ہے اور اس کا مخفف مجسطی سنیکس (Magiste Syntaxis) ہے۔عرب مترجمین نے اس کا (Megale Mathematike Syntaxis)