مسلمانوں کے سائنسی کارنامے — Page 70
127 126 رہتے تھے اور عربی زبان بولتے تھے یونانی یا قبطی زبان سے کتابیں عربی میں ترجمہ کروائیں۔ان حکماء میں سے اسکندریہ کے اسٹیفن (Stephen of Alaxandria) نے کیمیا کی متعدد کتابوں کے ترجمے کیے۔جابر ابن حیان (817ء) کو علم کیمیا کا جد امجد تسلیم کیا جاتا ہے۔وہ علم کیمیا کا محقق اور بے شمار کیمیائی مرکبات کا موجد تھا۔اس نے علم کیمیا پر تین سو کے قریب شاہکار کتابیں اور پُر از معلومات رسالے سپرد قلم کیے جن کی فہرست ابن ندیم نے اپنی شہرہ آفاق کتاب الفہر ست میں دی ہے۔اس کی ترجمہ شدہ کتابوں میں کتاب الملک (Book of Kingdom) اور کتاب الریاض (Book of Balance) انگریزی میں دستیاب ہیں۔بقول پروفیسر ہتی ، جابر ابن حیان کی کتب نے یورپ اور ایشیا کے علم کیمیا پر گہرا اثر چھوڑا۔اس کی کتاب الکیمیا کالا طینی ترجمہ را برٹ آف چیسٹر نے 1144ء میں کیا۔جبکہ کتاب السبعین کا ترجمہ جیرارڈ آف کر یہونا نے 1187ء میں کیا۔(یادر ہے کہ رابرٹ آف چیسٹر نے سب سے پہلے 1145ء میں قرآن پاک کا ترجمہ لاطینی میں کیا تھا )۔جابر حضرت امام جعفر صادق " 765-700 ء کا شاگرد عزیز تھا۔طوس میں اس نے جان جان آفریں کے سپرد کی۔بوقت رحلت اس کے تکیے کے نیچے کتاب کا مسودہ تھا۔تذکرہ نگاروں نے لکھا ہے کہ جابر ابن حیان کی تجربہ گاہ شہر کوفہ میں دریائے دجلہ کے کنارے پر تھی جس کے آثار قدیمہ اس کی وفات کے دو سو سال بعد کوفہ کے باب دمشق کے پاس مکانوں کو منہدم کرتے ہوئے دریافت ہوئے تھے۔جابر نے کیمیائی تجربات میں کمال پیدا کر کے اس کے اصول اور قواعد مرتب کیے جو ہزار سال گزرنے کے باوجود آج تک مستعمل ہیں۔اس کے کچھ کار ہائے نمایاں درج ذیل ہیں: (۱) عمل تصعید سے دواؤں کا جو ہر اڑانا (sublimation)۔اس طریقے کو جابر نے سب سے پہلے اختیار کیا (2) اس نے قلمیں بنانے (crystallisation ) کا طریقہ دریافت کیا (3) کشید (Distillation) کا طریقہ اس نے ایجاد کیا (4) اس نے تین قسم کے نمکیات معلوم کیے۔(5) اس نے دھات کو جسم کر کے کشتہ بنانے (oxidisation) کا طریقہ دریافت کیا (6) اس نے کئی قسم کے تیزاب بنائے جیسے نائٹرک ایسڈ (nitric acid ) ، ہائیڈروکلورک haniu F A رت ساله تیرہویں صدی عیسوی میں لکڑی کے چولہے پر گرم ہوتے ہوئے aludel میں گیسوں کی گردش دکھائی گئی ہے ایسڈ (hydrochloric acid)، سلور نائیٹریٹ (silver nitrate)، امونیم کلورائیڈ (ammonium chloride)۔ان کے بنانے کے طریقے اس کی کتاب صندوق الحکمۃ میں دیے گئے ہیں۔(7) چمڑے اور کپڑے کو رنگنے کا طریقہ دریافت کیا (8) محقق جابر نے بالوں کو سیاہ کرنے کے لیے خضاب تیار کیا (9) جابر کی سب سے اہم ایجاد قرع انبیق ہے جو عرق کھینچنے کا آلہ ہے۔اس کے ذریعے عرق کشید کرنے سے جڑی بوٹیوں کے لطیف اجزا حاصل ہوتے ہیں۔(10) اس نے کپڑے اور لکڑی کو واٹر پروف کرنے کے لیے وارنش ایجاد کی۔(11) اس نے گلاس بنانے میں مینگنیز ڈائی آکسائیڈ (mangnese dioxide) تجویز کیا۔(12 ) اس نے بتایا کہ لوہے کو صاف کر کے فولاد بنا یا جا سکتا ہے۔وہ دھات صاف کر نے کے کام یعنی