مسلمانوں کے سائنسی کارنامے

by Other Authors

Page 63 of 128

مسلمانوں کے سائنسی کارنامے — Page 63

113 112 بادشاہ ولیم آف پیس (Wilhelm of Messe متوفی 1592ء) نے کاسل (Kassel) کے شہر میں رصد گاہ بنوائی جس میں استعمال ہونے والے تمام کے تمام آلات یا تو اسلامی ممالک سے لائے گئے تھے یا ان کی نقل کر کے نئے آلات بنائے گئے تھے۔کو پرٹیکس نے اپنی رصد گاہ میں جو آلات استعمال کیے وہ مراغہ کی رصد گاہ میں بنائے گئے تھے۔پھرٹا ئیکو برا ہے نے یورانے برگ (Uraniborg) میں جو ہئیت کے آلات استعمال کیسے جیسے ,Quadrant, Azimuth armillary sphere، وہ بھی اسلامی تھے۔انڈسی ماہر ہئیت جابر ابن افلح نے بھی ایک آلہ ایجاد کیا تھا جس کا نام ٹور کے ٹم (Torquetum) تھا جو یورپ میں مقبول عام تھا۔9 امراض العین مصر میں لوگ اکثر آشوب چشم میں مبتلا رہتے تھے، اس صورت حال کے پیش نظر وہاں امراض العین (Opthalmology) پر بطور خاص تحقیق کی گئی ، خاص طور پر فاطمی خلیفہ الحاکم کے دور خلافت میں اس موضوع پر بڑا کام کیا گیا۔اسی طرح مشرق وسطی کے دوسرے ممالک میں رہنے والے باشندے آنکھ کے امراض سے دو چار رہتے تھے، چنانچہ مسلمان اطبا نے نویں اور دسویں صدی میں امراض چشم کے علاج کے لیے کافی و شافی علاج نکالے۔آنکھ کی سرجری اور موتیا بند کے آپریشن قاہرہ ، بغداد اور دمشق میں عام تھے۔موتیا بند کا پہلا آپریشن شاید مصر میں 1256ء میں کیا گیا تھا۔مسلمان اطبا نے 800 ء سے 1300ء کے عرصے میں ساٹھ آئی سرجن (eye surgeons) اور ماہرین چشم (specialists) پیدا کیے جبکہ یورپ میں کسی ایک کا بھی حوالہ نہیں ملتا۔ڈھائی سو سال کے عرصے میں مسلمان ماہرین نے امراض چشم پر اٹھارہ کتابیں لکھیں جبکہ قدیم یونانی حکماء نے ایک ہزار سال میں اس موضوع پر پانچ کتابیں لکھی تھیں۔اسی طرح مسلمان حکماء نے اس موضوع پر کل تمیں کتابیں لکھیں جن میں چودہ ابھی تک خوش قسمتی سے دستیاب ہیں۔اس میدان میں جن نامور اطبا نے موشگافیاں کیں ان میں سے چند ایک کے نام یہ ہیں۔علی ابن عباس اہوازی چنین ابن اسحق، علی بن عیسی ، زکریا رازی ، ابن سینا، ابن رشد - ان ماہرین امراض عین کی طوطی پانچ سو سال تک بولتی رہی۔امراض العین میں جو اہم اور چونکا دینے