مسلمانوں کے سائنسی کارنامے

by Other Authors

Page 57 of 128

مسلمانوں کے سائنسی کارنامے — Page 57

101 100 غیاث الدین الکاشی (1429ء) ممتاز ریاضی داں اور علم فلکیات کا ماہر تھا۔اس کا لقب مولانائے عالم ( عربی میں مولانا کا مطلب سائنس داں ہے ) تھا۔ریاضی میں اس کی مفتاح الحساب اور فی حساب الہند مشہور تھیں۔علم فلکیات میں اس نے پانچ قابل قدر کرتا ہیں لکھیں بسلم السماء (Stairway to Heaven) کروں کے سائز اور فاصلوں پر تھی۔مختصر در علم الہئیت ( مخطوطه بر ٹش میوزیم ) ، خاقانی زیج ، نزہت الحدائق ( اس کتاب میں ایک آلہ رصد کا ذکر ہے جو اس نے ایجاد کیا تھا )۔رسالہ در شرح آلات رصد میں آٹھ آلات کا ذکر کیا ہے جن میں سے چھہ یہ تھے: سی۔اے۔نالینو(C۔A۔Nallino) کی اس کتاب سے ہوتا ہے جس میں عرب ہئیت دانوں کے حالات زندگی چار جلدوں میں روم سے 1911ء میں بڑے اہتمام سے شائع ہوئے ہیں۔اس کی عربی اشاعت علم الفلك عند العرب في القرون الوسطی جو دراصل ایک جلد میں چاروں جلدوں کی تلخیص ہے، اس کا ایک نسخہ راقم السطور نے حال ہی میں امریکہ کے نایاب کتابوں کے بنک اسٹور abebooks۔com سے حاصل کیا ہے۔Triquetrum, Armillary Sphere, Equinoctial Ring, Double Ring, Fakhri Sextant, Small Armillary Sphere۔[29] بعض لوگ کہتے ہیں کہ مسلمانوں نے یونانی علما کی نقل کی اور بذات خود سائنسی علوم میں کوئی خاص اضافہ نہیں کیا۔یہ بات قطعا غلط ہے۔اس کی ایک روشن مثال اندلس کا بہیت داں جابر ابن افلح ہے جس نے بطلیموس کی مستند کتاب الجسطی میں غلطیاں تلاش کیں اور اصلاح مجسطی لکھی۔اس کے دیباچے میں اس نے مجسطی کی ان غلطیوں کی فہرست پیش کی ہے۔شیرازی نے اس کتاب کا خلاصہ لکھاتھا۔جیرارڈ آف کر میمونا نے اس کالاطینی میں ترجمہ کیا۔اس کتاب کا اثر یورپ کی ٹریگا نومیٹری پر بہت تھا۔یورپی عالم ایس بریڈن (S۔Bredon) نے اسطی کی جو شرح لکھی تھی اس کا زیادہ تر حصہ جابر کی کتاب کا چربہ تھا۔جرمن سائنس داں ریجیو مان تانس (Regiomontanus) نے 1460ء میں کتاب ڈی ٹرائی اینگولس (De Triangulis) D کمی جس کا چوتھا باب اصلاح المجسطی کی صریح نقل تھا۔یادر ہے کہ قرونِ وسطیٰ کا ہر عالم ہیت کا ماہر بھی ہوتا تھا گویا ہیت کے مطالعے کے بغیر عالم کہلانا غیر ممکن تھا۔ایک ہزار سال گزرنے کے باوجود ہئیت کی اہمیت کو ہر سائنس داں تسلیم کرتا ہے شاید اسی وجہ سے اسے کو مین آف سائینسز (Queen of Sciences) بھی کہا جاتا ہے۔علم فلکیات میں فی الحقیقت مسلمانوں کی شاندار تحقیقات کا اندازہ اٹلی کے محقق