مسلمانوں کے سائنسی کارنامے — Page 56
99 98 نے ایران میں ایک نیا جلالی کیلنڈر مارچ 1079ء میں شروع کیا جو جولیئن (Julian) اور گریگورین (Gregorian) کیلنڈروں سے ہزار درجہ بہتر ہے۔اس کیلنڈر کے مطابق 3770 سال میں ایک دن کا فرق پڑتا ہے۔لیپ ائیر (leap year ) کا تصور سب سے پہلے اس نے ہی پیش کیا تھا۔اہلِ ایران ان کو دز دیدہ ( چرائے ہوئے ) دن کہتے ہیں۔اس نے سال کی مدت 365۔24219858156 دن نکالی جبکہ اس وقت کمپیوٹر نہیں ہوتے تھے۔اس کی کتاب الجبر والمقابلہ کا مطالعہ قرون وسطی میں یورپ کی تمام جامعات میں کیا جاتا تھا۔اس کا ترجمہ فرانس کے فاضل مستشرق وہ پکے (Woepke) نے 1851ء میں فرانسیسی میں کیا۔اس شاندار کتاب میں اس نے ریاضی کے ایک ایسے مسئلے کا حل اپنی ارفع علمی اور ذہنی قابلیت سے پیش کیا تھا جس کا نام اب یورپ میں پاسکل ٹرائی اینگل (Pascal's Triangle) ہے۔اس نے بائی نومتیل تھیورم (Binomial theorem) اور کو ایفی شیئنٹس (co-efficients) ایجاد کیسے نیز جیومیٹری میں اس نے نظریہ متوازی خطوط ( theory of parallel lines) پیش کیا جس کا استعمال نامور ریاضی داں ڈیکارٹ (Descartes ) نے خوب کیا۔علم ہئیت میں زیج ملک شاہی اور رسالہ مختصر طبیعات اس کی مشہور کتا بیں ہیں۔اگر چه ابن رشد (1198ء) کی شہرت ارسطو کی کتابوں کے شارح اور تلخیص نگار کی حیثیت سے ہے مگر بطور بیت داں بھی اس کا مرتبہ کچھ کم نہیں ہے۔اس میدان میں اس کا یادگار کارنامہ یہ ہے کہ اس نے سن اسپائس دریافت کیے۔وہ بیت میں مختلف نظریات کی تاریخ سے بخوبی واقف تھا۔اس نے افلاک میں موجود اجرام کے مشاہدے (یعنی رصد ) کی اہمیت بیان، کی۔ایک نکتہ داں ماہر ہیت ہونے کے ناطے اس نے اجرام فلکی کو تین قسموں میں تقسیم کیا: (1) وہ جو انسانی آنکھ سے نظر آتے ہیں (2) جو آلات بئیت کی مدد سے نظر آتے ہیں اور (3) ایسے اجرام فلکی جن کا ہونا عضل سے ثابت ہوتا ہے مگر ان کو دیکھنے کے لیے کئی نسلوں کے درمیان باہمی تعاون ضروری ہوتا ہے مثلاً ہیلیز کامٹ (Halley's Comet)۔ہئیت پر اس نے جو قابلِ ذکر یں ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا م ای وی را تاک والثوابت ، کتاب اقلیدس فی المجسطی۔ابن رشد کی طرح اندلس میں علم فلکیات کے ایک اور عالم عریب ابن صاعد (981ء) نے اس موضوع پر اہم کتاب لکھی جس کا نام کتاب تفصیل الزمان و مسائل الا بدان تھا۔ابوعلی الحسن المراکشی (1281ء ، مصر) نے اسفریکل ایسٹرونومی (Spherical astronomy) اور ٹائم کیپنگ (time keeping) اور آلات ہیت پر منحنیم انسائیکلو پیڈیا لکھا۔یہ اسلامی آلات ہئیت اور رصد پر اہم کتاب تھی۔شمس الدین سمرقندی (1276ء ) نصیر الدین طوسی اور قطب الدین شیرازی کا ہم عصر تھا۔ریاضی میں اس نے کتاب اشکال التاسیس لکھی جس کی شرح قاضی زادے نے کی۔تذکرة الہیہ ہئیت پر اس کی مشہور کتاب کا نام ہے۔اس نے 77-1276ء کی ستاروں کی ایک فہرست (star catalogue) تیار کی۔علم کلام پر اس نے رسالہ فی آداب الحث لکھا جس کی متعد دلوگوں نے شرحیں کیں۔زکر یا این محمد القزوینی (1283ء ایران ) نے کاسموگرافی پر عجائب المخلوقات وغرائب الموجودات لکھی جس کے تراجم اس کی ندرت خیال کے پیش نظر فارسی اور ترکی زبان میں کیے گئے۔جرمن محقق وستن فلڈ نے اس کو مدون کر کے 1849ء میں گوئیسنکن (جرمنی) سے شائع کیا۔1986ء میں اس کا جرمن ترجمہ Die Wunder des Himmels und der Erde کے عنوان سے شائع ہوا۔وہ جغرافیہ پر آثار البلاد واخبار العباد جیسی اہم کتاب کا بھی مصنف ہے۔ظریف الطبع ، شگفتہ مزاج قطب الدین شیرازی (1332ء) نے علم الفلک پر نہایة الا در اک فی درایۃ الافلاک اور التفتہ الشاہیہ عربی میں تحریر کیں اور فارسی میں جہانِ دانش لکھی۔اس کے علاوہ اس نے القوی کی فلکیات پر کتاب تذکرۃ کی شرح بھی لکھی۔خوشیار این لبان الجلیلی نے دو تیح الجامع اور البلیغ تیار کیں۔ابلیغ کا قلمی نسخہ برلن لائبریری میں موجود ہے۔