مسلمانوں کے سائنسی کارنامے

by Other Authors

Page 53 of 128

مسلمانوں کے سائنسی کارنامے — Page 53

93 92 زيج الكبير ، زيج الصغیر۔ان کتابوں کو لاطینی زبان میں جیرارڈ آف کر یمونا نے منتقل کیا۔ابن خلکان نے اس کی تین کتابوں کا ذکر کیا ہے۔مدخل ، الوف (ایک ہزار ) ، اور زیج [26]۔محمد ابن الحسین ابن العادامی (دسویں صدی) نے زیج نظم العقد تیار کی جو اس کی وفات کے بعد اس کے روشن خیال شاگر د ہشام المدنی نے پایہ تکمیل تک پہنچائی۔مشاہدہ افلاک کے جامع انظر ماہر جابر الجنانی (929ء) نے بیالیس برس تک اجرام سماوی کے مطالعے کے بعد مبسوط کتابیں قلم بند کیں جیسے کتاب الزیج ، کتاب مطلع البروج (zodiac)، کتاب اقدار اتصالات ، شرح کتاب اربع لبطلیموس۔اس نے آفتاب اور ماہتاب کے جو مشاہدات کیے تھے ان کا استعمال یورپ میں 1749ء میں کیا گیا تھا۔مثلاً ڈن تھارن (Dunthorn) نے اس کا نظریہ چاند کی عام رفتار معلوم کرنے کے لیے استعمال کیا۔اس نے سورج کا مدار معلوم کیا۔سال کی مدت معلوم کی جو 365 دن 5 گھنٹے 46 منٹ اور 24 سیکنڈ تھی۔اس نے موسموں کی مدت معلوم کی۔مندرجہ ذیل حوالہ بھی اس کی علمیت پر دال ہے: His great discovery that the direction of the sun's eccentric as recorded by Ptolemy, was changing۔Expressed in terms of more modern astronomical conceptions, this is to say that the earth is moving in a varying ellipse۔[27] رابرٹ آف چیسٹر نے البانی کی اس کتاب کا جو تر جمہ کیا تھا وہ نا پید ہے البتہ اس کا ایک اور لاطینی ترجمہ بارہویں صدی میں Die Scientia Stellarim کے عنوان سے ہوا تھا جو 1537ء میں نیورمبرگ سے زیور طبع سے آراستہ ہوا۔یہ نادر ترجمہ ویٹیکن کی مشہور لائٹر مری میں نایاب کتابوں کے حصے میں محفوظ ہے۔ایک سو سال بعد اس کا اچینی ترجمہ پلیٹو آف ٹیوالی (Plato of Tavoli) نے کیا جو 1537ء میں طبع ہوا۔اطالوی محقق نالینو (Nallino) نے 1899ء میں ملان سے عربی متن ، لاطینی ترجمہ اور شرح تین جلدوں میں شائع کیا۔یورپ میں نشاۃ ثانیہ کے دور میں البتانی کی کتاب کا مطالعہ اہم اور بنیادی اہمیت کا حامل تھا۔جارج سارٹن کا کہنا ہے کہ البانی کے ستاروں کے مشاہدات نہایت صحیح اور عمدہ تھے۔میڈرڈ کی اسکو ریال لائبریری میں اس کی عربی زبان میں مرتبہ زیج ابھی تک محفوظ ہے۔جرمن ہئیت داں جو ہانس میولر (1476ء) نے البتانی کی زیج کی مدد سے دنیا کا ایک نقشہ تیار کیا جس کے دقیق مطالعے اور رہنمائی سے کرسٹوفر کولمبس نے نئی دنیا دریافت کی تھی۔عبد اللہ ابن اماجور (933-885ء ، ترکی ) اجرام فلکی کے مشاہدات کرنے میں مشاق تھا۔اس نے اپنے بیٹے ابوالحسن علی اور اپنے آزاد کردہ غلام ملح کے ساتھ ٹیم بنا کر یہ مشاہدات کیے، جیسا کہ ہمارے زمانے میں بھی سائنس داں گروپ بنا کر کسی پروجیکٹ پر کام کرتے ہیں۔ابن یونس نے ان کے چند مشاہدات کو ریکارڈ کیا تھا۔تینوں نے مل کر تین زیجیں بھی تیار کی تھیں جن کے نام الخالص، المنظر اور البدیع تھے۔سنان ابن ثابت (946-909 ء ) ثابت ابنِ قرۃ کا پوتا تھا۔اس نے مجسطی کی شرح لکھی نیز جیومیٹری اور آلات رصد (سن ڈائیل ) پر مقالے لکھے۔ابو محمود الجندی (1000ء ) ایرانی ہئیت واں تھا جس نے رے کے قریب ایک آلہ السدس الفخری بنا یا تھا۔بقول البیرونی اس نے یہ آلہ خود دیکھا تھا ، اس آلے میں ہر ڈگری کو 360 حصوں میں تقسیم کیا گیا تھا اور سیکنڈ بھی دکھائے گئے تھے۔ہئیت کا دوسرا آلہ جو اس نے بنا یا وہ آلاۃ الشمیلہ (comprehensive instrument) تھا۔یہ اصطرلاب اور قواڈرنٹ (quadarant) کا متبادل تھا۔اس نے رسالہ فی المیل وارض البلاد المشرق کے علاوہ زریج الفخری بھی تیار کی جس کا مسوده کتب خانہ مجلس ، تہران میں موجود ہے۔ابوالقاسم ابن الاعلم (985ء، بغداد ) کو عضد الدولہ کے دربار میں خلعت فاخرہ حاصل تھا۔اس کے فلکی مشاہدات کا ہر شخص مداح تھا۔اس کی زیج دوسو سال تک اہمیت کی حامل رہی۔آخر میں اس پر کچھ جنون کی کیفیت طاری ہوگئی تھی ، چنانچہ جوزیج اس نے مرتب کی تھی اس کو پانی میں ڈال دیا۔مگر حسن اتفاق کہ اس کا ایک نسخہ محفوظ رہا۔