مسلمانوں کے سائنسی کارنامے

by Other Authors

Page 120 of 128

مسلمانوں کے سائنسی کارنامے — Page 120

227 226 محمود ابن عمر نے سلطان ناصر الدین محمود (1449-1447ء) کے عہد میں تیار کیا تھا جو سلطان کے نام سے معنون تھی۔سلطان فیروز شاہ تغلق کے دور حکومت میں کتاب بری بات سمیت (Brihat Samhit) کا ترجمہ فارسی میں کیا گیا جس سے دنیا کو ہندوؤں کے علم ہئیت کی وسعت کا اندازہ ہوا۔اس کا عربی ترجمہ البیرونی اس سے قبل کر چکا تھا۔اسی طرح ہندوؤں کی کتاب سر یا سدھانتا ( عربی نام سند ہند ) بھی مسلمانوں کے علمی حلقوں میں وقعت کی نظر سے دیکھی جاتی تھی۔مہاراجہ جے سنگھ (1743-1699ء) کو علم ریاضی اور ہئیت سے بہت لگاؤ تھا اس نے ہندو، مسلم اور یورپین طریقہ مشاہدات کو زیر استعمال لا کر وارانسی (بنارس) میں 1710 ء میں ، دہلی میں 1724ء میں اور جے پور میں 1730ء میں جدید رصد گا ہیں تعمیر کروائیں ان میں پیتل سے بنے آلات استعمال کیے گئے تھے۔بعد میں یہی آلات مٹی اور اینٹوں سے بنائے گئے جیسے بر اس سرکلس اور ایکوئیٹیو ریل سرکس ( Brass circle and equatorial circles ) اس نے سنسکرت میں اصطرلاب پر کتاب بینت را را جارا کا نالکھی علیم بہیت میں اس کی دوسری کتاب جا تاوے نو دا تھی۔اس نے زیج محمد شاہی کے تیار کروانے میں دامے، درمے، قدمے مدد کی۔اس نے عربی میں موجود سائنس کی کتابوں کے سنسکرت میں تراجم بھی کروائے۔زیج محمد شاہی کی تیاری میں مسلمان، ہندو اور یورپین محققین نے حصہ لیا تھا۔ہندوستان سے ماہرین ہئیت انگلینڈ گئے اور فلپ ڈی ہائر (Phillipe de Hire) کے ہئیت کے جدول اپنے ساتھ لائے تاکہ ان کا موازنہ زیج محمد شاہی سے کیا جا سکے۔نظامیہ رصد گاه (Nizamia Observatory, Hyderabad) حیدرآباد میں تعمیر ہوئی تھی۔18 1908ء میں نظام حیدرآباد نے اس کی سر پرستی کی اور 15 اینچ ریفر یکٹر (refractor "15) سے ستاروں کے نقشے تیار کیے گئے۔اس کے بعد 8 انچ ایسٹر و گراف ( astrograph "8 ) سے 800,000 ستاروں کی 12 کیٹلاگ شائع کئے گئے۔اس کے ڈائر یکٹر بھش کرن نے یہاں 15 انچ گرب ٹیلی سکوپ (Grubb Telescope "15) لگوایا۔کچھ عرصے بعد ہی یہ رصد گاہ عثمانیہ یونیورسٹی کے زیر اہتمام آگئی۔1944ء میں اکبر علی اس کے ڈائیریکٹر بنے ، 1968ء میں یہاں 48 انچ ٹیلی اسکوپ (telescope "48) نصب کی گئی۔اضطرلاب ایرانی عالم نصیر الدین الطوسی نے اصطرلاب بنانے کے موضوع پر ایک رسالہ بست باب در اصطرلاب کے نام سے قلم بند کیا تھا۔یہ کتاب ہندوستان میں مسلمانوں کے زیر مطالعہ رہی۔ہندوستان کے سائنسی حلقوں میں بہاء الدین العاملی کا بھی بہت اثر تھا۔1437ء میں سمرقند میں تیمور لنگ کے پوتے سلطان الغ بیگ (1449-1393ء) کے حکم پر ایک عالی شان رصد گاہ تعمیر کی گئی تھی ( روسی ماہرین آثار قدیمہ نے اس کے آثار 1900ء میں کھدائی کر کے نکالے تھے )۔1447ء میں اس نے دنیا کے مانے ہوئے ہئیت دانوں اور چوٹی کے عالموں کو اکٹھا کیا اور ان کو یہ پراجیکٹ سونپا کہ وہ ہیت کی جدو لیس (astronomical tables ) تیار کریں۔جس کا نتیجہ زیج جدید سلطانی کی صورت میں نکلا۔روشن خیال شہنشاہ جلال الدین محمد اکبر کے حکم پر اس زیج کا سنسکرت میں ترجمہ کیا گیا۔مغلیہ عہد کے مشہور سول انجنئیر نجم الدین نے بھی دہلی میں سلطان محمد شاہ کے دور حکومت (48-1719ء) میں ایک رصد گاہ تعمیر کی تھی۔[67] شہنشاہ اکبر کے دور حکومت میں ایک عالم مرزا خاں نے موسیقی پر کتاب تحفتہ الہند تصنیف کی۔شہنشاہ ہمایوں نے اپنے آبا و اجداد کی علمی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے اصطرلاب بنانے کے نئے ماڈل تیار کر وائے۔مغل شہنشاہ شاہجہاں کے نہایت ممتاز ہئیت داں فرید الدین مسعود دہلوی (1629ء) نے الغ بیگ کی تیار کردہ زیج کو بنیاد بنا کر زیج شاہجہانی اکتوبر 1629ء میں شاہجہاں کو پیش کی۔اس نے 1597ء میں ایک کتاب " صراط استخراج تصنیف کی جو علم ہدایت پر جامع اور مبسوط کتاب تھی۔