چودھویں اور پندرھویں صدی ہجری کا سنگم — Page 64
64 نزول مسیح اور ارشادات نبویہ علی -4 حسب فیصلہ قرآنی وَحَرَامٌ عَلَى قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَاهَا أَنَّهُمْ لَا يَرْجِعُونَ (الانبياء: 96) فوت شده واپس نہیں آتے ، امام بخاری مثیل مسیح ابن مریم کے امت محمدیہ میں سے امام ہو کر آنے کی حدیث لائے ہیں۔ملاحظہ ہو :۔عکس حوالہ نمبر : 14 arr ار کتاب الانبار / باب : حضرت عیسی بن مریم علیہ السلام کے اترنے کا بیان / حدیث : (۳۲۱۸) ان سَعِيدَ بنَ المُسَيْبِ سَمِعَ آبَاهُرَيْرَةَ قَالَ قالَ رسولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَيُوهِكُنَّ أَنْ يَنزِلَ فِيْكُمُ ابْنُ مَرْيَمَ حَكَمًا عَدْلاً فَيَكْسِرُ ويقتل الخنزير ويَضَعُ الحَرْبَ وَيُقِيضُ المال حتى لا يقبله أحد حتى تكون السجدة الوَاحِدَةُ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا ثم يقولُ ابُو هُرَيْرَةَ وَاقْرَوا إِنْ شِبْتُمْ وَإِنْ مِنْ أَهْلِ الكِتَابِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبلَ مَوْتِهِ وَيَومَ القِيَامَةِ يَكُونُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا۔ترجمہ حضرت ابو ہریرہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے وہ زمانہ قریب ہے کہ عیسی بن مریم علیہا السلام تمہارے درمیان ایک عادل حاکم کی حیثیت سے نزول فرمائیں گے اور صلیب کو توڑ دیں گے، خنزیر (سور) کو مارڈالیں گے اور جزیہ قبول نہیں کریں گے (اسلام قبول کرو ورنہ بل) اس وقت مال کھیل پڑے گا (یعنی مال و دولت کی اتنی کثرت ہوگی ) کہ کوئی لینے والا نہیں ملے گا اور ایک سجدہ دنیا و مافیہا سے بہتر ہوگا پھر ابو ہریرہ ( اس روایت کو بیان کر کے ) کہتے تھے اگر تم چاہو تو ( سورہ نسار کی ) یہ آیت پڑھو "وان من اهل الكتاب" الآیہ اور کوئی اہل کتاب ایسا نہیں ہوگا جو عیسی علیہ السلام کی وفات سے پہلے ایمان نہ لائے۔یا یہ مطلب ہے کہ کوئی اہل کتاب ایسا نہیں ہوگا جو مرنے سے پہلے حضرت عیسی پر ایمان نہ لائے، اور قیامت کے دن میستی ان پر گواہی دیں گے۔مطابقته للترجمة مطابقة الحديث للترجمة ظاهرة۔تعد موضع و الحديث هنا ص ٣٩٠، ومرّ الحديث ص ۲۹۶ ، دس ۳۳۶، مسلم اول من ۸۷ اس آیت سے معلوم ہوا کہ بیٹی آسمان پر زندہ موجود ہیں کیونکہ آیت کریمہ ہے: "وَإِنْ مِنْ أَهْلِ الكِتابِ إِلَّا تشریح ليؤمنن به قبل موته" یعنی یہود و نصاری عیسی علیہ السلام کی وفات سے پہلے ٹیسٹی پر ایمان لا ئینگے ان۔مفصل تشریح مع اشکال و جواب کیلئے مطالعہ کیجئے نصر اسم ص ۷۹۔۳۲۱۸ و حَدَّثَنَا ابْنُ بُكَيْرٍ حَقَنَا اللَّيْثُ عن يُونُسَ عن ابن شهاب عن نافع مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ الأَنْصَارِيِّ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ قالَ رسولُ الله صلى الله عليه وسلم كَيْفَ أَنتُمْ إِذَا نَزَلَ ابنُ مَرْيَمَ فِيكُمْ وَإِمَامُكُمْ مِنْكُمْ تَابَعَهُ عُقَيْلٌ وَالْأَوْزَاعِى۔ترجمہ حضرت ابو ہریرہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تمہارا اس وقت کیا حال ہوگا جب مریم کے بیٹے (حضرت عیسی علیہ السلام) تم میں اتریں گے اور تمہارا امام تم ہی سے (یعنی تمہاری قوم میں سے ) ہوگا۔اس حدیث کی متابعت عقیل اور اوزاعی نے بھی کی۔مطابقته للترجمة | مطابقة الحديث للترجمة ظاهرة۔تعد موضعه و الحديث هنا ص ۴۹۰ مسلم کتاب الایمان ص ۸۷ نهر الباري