چودھویں اور پندرھویں صدی ہجری کا سنگم

by Other Authors

Page 202 of 296

چودھویں اور پندرھویں صدی ہجری کا سنگم — Page 202

202 علامات مسیح و مہدی اور چودھویں صدی دنیا میں پر چار کیا جائے گا۔جیسا کہ چودہویں صدی میں اس علامت کا پورا ہونا کسی پر مخفی نہیں۔بقول الطاف حسین حالی وہ دین ہوئی بزمِ جہاں، جس سے چراغاں آج اُس کی مجالس میں نہ بنتی نہ دیا ہے فریاد ہے اے کشتی ءِ اُمت کے نگہباں بیڑا یہ تباہی کے قریب آن لگا ہے ب۔اس آیت کے دوسرے معنے صحابہ رسول حضرت ابو ہریرہ کا اور حضرت ابن عباس نے سورج کے ساتھ چاند کی روشنی کے بھی کمزور پڑ جانے یا نور کے جاتے رہنے کے لئے ہیں یعنی اس وقت بطور نشان سورج اور چاند کو گرہن ہوگا۔حضرت ابی بن کعب نے تو واضح طور پر اس پیشگوئی کو قیامت سے قبل کا نشان قرار دیتے ہوئے بتایا کہ لوگ بازار میں ہونگے اور سورج کی روشنی جاتی رہے گی۔سورۃ القیامۃ آیت (10-8) میں بھی اس نشان کی طرف اشارہ ہے۔اس لحاظ سے یہاں سورج اور چاند کے اس گرہن کی طرف بھی اشارہ ہے۔جس کی خبر رسول اللہ ﷺ نے بھی اپنے مہدی کے دو نشانات کے طور پر رمضان کے مہینہ کی خاص تاریخوں میں واقع ہونے کی دی۔یہ دونوں نشان چودھویں صدی میں حضرت بانی جماعت احمدیہ کے دعوی مسیح و مہدی کے بعد 13 رمضان 1311ھ بمطابق 21 مارچ 1894ء اور 28 رمضان مطابق 16اپریل کو آسمان پر ظاہر ہو کر آپ کی صداقت کے گواہ بنے۔دوسری علامت ستاروں کا ٹوٹنا: دوسری نشانی بیان کرتے ہوئے فرمایا: وَإِذَا النُّجُومُ الكَدَرَتْ (اللور: 3) اور جب ستارے ماند پڑ جائیں گے۔صلى اللهم الف۔ستاروں سے مراد علمائے دین ہیں اسی لئے رسول کریم علیہ نے اپنے صحابہ کو روشن ستاروں کی طرح قرار دیا ( مشکوۃ کتاب المناقب باب مناقب الصحابہ الفصل الثالث) النجوم میں ”ال معرفہ کے لیے ہے۔اس میں یہ پیشگوئی تھی کہ جس زمانے میں علمائے دین کے ایک خاص گروہ میں تقویٰ اور روحانیت نہیں رہے گی ، وہی وقت مسیح اور مہدی کے ظہور کا ہو گا۔فسادزمانہ کے ایسے ہی وقت میں کسی