چودھویں اور پندرھویں صدی ہجری کا سنگم — Page 203
203 علامات مسیح و مہدی اور چودھویں صدی مصلح یا خدائی مامور کی ضرورت ہوتی ہے۔علامہ نواب نورالحسن نے چودہویں صدی میں ان علامات کے پورا ہونے کی گواہی دی کہ اس امت کے علماء آسمان کے نیچے بدتر ہو چکے ہیں۔( اقتراب الساعۃ مصنفہ نواب نورالحسن خان 1309ھ ،صفحہ 12 مطبع مفید علم الکائنہ گرہ) ب مفسرین علماء نے انکدرت کے دوسرے معنے ستاروں کے ٹوٹ کر گرنے کے بھی کیے ہیں۔اس لحاظ سے بھی یہ قیامت سے قبل مسیح موعود کی ایک نشانی ہے۔چنانچہ حضرت بانی جماعت احمدیہ کے زمانہ میں شہاب ثاقب کثرت سے گرنے کا یہ نشان 28 نومبر 1885ء میں بطور ارہاص ظاہر ہوا ، جس کا ایک دنیا نے مشاہدہ کر کے گواہی دی۔اس قسم کے meteor storm کو علم فلکیات کی اصطلاح میں Andromedids کہا جاتا ہے۔یہ ایک دمدار ستارے(comet) کے پیچھے چھوڑے ذرات کے زمین کی فضا سے ٹکرانے سے پیدا ہوتے اور نہایت روشن شہاب ثاقب نظر آتے ہیں جسے ستاروں کے ٹوٹنے سے موسوم کیا جاتا ہے۔یوں تو تاریخ میں Andromedid قسم کے Meteor Storm کئی مرتبہ آئے جن میں ایک گھنٹے میں صرف سود و سوشہاب ثاقب گرتے ہوئے دکھائی دیئے۔مگر چودھویں صدی میں سال 1885ء میں ایک اندازہ کے مطابق ایک گھنٹہ میں 75 ہزار شہاب ثاقبہ گرتے ہوئے دکھائی دے رہے تھے جو ایک حیرت انگیز نشان تھا۔1882ء میں حضرت بانی جماعت احمدیہ کے الہام ماموریت کے ساتھ آپ کو رمی شہاب کی پیشگی خبر دی گئی اور 1885ء میں یہ نشان ظاہر ہوا اور آپ نے وضاحت فرمائی: کہ جس زمانہ میں یہ واقعات کثرت سے ہوں اور خارق عادت طور پر ان کی کثرت پائی جائے تو کوئی مرد خدا دنیا میں خدا تعالیٰ کی طرف سے اصلاح خلق اللہ کے لئے آتا ہے کبھی یہ واقعات ارہاص کے طور پر اس کے وجود سے چند سال پہلے ظہور میں آجاتے ہیں اور کبھی عین ظہور کے وقت جلوہ نما ہوتے ہیں اور کبھی اس کی کسی اعلی فتح یابی کے وقت یہ خوشی کی روشنی آسمان پر ہوتی ہے۔“ ( آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 107-108 حاشیہ ایڈیشن 2008)