چودھویں اور پندرھویں صدی ہجری کا سنگم

by Other Authors

Page 50 of 296

چودھویں اور پندرھویں صدی ہجری کا سنگم — Page 50

50 قرآن کریم میں زمانہ ظہور مہدی ومسیح کی خبر مندرجہ بالا آیت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ مہدی کا ظہور ایسے زمانہ میں ہو گا جب اسلام کمزور اور مغلوب ہوگا اور وہ آکر سارے دینوں پر اسے غالب کرے گا۔اس لحاظ سے اسلام کی کمزوری کا زمانہ بھی یہی چودھویں صدی ہے۔رَسُولَهُ بِالْهُدى (صاحب ہدایت رسول ) کے الفاظ میں بھی ” مہدی“ کی طرف اشارہ ہے جس کے معنی ہدایت یافتہ کے ہیں۔حضرت بانی جماعت احمدیہ فرماتے ہیں:۔سلسلہ کے آخری خلیفہ مجدد کو چودھویں صدی کے سر پر ظاہر کرنا تکمیل نور کی طرف اشارہ ہے کیونکہ مسیح موعود اسلام کے قمر کا متمم نور ہے اس لئے اس کی تجدید چاند کی چودھویں رات سے مشابہت رکھتی ہے اسی کی طرف اشارہ ہے اس آیت میں کہ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّہ کیونکہ اظہار تام اور تمام نورا ایک ہی چیز ہے۔اور یہ قول کہ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الاديان كُلَّ الأَظْهَارِ مساوی اس قول سے ہے کہ لِيُتِمَّ نُورَهُ كُلَّ الْإِثْمَامِ اور پھر دوسری آیت میں اس کی اور بھی تصریح ہے اور وہ یہ ہے : يُرِيدُونَ لِيُطْفِئُوا نُورَ اللَّهِ بِأَفْوَاهِهِمْ وَاللَّهُ مُتِمُّ نُورِهِ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ (الصف 9) اس آیت میں تصریح سے سمجھایا گیا ہے کہ مسیح موعود چودھویں صدی میں پیدا ہو گا۔کیونکہ اتمام نور کے لئے چودھویں رات مقرر ہے۔“ (تحفہ گولڑو یہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 124 ایڈیشن 2008) نیز فرمایا:۔یہ آیت که هُوَ الَّذِى أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ (الصف 10) در حقیقت اسی مسیح ابن مریم کے زمانہ سے متعلق ہے کیونکہ تمام ادیان پر روحانی غلبہ بنجر اس زمانہ کے کسی اور زمانہ میں ہرگز ممکن نہیں تھا۔“ (ازالہ اوہام حصہ دوم روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 464 ایڈیشن 2008)