چودھویں اور پندرھویں صدی ہجری کا سنگم — Page 28
28 قرآن کریم میں زمانہ ظہور مہدی ومسیح کی خبر 4 چوتھی آیت: وَعَدَ اللَّهُ الَّذِيْنَ آمَنُوا مِنكُمْ وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُم فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ ، وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِيْنَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُم مِّنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنَا ، يَعْبُدُونَنِي لَا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا، وَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذَلِكَ فَأُوْلَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ(النور: 56) یعنی تم میں سے جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال بجالائے اُن سے اللہ نے پختہ وعدہ کیا ہے کہ انہیں ضرور زمین میں خلیفہ بنائے گا جیسا کہ اُس نے اُن سے پہلے لوگوں کو خلیفہ بنایا اور اُن کے لئے اُن کے دین کو، جو اُس نے اُن کے لئے پسند کیا ، ضرور تمکنت عطا کرے گا اور اُن کی خوف کی حالت کے بعد ضرور انہیں امن کی حالت میں بدل دے گا وہ میری عبادت کریں گے میرے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے اور جو اُس کے بعد بھی ناشکری کرے تو یہی وہ لوگ ہیں جو نا فرمان ہیں۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے امت مسلمہ سے وعدہ فرمایا ہے کہ وہ ان میں اسی طرح روحانی خلیفے مقرر فرمائے گا جس طرح اس نے ان سے پہلے لوگوں میں خلیفے مقرر فرمائے تھے۔قرآن شریف کے مطابق پہلی قوموں میں اللہ تعالیٰ کے نبی حضرت آدم اور حضرت داؤڈ بھی خلیفہ ہوئے۔وہ روئے زمین پر خدا تعالیٰ کے جانشین تھے اس لئے خلیفہ اللہ کہلائے۔پھر بنی اسرائیل میں بھی خلافت کا سلسلہ جاری رہا جیسا کہ حدیث نبوی ہے کہ بنی اسرائیل کی اصلاح احوال انبیاء کرتے رہے۔ان میں جب بھی کوئی نبی فوت ہوا اس کا خلیفہ اور جانشین نبی ہوا، مگر میرے معا بعد نبی نہیں ہوگا بلکہ خلیفے ہوں گے۔( بخاری کتاب الانبیاء باب ما ذکر عن بنی اسرائیل ) پس جس طرح بنی اسرائیل میں حضرت موسی کے معا بعد حضرت یوشع بن نون کے ذریعہ خلافت قائم ہوئی اور ان کے بعد کئی نبی اور رسول ان کے جانشین ہوئے۔سورۃ النور کی آیت استخلاف کے مطابق اللہ تعالیٰ نے رسول کریم ﷺ کے بعد اس مشابہت کا وعدہ پورا کر کے حضرت ابوبکر کے ذریعہ خلافت کا سلسلہ شروع فرمایا جو رسول اللہ کی پیشگوئی کے مطابق خلافت راشدہ کے تمھیں سالہ عظیم الشان دور کی صورت میں پورا ہوا۔پھر جب رسول اللہ کی دوسری پیشگوئی کے مطابق خلافت ملوکیت میں بدل گئی تو روحانی خلافت مجد دین کی صورت میں جاری رہی۔