چودھویں اور پندرھویں صدی ہجری کا سنگم — Page 27
و 1 27 حضرت بانی جماعت احمدیہ فرماتے ہیں:۔قرآن کریم میں زمانہ ظہور مہدی ومسیح کی خبر " وہ مسیح موعود چودھویں صدی کے سر پر آیا اور جیسا کہ وَآخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِھم کے عدد سے 1275 نکلتے ہیں اسی زمانہ میں وہ اصلاح خلق کے لئے طیار کیا گیا۔" خ یان شہادت القرآن روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 375 ایڈیشن 2008) وَآخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمُ کے اعداد بحساب جمل : ن عالم ا ی ل ح ق 6 40 30 40 550 40 50 10 200 6001 6 100 8 30 101 T , 2 1 م میزان 1275 40 5 1275ھ کا عیسوی سال 1859ء بنتا ہے۔حضرت خلیفۃ اسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:۔حضرت مسیح موعود نے آیت وَآخَرِينَ مِنْهُمُ (الجمعة: 4) کے حوالہ سے ایک اور نکتہ بیان فرمایا ہے کہ اس کے اعداد 1275 بنتے ہیں۔۔۔اور فرمایا ہے کہ یہی وہ سال بنتے ہیں جب میں روحانی لحاظ سے اپنی بلوغت کی عمر کو تھا اور اللہ تعالیٰ مجھے تیار کر رہا تھا۔“ ( خطبہ جمعہ 3 فروری 2006) حضرت بانی جماعت احمدیہ کو اس زمانہ میں رسول کریم کی زیارت ہوئی۔آنحضور نے آپ کے ہاتھ میں آپ کی ایک کتاب دیکھ کر اس کا نام پوچھا تو آپ نے قطبی نام بتایا۔۔۔تب حضرت بانی جماعت احمدیہ کے دل میں ڈالا گیا کہ دروازے کی چوکھٹ کے پاس ایک مردہ ہے جس کا زندہ ہونا اللہ تعالیٰ نے اس پھل کے ذریعہ مقدر کیا ہے۔پھر اچانک وہ مردہ زندہ ہو کر حضرت مرزا صاحب کے پاس آیا اور آپ نے اس پھل کی ایک قاش اسے دی جس پر آنحضرت ﷺ کی کرسی بہت اونچی ہوگئی۔( ملخص از براہین احمدیہ حصہ سوم ر- خ جلد 1 صفحه 274 تا275 حاشیہ در حاشیہ نمبر 1۔آئینہ کمالات اسلام ر- خ جلد 5 صفحہ 549-548) اس رویا میں رسول اللہ کے فیضان کی برکت سے آپ کے ذریعہ اسلام کی ترقی کی طرف اشارہ تھا۔مرتب " تذکرہ" کے مطابق یہ واقعہ 1864ء سے کئی سال پہلے قریباً 60-1859 کا ہے جب حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام کی عمر 25-24 برس تھی۔